سال 2019ء: مشرق وسطیٰ میں اس سال بھی کوئی بہتری نہیں آئی

اپ ڈیٹ 23 دسمبر 2019

ای میل

2018ء ختم ہوا تو ایسے اشارے مل رہے تھے جیسے مشرق وسطیٰ میں جاری جنگیں انجام کی طرف بڑھ رہی ہیں، امریکا شام سے نکل رہا تھا، شام میں نئے آئین کی تیاری اور سیاسی حل پر کام شروع ہوتا نظر آرہا تھا، یمن جنگ پر ثالثی کی بات ہو رہی تھی، لیبیا اور عراق بدامنی سے نکلتے محسوس ہوتے تھے۔

لیکن ایک سال مزید گزر جانے کے بعد بھی مشرق وسطیٰ کے منظرنامے پر بدستور جنگ، پُرتشدد مظاہرے اور نئی صف بندی چھائی نظر آتی ہے، اور عراق اب مشرق وسطیٰ میں نیا میدانِ جنگ بنتا نظر آ رہا ہے۔

2019ء میں داعش کے سربراہ ابوبکر البغدادی انجام کو پہنچے یوں شام کے بڑے حصے پر قائم داعش کی خود ساختہ خلافت کا خاتمہ ہوا، ایران اور سعودی عرب کے درمیان پراکسی وار سعودی سرزمین تک پہنچی، لبنان پُرتشدد مظاہروں کے نتیجے میں ایک بار پھر سیاسی عدم استحکام کا شکار ہے، معاشی پابندیوں کے نتیجے میں بدحالی کے شکار ایرانی عوام تیل کی قیمتوں میں اضافے پر جلاؤ گھیراؤ پر اترے، جمال خاشقجی کے قتل پر شدید عالمی ردِعمل کے باوجود سعودی عرب اور امریکا کے پُرجوش تعلقات کو فلوریڈا میں سعودی زیرِ تربیت ہوا باز کی فائرنگ کے اثرات کا سامنا ہے۔

2 سال مسلسل مقاطعہ کے نتیجے میں قطر کو کوئی نقصان نہ پہنچا جس پر عرب امارات اور سعودی عرب دوبارہ تعلقات کو بحال کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ اسرائیل نے شام میں ایران کے ساتھ پراکسی وار کو عراق کی سرزمین تک بڑھادیا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان جوہری تنازعے میں اب تک ایران کو عالمی برادری کی حمایت حاصل ہے جو ایران کے حوالے سے صدر ٹرمپ کی پالیسیوں میں ابہام اور غیر یقینی حالات کا نتیجہ ہے۔ عرب امارات اور سوڈان کے فوجی دستوں میں کمی کے بعد سعودی عرب یمن میں جاری لاحاصل جنگ کو ختم کرنے پرمجبور ہوچکا ہے۔

شام کا بڑھتا ہوا مسئلہ

عراق اور شام میں امریکا نے داعش کے خلاف جنگ مقامی اتحادیوں کی مدد سے لڑی۔ مقامی اتحادی زمینی جنگ لڑ رہے تھے جبکہ امریکا کی طرف سے انہیں اسلحہ، تربیت، لاجسٹک سپورٹ حاصل تھی۔ امریکا کے جنگی طیارے ان مقامی زمینی دستوں کو فضائی آپریشن کے ذریعے مدد دے رہے تھے۔ شام میں امریکا کی ایلیٹ فورسز کے دستے ایک ہزار امریکی فوجیوں کے ساتھ کرد ملیشیا کی مدد کر رہے تھے۔ امریکی صدر کی جانب سے اچانک فوجی انخلا کے اعلان سے نہ صرف امریکی فوجی حکام، ارکانِ کانگریس اور اتحادیوں کو حیران و ششدر کیا بلکہ کرد ملیشیا اور مقامی عرب گروپ فری سیرین آرمی کو بھی بغیر انتباہ کیے تنہا چھوڑ دیا۔

