روس کا پی آئی اے کو طیارے فراہم کرنے سے متعلق مذاکرات کا عہد

اپ ڈیٹ 12 دسمبر 2019

ای میل

پاک-روس بین الحکومتی کمیشن کا اجلاس 9 سے 11 دسمبر تک اسلام آباد میں منعقد ہوا 
— فوٹو:ریڈیو پاکستان
پاک-روس بین الحکومتی کمیشن کا اجلاس 9 سے 11 دسمبر تک اسلام آباد میں منعقد ہوا — فوٹو:ریڈیو پاکستان

اسلام آباد: روس نے قومی ایئرلائن( پی آئی اے) کو 16-6 سوکھوئی سپرجیٹ-100 فراہم کرنے سے متعلق مذاکرات کے آغاز کا عہد کیا ہے۔

پاکستان اور روس نے تجارت، ہوا بازی اور توانائی کے شعبوں میں دو طرفہ تعاون میں اضافے اور اسے مختلف شعبوں میں ٹھوس سرمایہ کاری میں تبدیل کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق تجارتی، معاشی، سائنسی اور تکنیکی تعاون پر پاک-روس بین الحکومتی کمیشن (آئی جی سی) کے چھٹے اجلاس کے اختتام پر روس نے قومی ایئر لائن (پی آئی اے) کو سال 2020 کی پہلی سہ ماہی میں 16-6 سوکھوئی سپرجیٹ-100 طیاروں کی فراہمی اور فروخت کے بعد کی سروسز فراہم کرنے سے متعلق مذاکرات کے آغاز کا وعدہ کیا ہے۔

دونوں فریقین نے باہمی طور پر متفق کردہ تاریخ پر ماسکو میں آئی جی سی کے ساتویں اجلاس کے انعقاد پر اتفاق کیا۔

خیال رہے کہ آئی جی سی اجلاس دونوں ممالک کے دارالحکومتوں میں سلسلہ وار منعقد ہوتے ہیں۔

مزید پڑھیں: ترقیاتی منصوبوں میں روسی شمولیت مشترکہ مفاد میں ہے، وزیر اقتصادی امور

آئی جی سی کا چھٹا اجلاس 9 سے 11 دسمبر تک اسلام آباد میں منعقد ہوا، وفاقی وزیر برائے معاشی امور محمد حماد اظہر نے پاکستان اور روس کے وزیر صنعت و تجارت دنیس مانتوروف نے اپنے ملک کے وفد کی قیادت کی تھی۔

دنیس مانتوروف نے کہا کہ روس اس وقت پی آئی اے کو 16-6 طیارے فراہم کرنے کے مالی پہلوؤں کی جانچ کررہا ہے اور 2020 کی پہلی سہ ماہی میں دونوں فریقین کے درمیان باقاعدہ مذاکرات متوقع ہیں۔

انہوں نے کہا کہ روس، اس وقت یہ جاننے کے مرحلے میں ہے کہ سرمایہ کاری کے کون سے مواقع موجود ہیں اور انہیں کیسے استعمال میں لایا جاسکتا ہے۔

روس کے وزیر تجارت نے کہا کہ ان کا ملک نارتھ-ساؤتھ گیس پائپ لائن میں دلچسپی رکھتا ہے جبکہ آٹوموبائل، توانائی کے شعبوں اور پاکستان اسٹیل میں سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے کے علاوہ روس کو جیولوجیکل سروے آف پاکستان کی صلاحیت میں اضافے کے لیے تعاون کرکے خوشی ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں: روس کا پاکستان سے مسئلہ کشمیر کے دو طرفہ حل پر زور

دونوں فریقین نے تعاون کی موجودہ سطح پر اطمینان کا اظہار کیا اور سیاست، تجارت، معیشت، توانائی، تعلیم اور لوگوں کے درمیان براہ راست روابط سمیت باہمی دلچسپی کے تمام امور پر دو طرفہ تعلقات کو مضبوط کرنے پر اتفاق کیا۔

سیکریٹری معاشی امور نے آئی جی سی کو معیشت میں حالیہ پیش رفت، پاکستانی معیشت میں مثبت اشاریوں کی نشاندہی اور منظر نامے، خاص طور پر کرنٹ اکاؤنٹ بیلنس پر بریفنگ دی۔

انہوں نے روس کو بین الاقوامی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے پروگرام پر کامیاب عملدرآمد، پاکستانی معیشت کے روشن مستقبل کے امکانات اور دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کی بڑی صلاحیت سے متعلق بریفنگ دی۔

اس حوالے سے جاری اعلامیے کے مطابق روس نے پاکستان کو ماسکو میں روڈ شو کے انعقاد کی دعوت دی تاکہ روس کی نجی کمپنیوں کو پاکستان میں نئی راہیں تلاش کرنے کا موقع فراہم کیا جائے۔

وفاقی وزیر حماد اظہر نے روسی وفد کو بتایا کہ پاکستان، روس کے ساتھ سیاسی، سفارتی اور معاشی تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور دونوں ممالک کے کاروباری شعبے کے درمیان باہمی مالیاتی دعووں سے متعلق دیرینہ مسئلے کے حل پر خوش ہیں۔

پاکستان نے روس کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ روس نے پاکستان اسٹیل ملز کے قیام میں تعاون میں توسیع سے پاکستان کی صنعتی پیداوار کی بنیاد رکھنے میں مدد کی تھی اور ابھرتے ہوئے شعبوں میں ترقی کی ضرورت، تعاون کے مواقع اور سرمایہ کاری کو اعلیٰ سطح پر سمجھنے، تجارت اور سرمایہ کاری کی راہ میں رکاوٹوں کو دور کرنے سے متعلق تعاون جاری رکھنے کے پختہ عزم کا اظہار کیا۔

روسی وزیر کی وزیراعظم، آرمی چیف سے ملاقاتیں

بعدازاں روسی وزیر تجارت نے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی جنہوں نے روس کے ساتھ تعلقات کے نئے مرحلے میں داخل ہونے سے متعلق پاکستان کے عزم کا اظہار کیا۔

اس حوالے سے جاری اعلامیے کے مطابق دنیس مانتوروف نے روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن کی جانب سے وزیراعظم عمران خان کو خصوصی پیغام پہنچایا۔

روس کے وزیر تجارت نے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ سے بھی ملاقات کی اور باہمی مفاد کے معاملات پر تبادلہ خیال کیا۔

پاک فوج ک شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) سے جاری بیان کے مطابق ملاقات میں خطے کے امن و استحکام اور معاشی ترقی کے لیے دو طرفہ تعلقات میں مزید اضافے کی خواہش کو دہرایا گیا۔