شمالی شام میں ترکی کے حملے، 14 شہری ہلاک

اپ ڈیٹ 18 اکتوبر 2019

ای میل

ایس ڈی ایف کا کہنا ہے کہ راس العین میں ترکی کی جانب سے فضائی و بری حملے اب بھی جاری ہیں۔ — رائٹرز
ایس ڈی ایف کا کہنا ہے کہ راس العین میں ترکی کی جانب سے فضائی و بری حملے اب بھی جاری ہیں۔ — رائٹرز

امریکا اور ترکی کے درمیان جنگ بندی معاہدے کے باوجود شمال مشرقی شام میں ترکی کی بمباری سے 14 شہری ہلاک ہوگئے۔

واضح رہے کہ امریکی کے نائب صدر مائیک پینس نے انقرہ میں ترک صدر رجب طیب اردوان سے بات چیت کے بعد معاہدے کا اعلان کیا تھا جس کے تحت 5 روز تک جنگ کو روکا جائے گا تاکہ کرد قیادت میں شامی ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) کے جنگجو علاقے کو خالی کردیں۔

استنبول میں ترک صدر رجب طیب اردوان نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 'اگر منگل کی رات تک وعدے پورے کردیے گئے تو محفوظ زون کا مسئلہ حل ہوجائے گا تاہم اگر وعدے پورے نہیں ہوئے تو 120 گھنٹون بعد آپریشن کا آغاز کردیا جائے گا'۔

جنگ کی معطلی ترکی کو بغیر لڑے اس کا اصل ہدف حاصل کرنے کے لیے کی گئی ہے تاہم شام میں ترکی کے پراکسی اب بھی کرد جنگجوؤں سے لڑنے میں مصروف ہیں۔

شامی مبصر برائے انسانی حقوق باب الخیر کا کہنا تھا کہ ترکی کے فضائی حملے اور اس کے اتحادی شامی جنگجوؤں کے مارٹر گولوں کی وجہ سے 14 شہری ہلاک ہوچکے ہیں۔

برطانیہ میں مقیم مبصر کا کہنا تھا کہ شامی ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) کے 8 جنگجو بھی حملوں میں ہلاک ہوئے ہیں۔

ایس ڈی ایف کے ترجمان مصطفیٰ بالی کا کہنا تھا کہ امریکی نائب صدر مائیک پینس کے دورہ انقرہ کے دوران ان کے ترکی سے ہوئے معاہدے کی ترکی خلاف ورزی کررہا ہے۔

مزید پڑھیں: ’ترکی اور کردوں کو ایک دوسرے کے ساتھ بچوں کی طرح لڑنا ہی تھا‘

انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ 'ترکی جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ہوئے علاقے پر گزشتہ رات سے حملے کر رہا ہے'۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز امریکی نائب صدر مائیک پینس کے ساتھ مذاکرات کے بعد ترکی نے سرحد کے ساتھ محفوظ علاقوں سے کردش اتحادی افواج کے انخلا کی صورت میں کارروائی معطل کرنے اور حملہ روکنے پر رضامندی کا اظہار کیا تھا۔

مائیک پینس کا کہنا تھا کہ ترکی کی جانب سے شام میں فوجی آپریشن کے خاتمے کے بعد امریکا اس پر عائد کی گئی حالیہ پابندیاں اٹھا لے گا۔

امریکی نائب صدر نے شام میں کرد فورسز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 'وائی پی جی فورسز کے انخلا کے بعد شام میں جب مستقل جنگ بندی ہوگی اس صورت میں امریکا، ترکی کے کئی کابینہ اراکین اور متعدد ایجنسیوں پر عائد پابندیاں ہٹانے کے لیے بھی تیار ہے۔'

یہ بھی پڑھیں: ترکی، امریکا شمال مشرقی شام میں جنگ بندی پر راضی ہوگئے، مائیک پینس

ان کا کہنا تھا کہ خطے میں امریکی فورسز نے پہلے ہی وائی پی جی یونٹس سے محفوظ خلاصی کے لیے سہولت فراہم کرنے کا آغاز کردیا ہے۔

ترکی کے جنگ بندی پر راضی ہونے کے فوری بعد سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹوئٹ کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ 'ترکی سے اچھی خبر آرہی ہے۔'

انہوں نے ترک ہم منصب رجب طیب اردوان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ 'فیصلے سے لاکھوں لوگوں کی جانیں بچ جائیں گی۔'

واضح رہے کہ نیٹو کے اتحادی ترکی اور امریکا کے درمیان یہ معاہدہ دونوں کے ممالک کے تعلقات کی بہتری میں اہم کردار ادا کرے گا، جو چند ماہ سے تناؤ کا شکار تھے۔

یاد رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے شام کے شمال مشرقی علاقوں سے امریکی افواج کا انخلا کر کے کردوں کے خلاف ایک ہفتے پر محیط حملے کو ہوا دی تھی۔

مذکورہ صورتحال امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ان کے وفادار ساتھیوں کی جانب سے بھی اس الزام کا سامنا کرنا پڑا تھا کہ ان کے ایک ہزار امریکی فوجیوں کو واپس بلانے کے فیصلہ کرد جنگجوؤں کو دھوکا دینا تھا جنہوں نے حالیہ سالوں میں داعش کے خلاف لڑائی میں گہرے زخم کھائے ہیں‘۔