سابق کرنل کی گمشدگی: ’حکومت حبیب ظاہر کی واپسی تک سکون کا سانس نہیں لےگی‘

اپ ڈیٹ 18 ستمبر 2019

ای میل

محمد فیصل نے کہا کہ بھارت کو سابق کرنل کی تلاش کیلئے متعدد مرتبہ مراسلہ لکھا لیکن کوئی جواب نہیں ملا—فائل فوٹو
محمد فیصل نے کہا کہ بھارت کو سابق کرنل کی تلاش کیلئے متعدد مرتبہ مراسلہ لکھا لیکن کوئی جواب نہیں ملا—فائل فوٹو

دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا ہے کہ لیفٹیننٹ کرنل (ر) حبیب ظاہر سے متعلق ’بھارت میں قید ہونے کی افواہوں‘ پر مشتمل خبریں دیکھی ہیں تاہم حکومت حبیب ظاہر کی واپسی تک سکون کا سانس نہیں لے گی۔

واضح رہے کہ اپریل 2017 میں پاک فوج کے سابق لیفٹیننٹ کرنل محمد حبیب ظاہر نیپال سے لاپتہ ہوگئے تھے جس کی دفتر خارجہ نے بھی تصدیق کی تھی۔

مزیدپڑھیں: پاک فوج کے ریٹائرڈ لیفٹیننٹ کرنل نیپال میں ’لاپتہ‘

کرنل حبیب 6 اپریل سے نیپال کے ضلع روپان دیہی میں واقع بدھ مت کے پیروکاروں کے مقدس ترین مقام لمبینی سے لاپتہ ہوئے تھے۔

اس ضمن میں وزرات ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ حکومت لیفٹیننٹ کرنل (ر) حبیب ظاہر کو تلاش کرنے کی ہر ممکن کوشش کررہی ہے اور جب تک حبیب ظاہر گھر نہیں آ جاتے، اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے اپنے جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ بھارتی میڈیا کرنل (ر) حبیب ظاہر کے زیر حراست جاسوس کمانڈر کلبھوشن سے تبادلے کی افواہیں پھیلا رہا ہے جبکہ کرنل (ر) حبیب ظاہر 2017 میں روزگار کے لیے نیپال گئے اور لاپتہ ہو گئے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ لیفٹیننٹ کرنل (ر) حبیب ظاہر کو انٹرویو کے لیے نیپال بلایا گیا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ وہ بھارتی سرحد سے محض 5 کلومیٹر دور سے لاپتہ ہوئے اور انہیں بھارتی شہری ہوائی اڈے سے لے کر گئے۔

یہ بھی پڑھیں: سابق کرنل کی گمشدگی:'غیر ملکی ایجنسیوں کا کردار نظرانداز نہیں کیا جاسکتا'

ڈاکٹر محمد فیصل کا کہنا تھا کہ ایک بھارتی نے ہی ہوٹل میں بکنگ کرائی۔

انہوں نے بتایا کہ لیفٹیننٹ کرنل (ر) حبیب ظاہر کی تلاش سے متعلق بھارتی حکام کو متعدد مرتبہ درخواست دی تاہم ان کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ لیفٹیننٹ کرنل (ر) حبیب ظاہر کا خاندان شدید کرب میں مبتلا ہے اور متاثرہ خاندان نے اقوام متحدہ جنیوا دفتر سے بھی رابطہ کیا۔

دفتر خارجہ نے کہا کہ لیفٹننٹ کرنل (ر) حبیب ظاہر کی گمشدگی میں دشمن خفیہ ایجنسیاں ملوث ہو سکتی ہیں۔

لیفٹینینٹ کرنل ریٹائرڈ حبیب ظاہر کے معاملے میں بھارتی کردار

واضح رہے کہ ڈان نیوز کی رپورٹ کے مطابق کرنل (ر)حبیب کے لیے ایئر ٹکٹ، ہوٹل بکنگ اور لمبینی ائیرپورٹ پر ملاقات کرنے والے تینوں افراد بھارتی شہری تھے۔

رپورٹس کے مطابق سفل چوہدری نامی بھارتی شہری نے کرنل ریٹائرڈ حبیب ظاہر کیلئے کٹھمنڈو سے ٹکٹ خریدا، سفل چوہدری کا موبائل نمبر 9804815702 ہے جس کے ذریعے وہ کرنل (ر) حبیب کے ساتھ رابطے میں رہا۔

رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ حبیب ظاہر کے لیے ٹکٹ پریشئس ٹریول اینڈ ٹورز کٹھمنڈو سے ٹکٹ خریدا گیا۔

مزیدپڑھیں: پاک فوج کے سابق کرنل کی نیپال میں پراسرار گمشدگی

اس کے علاوہ صابو راجورا نامی خاتون نے حیات ریجنسی میں کرنل (ر)حبیب کے لیے بکنگ کرائی، صابو کٹھمنڈو میں ایک کمپنی میں مارکیٹنگ مینجر کے طور پر کام کرتی تھی۔

ڈولی رینچل نامی بھارتی شہری نے لمبینی ایئرپورٹ پر کرنل (ر) حبیب ظاہر ریسیو کیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق رینچل نیپال میں مقیم نہیں تھا اور وہ 4 اپریل کو لمبینی پہنچا تھا۔

حبیب ظاہر کی گمشدگی کے معاملے پر دفتر خارجہ پہلے ہی کہہ چکا ہے کہ اس میں غیر ملکی خفیہ ایجنسیوں کے ملوث ہونے کے امکان کو رد نہیں کیا جاسکتا۔