معاون خصوصی کا اپوزیشن پر الیکشن کمیشن کو یرغمال بنانے کا الزام

اپ ڈیٹ 21 نومبر 2019

ای میل

معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ رہبر کمیٹی چور مچائے شور فلم کا فلاپ شو پیش کر رہی ہے—تصویر: پی آئی ڈی
معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ رہبر کمیٹی چور مچائے شور فلم کا فلاپ شو پیش کر رہی ہے—تصویر: پی آئی ڈی

وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے اپوزیشن کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ان پر الیکشن کمیشن کو ’یرغمال بنانے کا الزام عائد کرتے ہوئے کمیشن پر اثر انداز ہونے کی کوشش‘ کی شدید مذمت کی۔

سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ٹوئٹ کرتے ہوئے معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ ’رہبر کمیٹی جسے خود رہبری کی ضرورت ہے، مسلسل چور مچائے شور فلم کا فلاپ شو پیش کر رہی ہے‘۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم ’الیکشن کمیشن آف پاکستان کو یرغمال بنانے کے لیے اثر انداز ہونے کی مذموم کوشش کی شدید مذمت کرتے ہیں اور اپنے موقف پر ڈٹے ہیں دوسروں کی طرح احتساب سے راہ فرار اختیار کرنے والے نہیں‘۔

ایک اور ٹوئٹ میں وزیراعظم کی تعریف کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’وزیراعظم عمران خان آئین کی حکمرانی، قانون کی بالادستی اور بلا تفریق احتساب کے داعی ہیں‘۔

اپنے ٹوئٹر پیغام میں سپریم کورٹ کی جانب سے سابق وزیراعظم نواز شریف کو سزا دینے کا حوالہ دیتے ہوئے ان کا مزید کہنا تھا کہ ’پوری قوم گواہ ہے کہ ملک کی سب سے بڑی عدالت نے کسے صادق اور امین قرار دیا اور کون بددیانت ٹھہرا‘۔

شور نہ کریں، چوری نہیں کی تو تلاشی اور رسیدیں دیں، طلال چوہدری

معاون خصوصی برائے اطلاعات کے پیغامات پر ردِ عمل دیتے ہوئے رہنما مسلم لیگ (ن) کے رہنما طلال چودھری کا کہنا تھا کہ آئین کی بالادستی! قانون کی حکمرانی! بلا تفریق احتساب! فردوس عاشق اعوان کس ملک کے وزیراعظم کی بات کر رہی ہیں؟

یہ بھی پڑھیں: غیر ملکی فنڈنگ کیس: تحریک انصاف تحقیقاتی کمیشن کے قیام پر آمادہ

ان کا کہنا تھا کہ جو ایک پارٹی میں کھڑے نہیں ہو سکتے وہ اپنے نظریے اور مؤقف پہ کیسے کھڑے ہو سکتے ہیں۔

طلال چوہدری نے سوال کیا کہ ’پارلیمنٹ پہ حملہ، منتخب وزیراعظم کے خلاف سازش، سرکاری املاک پہ حملہ، پارلیمان پہ لعنت بھیجنا کون سا جمہوری عمل ہے؟‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ معاون خصوصی اگر بلا تفریق احتساب ہے تو اپنے نئے باس کے سارے بچوں، ساری بیویوں اور سارے غیر ملکی اکاؤنٹس کو ظاہر کروائیں۔

طلال چوہدری نے کہا کہ ’اصلی چور اب پکڑا گیا ہے جو 20 سال سے شور مچا رہا ہے اور دوسروں کو چور کہہ رہا ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ بلا تفریق احتساب کی اصلیت علیمہ خان کی سلائی مشینیں، جہانگیر ترین کی اربوں روپے کی منی لانڈرنگ اور 23 جعلی بینک اکاؤنٹس ہے، جس پر پی ٹی آئی کو شرم آنی چاہیے۔

مزید پڑھیں: مریم اورنگزیب کا وزیراعظم عمران خان کو چیلنج

رہنما مسلم لیگ (ن) کا کہنا تھا کہ فردوس عاشق اعوان شور نہ کریں چوری نہیں کی تو تلاشی اور رسیدیں دیں اور گھبرائیں نہیں اب اگلی نوکری کے لیے سی وی تیار کرنا شروع کر دیں‘۔

خیال رہے کہ معاون خصوص فردوس عاشق اعوان اور رہنما مسلم لیگ (ن) کی جانب سے یہ بیان بازی ای سی پی میں پی ٹی آئی کے فارن فنڈنگ کیس کی روزانہ سماعت کے حکم کے حوالے سے سامنے آئی۔

گزشتہ روز اپوزیشن کی رہبر کمیٹی نے ای سی پی سے استدعا کی تھی کہ چیف الیکشن کمشنر کے عہدے کی مدت اختتام پذیر ہونے سے قبل کیس کا فیصلہ کردیا جائے۔

درخواست میں کہا گیا تھا کہ پی ٹی آئی کے خلاف فارن فنڈنگ کیس گزشتہ 5 سال سے زیر التوا ہے، ہمارا مطالبہ ہے کہ انصاف کے تقاضوں کے لیے کیس کی روزانہ سماعت کی جائے۔

یہ بھی پڑھیں: الیکشن کمیشن کا پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس کی روزانہ سماعت کا حکم

جس پر الیکشن کمیشن نے کیس کی روزانہ سماعت کا حکم دیا تھا جس کی پہلی سماعت 26 نومبر کو مقرر کی گئی تھی۔

علاوہ ازیں الیکشن کمیشن میں پی ٹی آئی کے اراکین پارلیمنٹ کی جانب سے مسلم لیگ (ن) اور پی پی پی کے خلاف فارن فنڈنگ کیس دائر کرنے پر ان دونوں جماعتوں کے وکلا کو بھی نوٹس دیے گئے تھے.

