طلبہ ہراسانی کیس: صوبائی اسمبلی کی کمیٹی نے تحقیقات کا آغاز کردیا

اپ ڈیٹ 24 اکتوبر 2019

ای میل

طالبات کو بلیک میل کرنے کا معاملہ گزشتہ ہفتے اسمبلی میں زیِر بحث آیا تھا —فائل اے پی پی
طالبات کو بلیک میل کرنے کا معاملہ گزشتہ ہفتے اسمبلی میں زیِر بحث آیا تھا —فائل اے پی پی

کوئٹہ: صوبائی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی نے بلوچستان یونیورسٹی میں طلبہ کو ہراساں اور بلیک میل کیے جانے کے اسکینڈل کی تحقیقات کا آغاز کردیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق رکنِ بلوچستان اسمبلی ماہ جبین شیریں کی سربراہی میں کمیٹی اس معاملے کا جائزہ لینے کے لیے بنائی گئی تھی۔

طلبہ کو بلیک میل کرنے کا معاملہ گزشتہ ہفتے اسمبلی میں زیِر بحث آیا تھا جس کے بعد اسپیکر اسمبلی عبدالقدوس بزنجو نے تحقیقات کمیٹی قائم کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: بلوچستان یونیورسٹی میں طلبہ کو ہراساں کرنے کے واقعات پر احتجاج

چنانچہ کمیٹی نے اپنے پہلے اجلاس میں اس بات کا فیصلہ کیا کہ معاملے کی تفصیلی تحقیقات کے بعد اسپیکر کی ہدایت کے مطابق 10 روز میں اس کی رپورٹ اسمبلی میں پیش کردی جائے گی۔

کمیٹی کے پہلے اجلاس میں میر اسد بلوچ، میر سلیم احمد کھوسہ، دنیش کمار، ثنا بلوچ، نصراللہ زیرے اور شکیلہ نوید داوڑ نے شرکت کی جبکہ دیگر اراکین غیر حاضر رہے۔

اجلاس میں کمیٹی کی سربراہ جبین شیراں کا کہنا تھا کہ کمیٹی جمعرات کو (آج) بلوچستان اسمبلی کا دورہ کرے گی اور قائم مقام وائس چانسلر اور طلبا سے ملاقات کرے گی۔

انہوں نے کمیٹی کو کینٹین، ہاسٹلز اور نگرانی کے کمرے کا بھی دورہ کرنے کی ہدایت کی اور آئندہ چند روز میں رپورٹ جمع کروانے کا حکم دیا۔

مزید پڑھیں: طلبہ ہراساں کیس: بلوچستان یونیورسٹی کے وائس چانسلر عہدے سے دستبردار

مذکورہ کمیٹی طلبہ اور طالبات دونوں سے بلیک میلنگ اور ہراسانی کی رپورٹس کے بارے میں انٹرویو کرے گی۔

دوسری جانب ویمن ایکشن فورم نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے معاملے کی شفاف تحقیقات اور اس میؓں ملوث افراد کو سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا۔

بلوچستان یونیورسٹی اسکینڈل

خیال رہے کہ 14 اکتوبر کو بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جمال مندوخیل نے بلوچستان یونیورسٹی کے ملازمین کی جانب سے طلبہ کو ہراساں کرنے کی شکایات پر ازخود نوٹس لیتے ہوئے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کو رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کی تھی۔

ایف آئی اے نے بلوچستان یونیورسٹی کے 3 افسران سے طلبہ کو ہراساں کیے جانے کے حوالے سے تفتیش کی تھی۔

جس کے بعد کیس کی کئی ہفتوں تک تفتیش کرنے والے ادارے ایف آئی اے نے طالبات کو ہراساں کرنے کی 12ویڈیوز کا انکشاف کیا تھا۔

مزید پڑھیں: بلوچستان یونیورسٹی میں طلبہ کو ہراساں کرنے کی شکایت، چیف جسٹس کا از خود نوٹس

ایف آئی اے کے سینئر افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا تھا کہ یونیورسٹی انتظامیہ کے افسران کے ہاتھوں ہراساں ہونے والے طلبہ میں اکثریت طالبات کی ہے۔

ایف آئی اے حکام کا کہنا تھا کہ ملزمان نے طالبات کو ہراساں کرنے کے لیے سی سی ٹی وی کیمروں کی موجودگی کے باوجود مزید 6 اضافی کیمرے نصب کیے تھے۔

مذکورہ رپورٹ منظر عام پر آنے کے بعد یونیورسٹی کے طالبعلموں میں سخت غم و غصہ پھیل گیا تھا اور متعدد طلبا تنظیموں کی سے عہدیداران پر دباؤ ڈالنے اور طلبا و طالبات کو پراساں کرنے میں ملوث افراد کو سزا دینے کے لیے کیمپس کے اندر احتجاج کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔

جس پر بلوچستان یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر جاوید اقبال عارضی طور پر عہدے سے دستبردار ہوگئے تھے تاکہ ایف آئی اے طالبات کو بلیک میل اور ہراساں کرنے سے متعلق اسکینڈل کی شفاف تحقیقات کرسکے۔