ادلب میں القاعدہ کے 30 ہزار جنگجو اب بھی بڑا خطرہ ہیں اور شام میں عالمی طاقتوں کی کشمکش انہیں مضبوط بنا سکتی ہے۔ فائل فوٹو: اے ایف پی
ادلب میں القاعدہ کے 30 ہزار جنگجو اب بھی بڑا خطرہ ہیں اور شام میں عالمی طاقتوں کی کشمکش انہیں مضبوط بنا سکتی ہے۔ فائل فوٹو: اے ایف پی

رپورٹس یہی بتاتی ہیں کہ امریکی صدر نے ترکی کے مطالبے پر ایسا کیا اور اس اقدام کے بعد فری سیرین آرمی کو ترکی کے حملوں سے بچنے کے لیے شام کے بشارالاسد اور روس کا سہارا لینا پڑا۔ شام کے خلاف لڑنے والے کرد بھی شام کی سرکاری فورسز کا ساتھ دینے پر مجبور ہوگئے۔

امریکا کو دنیا بھر میں اسپیشل آپریشن انجام دینے والی سیل ٹیم، گرین بیرٹس اور اسپیشل فورسز کے طریقہ کار اور دیگر خفیہ انفارمیشن شامی فورسز کے ذریعے روس اور ایران کے ہاتھ لگ جانے کا ڈر تو ہے ہی، اس کے ساتھ کرد ملیشیا اس قدر دل برداشتہ ہے کہ کرد جنگجوؤں نے واپس جاتے امریکی دستوں پر فائرنگ بھی کی۔

صورتحال کچھ ایسی تھی کہ امریکی فضائیہ کو زمینی فورسز کے چھوڑے گئے کیمپ اور اسلحے کو فضائی بمباری سے تباہ کرنا پڑا۔ شام کی کرد ملیشیا وائی پی جی کا تعلق جنوب مشرقی ترکی میں دہشتگرد کارروائیوں میں ملوث گروپ پی کے کے سے ہے۔ پی کے کے کو امریکی محکمہ خارجہ دہشتگرد قرار دے چکا ہے، اسی لیے وائی پی جی سے امریکی اتحاد پہلے دن سے متنازع اور ترک کے ساتھ نزاع کا باعث تھا۔

وائی پی جی نے داعش کی خلافت کے خاتمے کے لیے امریکی آپریشن میں اہم کردار ادا کیا۔ امریکا کی اتحادی سیرین ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) نے بھی داعش کے خاتمے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ داعش کے ہزاروں قیدی اب بھی ایس ڈی ایف کی جیلوں میں ہیں لیکن ترکی کے ساتھ لڑائی میں اب قیدیوں کے فرار کا خدشہ ہے۔

شام سے امریکی فوجی انخلا کے نتیجے میں شام کی فضائی حدود کا مکمل کنٹرول روس کے پاس چلا گیا ہے۔ زمینی فورسز نہ ہونے سے بھی امریکی فضائی آپریشنز کو دھچکا لگا ہے۔ شام میں ترکی کے آپریشن کے نتیجے میں ایس ڈی ایف کے قیدی نہ صرف واپس میدان میں آسکتے ہیں بلکہ شام سے بھاگ کر دوسرے ملکوں میں مقامی داعش تحریک کو مضبوط بنا سکتے ہیں، اس طرح امریکا نے ایک جن کو بظاہر بند کرنے کے بعد آزاد ہونے کا راستہ دیا ہے۔ ادلب میں القاعدہ کے 30 ہزار جنگجو اب بھی بڑا خطرہ ہیں اور شام میں عالمی طاقتوں کی کشمکش انہیں مضبوط بنا سکتی ہے۔

ترکی اپنی سرحد کے ساتھ شام میں کرد ملیشیا کے خلاف جنگ میں دلچسپی رکھتا ہے لیکن داعش کے خلاف کارروائی سے گریزاں ہے کیونکہ اسے ملک کے اندر داعش کے ردِعمل کا خدشہ ہے۔ داعش ترکی کے علاقائی حریفوں کے لیے بڑا خطرہ ہے اس صورت میں ترکی اسے اپنے خلاف لڑنے پر اکسانے کی کوشش نہیں کرے گا۔

