الیکشن کمیشن کا پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس کی روزانہ سماعت کا حکم

اپ ڈیٹ 21 نومبر 2019

ای میل

اپوزیشن کی 8 جماعتوں کے نمائندوں نے ای سی پی پر زور دیا تھا کہ کیس کی روزانہ بنیاد پر سماعت کریں — فائل فوٹو: اے پی پی
اپوزیشن کی 8 جماعتوں کے نمائندوں نے ای سی پی پر زور دیا تھا کہ کیس کی روزانہ بنیاد پر سماعت کریں — فائل فوٹو: اے پی پی

اسلام آباد: الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے خلاف درج فارن فنڈنگ کیس کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کا حکم دے دیا۔

مذکورہ حکم اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کی جانب سے ایک درخواست دیے جانے کے بعد سامنے آیا. جس میں ای سی پی سے استدعا کی گئی تھی کہ چیف الیکشن کمشنر کے عہدے کی مدت اختتام پذیر ہونے سے قبل کیس کا فیصلہ کردیا جائے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق سیکریٹری الیکشن کمیشن بابر یعقوب فتح کے پاس جمع کروائی گئی درخواست میں اپوزیشن کی 8 جماعتوں کے نمائندوں نے ای سی پی پر زور دیا تھا کہ کیس کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کریں۔

درخواست میں کہا گیا تھا کہ پی ٹی آئی کے خلاف فارن فنڈنگ کیس گزشتہ 5 سال سے زیر التوا ہے، ہمارا مطالبہ ہے کہ انصاف کے تقاضوں کے لیے کیس کی روزانہ سماعت کی جائے اور چیف الیکشن کمشنر کے عہدے کی مدت ختم ہونے سے قبل اس کا فیصلہ کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں: اپوزیشن کا غیر ملکی فنڈنگ کیس منطقی انجام تک پہنچانے کا مطالبہ

اس سلسلے میں جب سیکریٹری الیکشن کمیشن سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے تصدیق کی کہ اپوزیشن کی جانب سے درخواست موصول ہوئی ہے اور اس پر کیس کی روزانہ سماعت کا حکم بھی دیا جاچکا ہے۔

اس ضمن میں ایک اور ای سی پی عہدیدار کا کہنا تھا مذکورہ حکم چیف الیکشن کمشنر اور رکن خیبرپختونخوا نے جاری کیا جبکہ رکنِ پنجاب موجود نہیں تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ اسکروٹنی کمیٹی میں پی ٹی آئی کے فارن فنڈنگ کیس کی سماعت 26 نومبر 2019 کے لیے مقرر کی تھی اور کمیٹی اسی روز مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی فنڈنگ کی سماعت بھی کرے گی۔

ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی بتایا کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے وکلا کو بھی نوٹس دیے جاچکے ہیں، واضح رہے کہ پی ٹی آئی کے اراکین پارلیمنٹ نے مسلم لیگ (ن) اور پی پی پی کے خلاف بھی فارن فنڈنگ کیس دائر کیا تھا۔

فارن فنڈنگ کیس میں اب تک کیا ہوا؟

خیال رہے کہ پی ٹی آئی کے منحرف بانی رکن اکبر ایس بابر نے 2014 میں مذکورہ کیس دائر کیا تھا، جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ غیر قانونی غیر ملکی فنڈز میں تقریباً 30 لاکھ ڈالر 2 آف شور کمپنیوں کے ذریعے اکٹھے کیے گئے اور یہ رقم غیر قانونی طریقے 'ہنڈی' کے ذریعے مشرق وسطیٰ سے پی ٹی آئی ملازمین کے اکاؤنٹس میں بھیجی گئی۔

مزید پڑھیں: غیر ملکی فنڈنگ کیس: تحریک انصاف نے الیکشن کمیشن کا فیصلہ چیلنج کردیا

ان کا یہ بھی الزام تھا کہ جو فنڈز بیرونِ ملک موجود اکاؤنٹس حاصل کرتے تھے، اسے الیکشن کمیشن میں جمع کروائی گئی سالانہ آڈٹ رپورٹ میں پوشیدہ رکھا گیا۔

بعد ازاں ایک سال سے زائد عرصے تک اس کیس کی سماعت ای سی پی میں تاخیر کا شکار رہی تھی کیونکہ پی ٹی آئی کی جانب سے اکتوبر 2015 میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کی گئی کہ اس کے اکاؤنٹس کی جانچ پڑتال سے ای سی پی کو روکا جائے۔

