بھارت: 2 معذور اساتذہ پر نابینا طالبہ کے 'متعدد مرتبہ ریپ' کا الزام

اپ ڈیٹ 07 نومبر 2019

ای میل

پولیس کے مطابق واقعے کی رپورٹ درج ہونے کے بعد ملزمان فرار ہوگئے — فائل فوٹو: شٹر اسٹاک
پولیس کے مطابق واقعے کی رپورٹ درج ہونے کے بعد ملزمان فرار ہوگئے — فائل فوٹو: شٹر اسٹاک

بھارت کی ریاست گجرات میں بصارت سے محروم 2 اساتذہ پر کئی ماہ تک 15 سالہ معذور طالبہ کے ساتھ مبینہ طور پر ریپ کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔

ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق طالبہ، امباجی ٹاؤن میں ایک نجی ٹرسٹ کے تحت چلنے والے اسکول میں زیر تعلیم تھیں، جہاں لڑکی کو گزشتہ کئی ماہ کے دوران متعدد مرتبہ ریپ کا نشانہ بنایا گیا۔

گزشتہ ماہ دیوالی کے موقع پر متاثرہ طالبہ اسکول سے ضلع رادھن پور تلوکا کے گاؤں پریم نگر میں اپنی خالہ کے پاس گئیں تھیں اور تعطیلات ختم ہونے کے باوجود جب طالبہ نے اسکول جانے سے انکار کیا تو ان کے اہل خانہ کو تشویش ہوئی۔

جس پر اہل خانہ نے لڑکی سے اسکول نہ جانے کی وجہ پوچھی تو طالبہ نے گزشتہ کئی ماہ سے ان کے ساتھ ہونے والے ریپ کے واقعات سے اپنی خالہ کو آگاہ کیا۔

مزید پڑھیں: بھارت: خاتون کے 'گینگ ریپ' کی ویڈیو وائرل، ملزمان کے خلاف مقدمہ

بعد ازاں پولیس نے واقعے کے حوالے سے درج مقدمے میں دونوں اساتذہ کو نامزد کرلیا، ملزمان میں 62 سالہ چمن ٹھاکر اور 30 سالہ جیانتی ٹھاکر شامل ہیں اور دونوں ملزمان بھی بصارت سے محروم ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا گہ طالبہ آٹھویں جماعت کی طالبہ ہے اور موسیقی کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے انہوں نے رواں سال جولائی میں نجی ٹرسٹ کے تحت چلنے والے ادارے میں داخلہ لیا تھا، مذکورہ اسکول میں معذور طلبا کو مختلف قسم کے ہنر بھی سیکھائے جاتے ہیں۔

متاثرہ لڑکی مذکورہ اسکول کے ہاسٹل میں ہی قیام پذیر تھیں۔

4 نومبر کو متاثرہ لڑکی کی خالہ کی جانب سے درج کروائی گئی شکایت میں بتایا گیا کہ طالبہ کو پہلی مرتبہ دو ماہ قبل جیانتی ٹھاکر نامی استاد نے موسیقی کی کلاس میں ہی ریپ کا نشانہ بنایا تھا، جس کے بعد چمن نامی استاد نے اسی کلاس میں 3 روز بعد طالبہ کا مبینہ طور پر ریپ کیا۔

علاوہ ازیں جیانتی پر طالبہ کو ایک مرتبہ پھر ناوراتری فیسٹول سے ایک روز قبل بھی ریپ کرنے کا الزام لگایا گیا۔

طالبہ نے بتایا کہ انہوں نے اسکول کے دیگر 3 اساتذہ کو ریپ کے واقعے کے حوالے سے آگاہ کیا تھا جس کے بعد ان کے ساتھ ریپ کے واقعات نہیں ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت میں 35 سالہ شخص کا 3 روز تک کم عمر لڑکی کے ساتھ ریپ

پولیس انسپکٹر جے بی اگروات کا کہنا تھا کہ ‘ہم واقعے کی تحقیقات کررہے ہیں اور فرار ہونے والے دونوں اساتذہ کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں’۔

واضح رہے کہ پولیس کی جانب سے لڑکی کی شکایت پر دونوں اساتذہ کے خلاف رپورٹ درج کیے جانے کے بعد اسکول کی انتظامیہ نے اساتذہ کو نوکری سے نکال دیا تھا۔

یاد رہے کہ رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا کہ مذکورہ ادارہ 5 سال سے قائم ہے۔

اس سے قبل نومبر کے آغاز میں بھارت کی ریاست اتر پردیش میں 6 افراد نے ایک خاتون کے ساتھ مبینہ طور پر گینگ ریپ کیا تھا اور واقعے کی ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر شیئر کردی تھی۔

اگست 2019 میں بھارتی دارالحکومت نئی دہلی کے قریب ایک 15 سالہ لڑکی کو چند گھنٹوں کے وقفے سے 2 مرتبہ گینگ ریپ کا نشانہ بنانے کا واقعہ پیش آیا تھا۔

جون میں بھارت میں گینگ ریپ سے مزاحمت کرنے پر ماں، بیٹی کو تشدد کا نشانہ بنا کر ان کے سر مونڈھ دیے گئے تھے۔

واضح رہے کہ دنیا میں سب سے بڑی جمہوری ریاست کے دعویدار بھارت میں خواتین کا تحفظ تاحال ایک مسئلہ ہے جہاں 16 دسمبر 2012 کو نئی دہلی میں ایک طالبہ کو چلتی بس میں گینگ ریپ کا نشانہ بنایا گیا تھا اور وہ بعد ازاں کئی روز تک ہسپتال میں زیر علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی تھی۔

آبادی کے لحاظ سے دنیا کے دوسرے بڑے ملک بھارت میں ’ریپ‘ کیسز کی شرح کئی ممالک سے زیادہ ہے، صرف 2015 میں ہی ہندوستان بھر میں ’ریپ‘ کے 34 ہزار سے زائد واقعات رپورٹ کیے گئے تھے جبکہ درج نہ ہو پانے والے واقعات کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