ترکی کی جانب سے شام میں کی گئی کارروائیوں کی عالمی طاقتوں نے اگرچہ مخالفت کی ہے لیکن ترکی کو روکنے کی کوشش کسی نے نہیں کی، بلکہ امریکی صدر نے شام سے فوج نکال کر ترکی کو راستہ دیا۔ کردوں کو بشارالاسد کی مدد مل گئی ہے لیکن روس ترکی کو اتحادی سمجھتا ہے اس لیے وہ شام کے اندر ترکی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنے گا۔ اس لیے ترکی شام کے اندر 30 کلومیٹر کی پٹی میں طویل عرصے کے لیے قبضہ برقرار رکھ سکتا ہے۔ ترکی کا سیف زون منصوبہ مکمل ہوگیا تو ترکی شام کے بشارالاسد کی فورسز کے خلاف کارروائی کرے گا، اس طرح شام میں مہاجرین کا ایک نیا سیلاب یورپ اور دیگر ملکوں کا راستہ لے گا اور عدم استحکام کا نیا دور شروع ہوگا۔

عراق، مشرق وسطیٰ کا نیا میدانِ جنگ

عراق میں حکومت مخالف پُرتشدد مظاہرے ہو رہے ہیں جن میں عوام مسلکی تفریق کے بغیر شریک ہیں۔ کربلا اور ناصریہ میں ایرانی قونصل خانے مظاہرین کے غصے کی آگ میں جل چکے ہیں۔ ایران ان مظاہروں کو اپنی سرحدوں کے اندر داخل ہونے سے روکنے کے لیے ایران نواز ملیشیا کی مدد کر رہا ہے۔ عراق کے پسے ہوئے عوام ایرانی فورسز کی عراق میں تعیناتی اور مداخلت کو پسند نہیں کریں گے۔ عراقی فورسز کی طرف سے طاقت سے مظاہرین کو کچلنے کی کوشش بھی اچھے نتائج نہیں دے گی۔

شام سے امریکی انخلا کے بعد اسرائیل کو احتیاط کی ضرورت نہیں رہی۔فوٹو: اے ایف پی
شام سے امریکی انخلا کے بعد اسرائیل کو احتیاط کی ضرورت نہیں رہی۔فوٹو: اے ایف پی

اسرائیل عراق میں ایران نواز ملیشیا حشد الشعبی کو ڈرون سے نشانہ بنا رہا ہے۔ اس سے پہلے اسرائیل نے جب بھی ایران نواز ملیشیا کو شام یا عراق میں نشانہ بنایا ایران نواز گروپوں نے امریکی فورسز اور مفادات پر حملہ کرکے اس کا جواب دیا۔ شام سے امریکی انخلا کے بعد اسرائیل کو احتیاط کی ضرورت نہیں رہی، اب اسرائیل کے شام میں حملے تیز ہوں گے۔ عراق میں بھی اسرائیل کی کارروائیاں بڑھ رہی ہیں جسے وہ اپنا دفاعی حق سمجھتا ہے اور ایران اسے جارحیت تصور کرتا ہے۔ اس طرح عراق ایک بار پھر میدانِ جنگ بننے کو ہے۔ عراق سے امریکی دستوں کا انخلا اس پراکسی وار کو مزید تیز کر دے گا۔

مشرق وسطیٰ سے امریکی انخلا کا فائدہ روس اٹھائے گا، کیونکہ اب روس امریکا کو ناقابلِ اعتماد پارٹنر کی حیثیت سے پیش کرے گا اور خود کو مشرق وسطیٰ میں قابلِ اعتماد شراکت دار اور ثالث بنا کر پیش کرے گا۔ خطے میں روس کا اثر و رسوخ بڑھتا نظر آ رہا ہے۔

