وفاقی حکومت کو زرعی ٹیکس وصول کرنا چاہیے، فروغ نسیم

اپ ڈیٹ 23 ستمبر 2019

ای میل

وفاقی حکومت کو زراعت پر ٹیکس لینا چاہیے کیونکہ اس شعبے میں بہت زیادہ معاشی سرگرمیاں ہوتی ہیں — فائل فوٹو: اے پی پی
وفاقی حکومت کو زراعت پر ٹیکس لینا چاہیے کیونکہ اس شعبے میں بہت زیادہ معاشی سرگرمیاں ہوتی ہیں — فائل فوٹو: اے پی پی

کراچی: وفاقی وزیر قانون اور انصاف ڈاکٹر فروغ نسیم کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت کو زرعی ٹیکس لینا چاہیے کیونکہ اس شعبے میں بہت زیادہ معاشی سرگرمیاں ہوتی ہیں۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق پاکستان ٹیکس بار ایسوسی ایشن (پی ٹی بی اے) کے سالانہ عشائیہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 77 کے تحت قانون کے مطابق ٹیکس لیا جاسکتا ہے تاہم آئین کی 18ویں ترمیم کے بعد یہ صوبائی معاملہ بن گیا ہے۔

تاہم ڈاکٹر فروغ نسیم نے کہا کہ قانون شفاف ہونا چاہیے، زراعت سے منسلک کاروبار کا حجم بہت بڑا ہے، ملک کی 80 فیصد معاشی سرگرمیاں اس پر ہوتی ہیں تو وفاقی حکومت اگر زراعت سے ٹیکس اکٹھا کرے تو اس میں غلط کیا ہے۔

مزید پڑھیں: وفاقی بجٹ: زراعت کے لیے 280 ارب روپے کے 5 سالہ پروگرام کا آغاز

آرٹیکل 149 کے بیان پر حالیہ تنازع کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر قانون کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے جب بھی آئین کا آرٹیکل زیر بحث آتا ہے تو چیخ و پکار مچ جاتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 'آرٹیکل کے بارے میں میرے بیان پر فوری رد عمل یہ آیا کہ یہ صوبہ سندھ کو تقسیم کرنے کے لیے کیا جارہا ہے جبکہ حقیقت تو یہ ہے کہ یہ لوگ ملک کے خزانے کو مزید لوٹنا چاہتے ہیں'۔

انہوں نے کہا کہ ' معیشت سے صرف 20 سے 25 فیصد ٹیکس اکٹھا کیا جاتا ہے لیکن دیہی پاکستان میں پیدا ہونے والی باقی 70 سے 80 فیصد کی سرگرمیوں کا کیا؟'۔

انہوں نے یہ بات انکم ٹیکس اپیل ٹریبونل کے قیام میں آنے والی دشواریوں کے حوالے سی کہی، جس کا ٹیسٹ فیڈرل پبلک سروس کمیشن نے سال 14-2013 میں منعقد کیا تھا تاہم اس کی تعیناتی رواں سال کے آغاز میں ہوئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستانی زراعت میں پہلی بار موبائل ٹیکنالوجی کا استعمال

ان کا کہنا تھا کہ فوری تعیناتی کا نظام مرتب کرنے کے لیے معاملہ وزیر اعظم عمران خان کے سامنے اٹھایا گیا ہے اور چیف جسٹس آف پاکستان آصف سعید کھوسہ سے بھی رہنمائی کے لیے خدمات لی جائیں گی۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ٹیکس ٹربیونل کے اکاؤنٹنٹس اور تکنیکی اراکین کی اسامیاں چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ، قابل ٹیکس پریکٹشنرزاور دیگر افراد سے بھری جاسکتی ہیں۔

انہوں نے ٹیکس بیس بڑھانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تھوڑے سے لوگوں پر ریونیو پیدا کرنے کی ذمہ دای پوری نہیں ڈالی جاسکتی۔

ان کا کہنا تھا کہ شبر زیدی کی جانب سے وفاقی بورڈ آف ریوینیو (ایف بی آر) کے انتظامات سنبھالنے کے بعد سے ادارے میں بہت سی تبدیلیاں آئی ہیں اور ٹیکس لینے والی ایجنسی سہولیات فراہم کرنے والا ادارہ بن گیا ہے۔

علاوہ ازیں پی ٹی بی اے کے صدر عبدالقادر میمن کے سوال کے جواب میں وزیر قانون کا کہنا تھا کہ ٹیکس ریٹرنز دائر کرنے کے لیے مناسب وقت دیا جانا چاہیے اور ایف بی آر کو کوئی بھی بڑا فیصلہ کرنے سے قبل تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کرنی چاہیے۔

اس موقع پر وزیر قانون ڈاکٹر فروغ نسیم نے امید ظاہر کی کہ ملک جلد اپنے مسائل پر قابو پالے گا۔