جس کے بعد فروری 2017 میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے دائرہ اختیار پر جائزہ لینے کے لیے کیس کو دوبارہ ای سی پی کو بھیج دیا تھا، اسی سال 8 مئی کو ای سی پی کے فل بینچ نے اس کیس پر اپنے مکمل اختیار کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ پی ٹی آئی اس طرح کے ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہی کہ درخواست گزار کو پارٹی سے نکال دیا گیا اور وہ پی ٹی آئی اکاؤنٹس پر سوالات اٹھانے کا حق کھو بیٹھے۔

یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی غیر ملکی فنڈنگ کیس: الیکشن کمیشن کی نئی کمیٹی بنانے کی ہدایت

علاوہ ازیں مارچ 2018 میں پی ٹی آئی کے فارن فنڈنگ اکاؤنٹس کے معاملات کو دیکھنے کے لیے ایک اسکروٹنی کمیٹی قائم کی گئی تھی۔

رواں برس یکم اکتوبر کو ای سی پی نے غیر ملکی فنڈنگ کیس کی جانچ پڑتال میں رازداری کے لیے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے دائر 4 درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔

مزید پڑھیں: ہائی کورٹ کا پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کے ذرائع ای سی پی کو فراہم کرنے کا حکم

10 اکتوبر 2019 کو الیکشن کمیشن نے اسکروٹنی کمیٹی کے ذریعے تحریک انصاف کے اکاؤنٹس کے آڈٹ پر حکمراں جماعت کی جانب سے کیے گئے اعتراضات مسترد کردیے تھے۔

چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) سردار محمد رضا کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے محفوظ کیا گیا فیصلہ سناتے ہوئے اسکروٹنی کمیٹی کو کام جاری رکھنے کا حکم دیا تھا۔

23 اکتوبر کو پی ٹی آئی وکیل 10 اکتوبر کے فیصلے پر اعتراض کرتے ہوئے اسکروٹنی کمیٹی کے اجلاس سے واک آؤٹ کر گئے تھے۔

7 نومبر کو پی ٹی آئی نے الیکشن کمیشن کے مذکورہ فیصلے کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا تھا اور مؤقف اختیار کیا تھا کہ الیکشن کمیشن کی تشکیل مکمل نہ ہونے کے باعث 10 اکتوبر کے حکم کا کوئی قانونی جواز نہیں لہٰذا اسے معطل کر کے غیر ملکی فنڈنگ کی اسکروٹنی کے لیے قائم خصوصی کمیٹی کو بھی کام سے روکا جائے۔

یہ بھی پڑھیں: الیکشن کمیشن نےتحریک انصاف کےخلاف غیر ملکی فنڈنگ کیس کا فیصلہ سنادیا

بعد ازاں اسکروٹنی کمیٹی کے 12 نومبر کو مقرر کردہ اسکروٹنی اجلاس سے ایک روز قبل پی ٹی آئی نے غیر ملکی فنڈنگ کے ذرائع کی تحقیقات روکنے اور ای سی پی کا 10 اکتوبر کا حکم معطل کرنے کی ایک اور درخواست دائر کردی تھی۔

12 نومبر کو پی ٹی آئی نے کمیٹی کو بتایا کہ جب تک اسلام آباد ہائی کورٹ پٹیشن پر فیصلہ نہیں کردیتی وہ کمیٹی کی سماعت میں شریک نہیں ہوسکتی اور نیا وکیل مقرر کرنے کے لیے مزید وقت بھی درکار ہے حالانکہ عدالت نے حکم امتناع بھی نہیں دیا تھا۔

پی ٹی آئی کی جانب سے اسکروٹنی کا عمل روکنے کی درخواست جسٹس محسن اختر کیانی کے ایک رکنی بینچ میں 20 نومبر کو سماعت کے لیے مقرر کی گئی تھی، تاہم پی ٹی آئی وکیل شاہ خاور کے عدم موجودگی کے باعث سماعت 16 دسمبر تک ملتوی کردی گئی۔

دوسری جانب اسکروٹنی کمیٹی میں فارن فنڈنگ کیس کی آئندہ سماعت 26 نومبر مقرر کی گئی تھی۔