ایل ڈی اے ٹیم حملہ کیس:منشا بم، بیٹے انسداد دہشت گردی عدالت سے بری

اپ ڈیٹ 07 نومبر 2019

ای میل

عدالت نے گواہان کے بیانات قلم بند کرنے کے بعد فیصلہ سنایا — فائل فوٹو / ڈان نیوز
عدالت نے گواہان کے بیانات قلم بند کرنے کے بعد فیصلہ سنایا — فائل فوٹو / ڈان نیوز

لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے لاہور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے) کی ٹیم پر حملے کے کیس میں منشا بم اور ان کے بیٹوں کو بری کردیا۔

انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے ایل ڈی اے ٹیم پر حملہ کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے منشا بم اور ان کے بیٹوں کو مقدمے سے شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کر دیا۔

انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نمبر 4 کے جج عبدالقیوم خان نے مقدمے کے گواہان کے بیانات قلم بند کرنے کے بعد فیصلہ سنایا۔

ایل ڈی اے ٹیم پر حملہ کیس میں دو ملزمان منشا بم اور عاصم منشا عدالت میں پیش ہوئے۔

مزید پڑھیں: اراضی قبضہ کیس: منشا بم اور ان کے بیٹوں کی 7 مقدمات میں ضمانت منظور

واضح رہے کہ منشا بم اور ان کے تین بیٹوں پر لاہور کے قریب پی آئی اے روڈ پر 35 کنال اراضی پر قبضے الزام تھا۔

ایل ڈی اے نے الزام لگایا تھا کہ جب اس کی ٹیم قبضہ واگزار کرانے گئی تو منشا کھوکھر اور اس کے بیٹوں نے ٹیم پر حملہ کیا۔

اتھارٹی نے الزام لگایا تھا کہ ملزمان نے ایل ڈی اے آفس جوہر ٹاون آکر بھی خوف و ہراس پھیلایا اور ایل ڈی اے کے افسر کو اغوا کرنے کی بھی کوشش کی۔

مقدمے میں کُل 8 گواہان کے بیانات قلمبند ہوئے جبکہ ملزمان منشا کھوکھر اور ان کے تین بیٹوں کی جانب سے ان کے وکیل سید فرہاد علی شاہ نے دلائل دیے۔

عدالت نے ملزمان کے وکیل کے دلائل سے متفق ہوتے ہوئے اور شک کا فائدہ دیتے ہوئے تمام ملزمان کو بری کر دیا۔

منشا بم کا معاملہ

یاد رہے کہ منشا بم کا نام اس وقت خبروں کی زینت بنا تھا، جب ایک بیرون ملک مقیم پاکستانی نے سپریم کورٹ میں ایک درخواست دائر کی تھی، جس میں کہا گیا تھا کہ لاہور کے معروف علاقے جوہر ٹاؤن میں 9 پلاٹس پر منشا بم نے قبضہ کر رکھا ہے اور وہ قبضہ گروپ ہے۔

اس معاملے پر چیف جسٹس نے کیس کی سماعت کی تھی، بعد ازاں یکم اکتوبر کو سپریم کورٹ نے منشا بم کو فوری گرفتار کرنے اور قبضہ کی گئی تمام اراضی واگزار کرانے کا حکم دیا تھا۔

ساتھ ہی عدالت عظمیٰ نے منشا بم اور ان کے چاروں بیٹوں کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں ڈالنے کا بھی حکم دیا تھا۔

جس کے بعد لاہور میں قبضہ گروپ کے خلاف ایک بڑا آپریشن کیا گیا تھا، تاہم منشا بم کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: مختلف مقدمات میں مطلوب منشا بم کو پولیس تحویل میں دے دیا گیا

منشا بم اور ان کے بیٹوں کے خلاف خلاف دہشت گردی کی خصوصی دفعات کے تحت تھانہ جوہر ٹاؤن میں مقدمات درج تھے، جس پر 4 اکتوبر کو انسداد دہشت گردی کی عدالت نے منشا بم اور ان کے بیٹوں کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے اور انہیں 10 اکتوبر تک گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔

10 اکتوبر کو لاہور کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کو منشا بم اور ان کے بیٹوں کے شناختی کارڈ بلاک کرنے کا حکم دیا تھا۔

سپریم کورٹ بھی منشا بم قبضہ گروپ سے متعلق کیس میں منشا بم کو فوری گرفتار کرکے قبضہ کی گئی تمام اراضی واگزار کرانے کا حکم دے چکی ہے۔

منشا بم اور ان کے بیٹوں کے خلاف مختلف تھانوں میں 60 سے زائد مقدمات درج ہیں۔