ملک ریاض کا این سی اے سے تصفیہ: ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کا برطانیہ سے 'شفافیت' کا مطالبہ

اپ ڈیٹ 08 دسمبر 2019

ای میل

ٹی آئی کے مطابق ورجن آئی لینڈ اثاثوں کو مخفی رکھنے والوں کیلئے اہم جگہ ہے —فائل فوٹو: رائٹرز
ٹی آئی کے مطابق ورجن آئی لینڈ اثاثوں کو مخفی رکھنے والوں کیلئے اہم جگہ ہے —فائل فوٹو: رائٹرز

انسداد کرپشن کے ادارے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل (ٹی آئی) نے برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) کی جانب سے پاکستان کے ریئل اسٹیٹ ٹائیکون ملک ریاض کے اہلِ خانہ سے 19 کروڑ پاؤنڈ کی برآمدگی کے معاملے میں 'محدود معلومات' فراہم کرنے پر لندن کے حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ بدعنوانی کے خلاف کارروائی میں 'شفافیت اور احتساب' کے عمل کا احترام کرے۔

ڈان اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق ٹی آئی کے برطانیہ میں موجود دفتر کے عہدیدار نے کہا کہ وہ اس خبر کا خیر مقدم کرتے ہیں جس میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے پاکستانی عوام کو رقم واپس کی۔

مزید پڑھیں: برطانیہ: نیشنل کرائم ایجنسی ملک ریاض سے 19 کروڑ پاؤنڈ کے تصفیے پر رضامند

انہوں نے کہا کہ حالیہ اقدام گزشتہ کی کوششوں سے، جو برطانیہ کے فوجداری فنانس ایکٹ 2017 کے ذریعہ پیش کی گئی، مثبت تبدیلیوں کی جانب اشارہ کرتا ہے۔

اس ضمن میں ٹی آئی کے ڈائریکٹر برائے پالیسی ڈنکن ہیمس کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ 'اگرچہ اس معاملے کی تفصیلات بہت محدود ہیں لیکن جیسا کہ تجویز کیا گیا کہ اصل ملک کو ضبط شدہ رقوم کی واپسی دراصل اقوام متحدہ کے کنونشن کے تحت ایک ذمہ داری ہے'۔

انہوں نے برطانوی حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ بدعنوانی کے خلاف کارروائی میں مکمل شفافیت اور احتساب کے دائرے کار کا احترام کریں۔

ڈائریکٹر برائے پالیسی ڈنکن ہیمس نے کہا کہ یہ جان کر حیرت ہوئی کہ برطانیہ کے ورجن آئی لینڈ میں ایک کمپنی رجسٹرڈ ہے جو اس کیس سے منسلک ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ملک ریاض: ادنیٰ ٹھیکیدار سے رئیل اسٹیٹ ٹائیکون بننے تک کا سفر

انہوں نے کہ 'تحقیق سے معلوم ہوا کہ برٹش ورجن آئی لینڈ اثاثوں کو مخفی رکھنے والوں کے لیے اہم جگہ ہے'۔

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے مطالبہ کیا کہ 'برٹش ورجن آئی لینڈ کو کیمین آئی لینڈز اور جبرالٹر کی طرح مثال قائم کرتے ہوئے کمپنیوں کے حقیقی مالکان کا نام ظاہر کرنے چاہیے۔

واضح رہے کہ 3 دسمبر کو برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) نے پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض کے خاندان کے ساتھ 19 کروڑ پاؤنڈ کی رقم یا اثاثوں کی فراہمی کے عوض تصفیہ کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔

این سی اے نے 19 کروڑ پاؤنڈ کے تصفیے کی پیشکش قبول کی، جس میں برطانیہ کی جائیداد میں لندن کے ون ہائیڈ پارک پلیس نامی عمارت کا ایک اپارٹمنٹ ڈبلیو 22 ایل ایچ شامل ہے جس کی مالیت تقریباً 5 کروڑ پاؤنڈز ہے جبکہ منجمد اکاؤنٹس میں موجود تمام فنڈز شامل ہیں۔

ایجنسی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ '19 کروڑ پاؤنڈ کی رقم یا اثاثوں کی فراہمی کے عوض تصفیہ پاکستانی شہری ملک ریاض حسین کے حوالے سے این سی اے کی تحقیقات کے نتیجے میں کیا جائے گا، جو پاکستان کے نجی شعبے کی اہم ترین کاروباری شخصیت ہیں'۔

مزید پڑھیں: بحریہ ٹاؤن کراچی:الاٹمنٹ غیر قانونی قرار، پلاٹس کی فروخت روکنے کا حکم

اس ضمن میں وزیراعظم کے معاون خصوسی شہزاد اکبر نے بھی تصفیے کی شرائط بتانے سے گریز کیا اور کہا تھا کہ حکومت رازداری کے معاہدے کے پابند ہے۔

نیشنل کرائم ایجنسی کے بیان میں کہا گیا کہ 'اگست 2019 میں لگ بھگ 12 کروڑ پاؤنڈز فنڈز کے حوالے سے ویسٹ منسٹر مجسٹریٹ کی عدالت سے 8 اکاؤنٹس منجمد کرنے کے احکامات حاصل کیے گئے تھے'۔

بیان کے مطابق 'اکاؤنٹس منجمد کرنے کے یہ احکامات دسمبر 2018 میں 2 کروڑ پاؤنڈز کے حوالے سے اسی تحقیقات سے منسلک احکامات کے بعد حاصل کیے گئے تھے جبکہ اکاؤنٹس منجمد کرنے کے تمام احکامات برطانوی بینک اکاؤنٹس میں موجود رقم سے متعلق تھے'۔

یاد رہے کہ رواں سال مارچ میں پاکستان کی سپریم کورٹ نے 460 ارب روپے کے عوض ملیر یا کراچی سپر ہائی وے سے متعلق کیسز میں ملک ریاض کی ملکیتی کمپنی بحریہ ٹاؤن پرائیوٹ لمیٹڈ کی جانب سے تصفیے کی پیشکش قبول کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: بحریہ ٹاون کے خلاف رپورٹ پر کارروائی کا مطالبہ

جسٹس شیخ عظمت سعید نے 4 مئی 2018 کے عدالتی حکم پر عملدرآمد کے حوالے سے مختصر سماعت کے بعد کہا تھا کہ 'پیشکش قبول کی جاتی ہے۔'

عدالت کے حکم میں کہا گیا تھا کہ سندھ حکومت کی جانب سے ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ایم ڈی اے) کو زمین کے لیے گرانٹ، زمین کی نجی ڈیولپر (بحریہ ٹاؤن) کی زمین سے تبدیلی اور سرکاری زمین کی نوآبادیات سے متعلق قانون 1912 کی دفعات کے تحت صوبائی حکومت کی طرف سے جو کچھ بھی کیا گیا وہ غیر قانونی تھا۔