سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر امان اللہ کنرانی کو 'برطرف' کردیا گیا

اپ ڈیٹ 17 ستمبر 2019

ای میل

امان اللہ کنرانی اکتوبر 2018 میں سپریم کورٹ بار کے صدر منتخب ہوئے تھے—فوٹو:بشکریہ این ڈی یو ڈاٹ کام
امان اللہ کنرانی اکتوبر 2018 میں سپریم کورٹ بار کے صدر منتخب ہوئے تھے—فوٹو:بشکریہ این ڈی یو ڈاٹ کام

سپریم کورٹ بارایسوسی ایشن نے ایک قرار داد کے ذریعے بار کے صدر امان اللہ کنرانی کو عہدے سے برطرف کر دیا اور بقیہ مدت کے لیے سنیئر نائب صدر کو ذمہ داریاں سونپ دی گئیں۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق بار کی جنرل باڈی کا اجلاس ہوا جس میں صدر سپریم کورٹ بار امان اللہ کنرانی کے خلاف خورد برد کے الزام پر قرار داد منظور کی گئی اور 'عدم اعتماد کا اظہار کیا گیا'۔

قرار داد میں کہا گیا ہے کہ 'یہ اجلاس امان اللہ کنرانی کی جانب سے خصوصی جنرل اجلاس میں ایجنڈا جاری کرنے کے باوجود عدم شرکت پر متفقہ طور پر عدم اعتماد کا اظہار کرتا ہے'۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے اجلاس کے حوالے سے بیان میں کہا گیا کہ امان اللہ کنرانی کی جانب سے ہاسٹل کی 85 لاکھ سے زائد کی رقم کا جواب نہ دینے پر قرارداد منظور کی گئی ہے۔

مزید پڑھیں:امان اللہ کنرانی سپریم کورٹ بار کے صدر منتخب، علی احمد کرد کو شکست

جنرل باڈی اجلاس میں صدر سپریم کورٹ بار امان اللہ کنرانی کا معاملہ قومی احتساب بیورو (نیب) اور ایف آ ئی اے میں بھی بھجوانے کی منظوری دی گئی۔

قرار داد کے مطابق 'امان اللہ کنرانی ہاسٹل کی 85 لاکھ سے زائد کی رقم بار کے اکاونٹ میں جمع کروانے میں ناکام رہے'۔

سیکرٹری سپریم کورٹ بار عظمت اللہ چوہدری کی جانب سے خورد برد کے الزام پر تھانہ سیکرٹریٹ اسلام آباد میں تحقیقات کے لیے درخواست بھی دے دی گئی۔

جنرل باڈی اجلاس میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سینئر نائب صدر کو قواعد کے مطابق موجودہ مدت کے اختتام تک صدر کی حیثیت سے کام کرنے کا اختیار دے دیا گیا اور امان اللہ کنرانی کے اس کردار کی مذمت کی گئی اور کہا گیا ہے کہ اس عمل سے بار کی بدنامی ہوئی ہے۔

اجلاس میں سپریم کورٹ بار کے سربراہ کے حوالے سے مزید قرار دادیں بھی منظور کرلیں۔

قرار داد میں کہا گیا کہ 'امان اللہ کنرانی سے یکم مئی 2019 سے اب تک بار کے ہوسٹل کا ماہانہ کرایہ وصول کیا جائے جو سپریم کورٹ بار کے اکاؤنٹ سے ادا کیا گیا ہے اس کے علاوہ ملازمین اور یوٹیلٹی بلز بھی وصول کیے جائیں'۔

یہ بھی پڑھیں:سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے صدارتی ریفرنس چیلنج کردیا

یاد رہے کہ امان اللہ کنرانی اکتوبر 2018 میں سخت مقابلے کے بعد بار کے صدر منتخب ہوگئے تھے۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے انتخابات میں آزاد گروپ کے عاصمہ جہانگیر پینل کے امیدوار علی احمد کرد اور پروفیشنل گروپ کے حامد خان پینل کے امان اللہ کنرانی کے درمیان کانٹے دار مقابلہ ہوا تھا جہاں کنرانی نے ایک ہزار 92 ووٹ حاصل کیے تھے اور علی احمد کرد کو 950 ووٹ ملے تھے۔

امان اللہ کنرانی نے حال ہی میں سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس کے معاملے پر سخت موقف اپنایا تھا اور میڈیا میں بیانات دیتے رہے تھے۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے جسٹس قاضی فائز عیسٰی کے خلاف صدارتی ریفرنس کو چیلنج کر دیا تھا، درخواست میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف 2 ریفرنس کی مزید سماعت روکنے اور سپریم جوڈیشل کونسل کی تحقیقات کے طریقہ کار میں تبدیلی کا بھی مطالبہ کیا گیا تھا تاکہ کونسل کی کارروائی میں شفافیت کو یقینی بنایا جاسکے۔