خطے میں امریکا کی غلط پالیسیاں اور مستقبل میں بڑھتی طاقت کا اندیشہ

ایران نے تیل ٹینکروں کے خلاف سمندر میں کارروائیاں کیں، ٹینکر پکڑے گئے جبکہ عملہ بھی گرفتار ہوا۔ سعودی پائپ لائنوں پر ڈرون حملے ہوئے، دنیا کی سب سے بڑی ریفائنری کو پیداوار روکنا پڑی، عراق میں امریکی تنصیبات پر حملے ہوئے، امریکا کا بلیک ہاک گرایا گیا، ایران نے جوہری معاہدے سے انحراف کی پالیسی اپنائی اور امریکا جواب میں صرف بڑ ہانکتا اور نئی معاشی پابندیوں کا اعلان کرتا رہا۔

امریکا کے اس رویے سے بھی مشرق وسطیٰ میں بے چینی ہے۔ امریکا جو مشرق وسطیٰ اور بالخصوص سعودی عرب کے دفاع کا ذمہ دار تھا ایک طرح سے یوٹرن لے چکا ہے۔ سعودی عرب کی سب سے بڑی ریفائنری جو عالمی ضرورت کا 7 فیصد پورا کرتی ہے، اس پر حملہ عالمی معاشی مفادات پر حملہ سمجھا گیا لیکن صدر ٹرمپ نے اس پر کوئی سخت کارروائی نہ کرکے امریکا کو ناقابلِ اعتماد اتحادی ثابت کردیا۔

جنگ مخالف نعرے پر اقتدار میں آنے والے صدر ٹرمپ دوسری مدت کے لیے چلنے والی انتخابی مہم سے پہلے کسی بھی ایسی مہم جوئی سے گریز کررہے ہیں جو خطے میں امریکا اور اس کے اتحادیوں کے لیے نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔

اس نقصان سے بچنے کے لیے امریکا خطے میں فوج کی تعیناتی بڑھا رہا ہے اور اس تاثر سے بچنے کی کوشش کر رہا ہے کہ اس نے اتحادیوں کو اکیلا چھوڑ دیا۔ امریکا مزید 14 ہزار فوجی بھجوانے پر غور کر رہا ہے لیکن اپنے منصوبوں کو بیان کرنے سے قاصر ہے۔ امریکا مئی سے اب تک 14 ہزار فوجی پہلے ہی خطے میں بھجوا چکا ہے جس پر امریکا کے قانون ساز بھی بے چین ہیں اور حکام سے جاننا چاہتے ہیں کہ ان کے ارادے کیا ہیں۔

سعودی عرب اور قطر کے ایک بار پھر بدلتے تعلقات

2 سال پہلے سعودی عرب نے قطر کے ساتھ تعلقات منقطع کیے اور اتحادیوں کو بھی مقاطعہ پر مجبور کیا۔ اس وقت سعودی عرب اور امارات کے میڈیا نے امیرِ قطر کو محمد مرسی جیسے انجام کی دھمکیاں دیں، دوحہ کو قاہرہ کا رابعہ چوک بنانے کی دھمکیاں دی گئیں جہاں 8 سو سے زائد مصری مظاہرین مارے گئے تھے۔ واشنگٹن میں سعودی عرب کے دوست حلقوں سے قطر کے العدید اڈے سے امریکی فوج واپس بلائے جانے کی دھمکیاں دلوائی گئیں۔

لیکن 2 سال بعد قطر عرب دنیا میں کامیابی کی ایک داستان رقم کر رہا ہے۔ قطر اپنی ضرورت کی خوراک کا بڑا حصہ خود پیدا کر رہا ہے، واشنگٹن میں اس کے دوستوں کی تعداد پہلے سے زیادہ ہے۔ اگرچہ اسے اس پر بڑی رقم خرچ کرنا پڑی، العدید بیس پہلے کی نسبت زیادہ بڑا ہے، الجزیرہ پہلے کی طرح کام کر رہا ہے اور حال ہی میں اس نے جمال خاشقجی کی برسی پر خصوصی نشریات بھی کیں۔