غیر ملکی فنڈنگ کا معاملہ

خیال رہے کہ پی ٹی آئی کے منحرف بانی رکن اکبر ایس بابر نے 2014 میں مذکورہ کیس دائر کیا تھا، جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ غیر قانونی غیر ملکی فنڈز میں تقریباً 30 لاکھ ڈالر 2 آف شور کمپنیوں کے ذریعے اکٹھے کیے گئے اور یہ رقم غیر قانونی طریقے 'ہنڈی' کے ذریعے مشرق وسطیٰ سے پی ٹی آئی ملازمین کے اکاؤنٹس میں بھیجی گئی۔

مزید پڑھیں: اپوزیشن کا الیکشن کمیشن سے غیرملکی فنڈنگ کیس منطقی انجام تک پہنچانے کا مطالبہ

ان کا یہ بھی الزام تھا کہ جو فنڈز بیرونِ ملک موجود اکاؤنٹس حاصل کرتے تھے، اسے الیکشن کمیشن میں جمع کروائی گئی سالانہ آڈٹ رپورٹ میں پوشیدہ رکھا گیا۔

جس پر گزشتہ برس مارچ 2018 میں ایک اسکروٹنی کمیٹی قائم کی گئی تھی جسے ایک ماہ میں پی ٹی آئی کی غیر ملکی فنڈنگ کا آڈٹ کرنے کا حکم دیا گیا تھا بعدازاں اس کی مہلت میں غیر معینہ مدت تک توسیع کردی گئی تھی۔

رواں برس یکم اکتوبر کو ای سی پی نے غیر ملکی فنڈنگ کیس کی جانچ پڑتال میں رازداری کے لیے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے دائر 4 درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔

مزید پڑھیں: ہائی کورٹ کا پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کے ذرائع ای سی پی کو فراہم کرنے کا حکم

10 اکتوبر 2019 کو الیکشن کمیشن نے اسکروٹنی کمیٹی کے ذریعے تحریک انصاف کے اکاؤنٹس کے آڈٹ پر حکمراں جماعت کی جانب سے کیے گئے اعتراضات مسترد کردیے تھے۔

چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) سردار محمد رضا کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے محفوظ کیا گیا فیصلہ سناتے ہوئے اسکروٹنی کمیٹی کو کام جاری رکھنے کا حکم دیا تھا۔

23 اکتوبر کو پی ٹی آئی وکیل 10 اکتوبر کے فیصلے پر اعتراض کرتے ہوئے اسکروٹنی کمیٹی کے اجلاس سے واک آؤٹ کر گئے تھے۔

7 نومبر کو پی ٹی آئی نے الیکشن کمیشن کے مذکورہ فیصلے کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا تھا اور مؤقف اختیار کیا تھا کہ الیکشن کمیشن کی تشکیل مکمل نہ ہونے کے باعث 10 اکتوبر کے حکم کا کوئی قانونی جواز نہیں لہٰذا اسے معطل کر کے غیر ملکی فنڈنگ کی اسکروٹنی کے لیے قائم خصوصی کمیٹی کو بھی کام سے روکا جائے۔

یہ بھی پڑھیں: الیکشن کمیشن نےتحریک انصاف کےخلاف غیر ملکی فنڈنگ کیس کا فیصلہ سنادیا

بعد ازاں اسکروٹنی کمیٹی کے 12 نومبر کو مقرر کردہ اسکروٹنی اجلاس سے ایک روز قبل پی ٹی آئی نے غیر ملکی فنڈنگ کے ذرائع کی تحقیقات روکنے اور ای سی پی کا 10 اکتوبر کا حکم معطل کرنے کی ایک اور درخواست دائر کردی تھی۔

12 نومبر کو پی ٹی آئی نے کمیٹی کو بتایا کہ جب تک اسلام آباد ہائی کورٹ پٹیشن پر فیصلہ نہیں کردیتی وہ کمیٹی کی سماعت میں شریک نہیں ہوسکتی اور نیا وکیل مقرر کرنے کے لیے مزید وقت بھی درکار ہے حالانکہ عدالت نے حکم امتناع بھی نہیں دیا تھا۔

پی ٹی آئی کی جانب سے اسکروٹنی کا عمل روکنے کی درخواست جسٹس محسن اختر کیانی کے ایک رکنی بینچ میں 20 نومبر کو سماعت کے لیے مقرر کی گئی تھی، تاہم پی ٹی آئی وکیل شاہ خاور کے عدم موجودگی کے باعث سماعت 16 دسمبر تک ملتوی کردی گئی۔

دوسری جانب اسکروٹنی کمیٹی میں فارن فنڈنگ کیس کی آئندہ سماعت 26 نومبر مقرر کی گئی تھی۔