سعودی عرب اور عرب امارات کا لہجہ بھی بدل گیا ہے، ان ملکوں نے قطر کے ساتھ تعلقات کی بحالی کے اشارے دینا شروع کردیے ہیں، ان دونوں ممالک کی ٹیموں نے دوحہ میں کھیلے جانے والے گلف کپ کے میچوں میں حصہ لیا، اس کے باوجود کہ قطر نہ ہی الجزیرہ بند کرنے پر تیار ہے اور نہ ہی اخوان المسلمین سے رابطہ توڑنے کا وعدہ کر رہا ہے۔ سعودی عرب کو مطلوب افراد کی حوالگی کا بھی کوئی اعلان نہیں ہوا۔ قطر کی فوجی اور اقتصادی پالیسیاں بھی سعودی عرب یا گلف کونسل کے مطابق ڈھالنے کا کوئی اشارہ سامنے نہیں آیا۔

ان تمام حالات کی روشنی میں مستقبل میں کیا کچھ ہوتا ہے، اس کے لیے ہم سب کو انتظار کرنا ہوگا۔

جارحانہ سعودی پالیسی بے سود

سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو اندازہ ہوچکا ہے کہ ان کی جارحانہ خارجہ پالیسی سود مند نہیں رہی، ان کی معاشی پالیسیاں بھی توقعات کے مطابق نتائج نہیں دے رہیں، آرامکو کے حصص فروخت کے لیے پیش کیے گئے لیکن توقع کے مطابق ابتدائی طور پر آرامکو کی مارکیٹ ویلیو 2 ٹریلین ڈالر نہیں لگ سکی۔ شہزادہ محمد بن سلمان نے آرامکو کے حصص نیویارک یا لندن کی مارکیٹ میں پیش کرنے کا منصوبہ بنایا تھا لیکن سرمایہ کاروں کی دلچسپی نظر نہ آنے پر ریاض میں شیئرز مارکیٹ کیے گئے اور محمد بن سلمان نے جن سرمایہ کاروں کو گرفتار کرکے ان پر کرپشن کا داغ لگایا تھا اب انہیں ہی یہ شیئرز خریدنے کے لیے کہا جا رہا ہے، کیونکہ سعودی ولی عہد کو رقم کی ضرورت ہے۔

مزید پڑھیے: کیا سعودی بادشاہت کا خاتمہ قریب آگیا؟

جارحانہ خارجہ پالیسی کے نتائج یہ ہیں کہ اردن، عمان اور عراق دُور جاچکے جبکہ مصر بھی مفت تیل بند ہونے پر پہلے جیسا دوست نہیں رہا، اور دوسری طرف ایران قابو میں نہیں آرہا۔

تیل تنصیبات پر حملے ہوئے تو شہزادہ محمد بن سلمان کو شدید دھچکا لگا۔ ولی عہد یہ تصور بھی نہیں کرسکتے تھے کہ ایران یہ جرأت بھی کرسکتا ہے اور اس سے بھی بڑھ کر پریشانی یہ ہوئی کہ امریکا ان حملوں کے بعد حرکت میں نہیں آیا۔ کیونکہ ماضی میں تو امریکا اس سے بہت معمولی واقعات پر بھی جنگ چھیڑ چکا ہے تو ایسے حالات میں سعودی تیل تنصیبات پر حملوں کو کیسے نظر انداز کرسکتا ہے؟ یہ سوال ولی عہد کی سمجھ سے باہر تھے۔

حیران و پریشان ولی عہد نے علاقائی لیڈروں کے ساتھ رابطے کیے تو عراقی وزیرِاعظم عادل عبدالمہدی سمیت سب نے انہیں احساس دلایا کہ غلطی ان کی اپنی ہے۔ شہزادے نے ترکی سے رابطہ ہی نہیں کیا کیونکہ اسے ترکی کا جواب پہلے سے ہی معلوم تھا۔ قطر کے ساتھ مصالحت جارحانہ خارجہ پالیسی پر نظرثانی کا حصہ ہے۔

مصر کے بگڑتے حالات

مصر اور سعودی عرب میں مفت تیل بند ہونے سے دُوری آئی ہے اور مصر چاہتا ہے کہ اسے یہی سہولت اب عراق سے حاصل ہوجائے۔ کیونکہ مصر پریشان ہے اور اس کی پریشان کی وجہ اس کے بڑھتے ہوئے قرضے ہیں، جو ایک سال میں 16 ارب ڈالر سے بڑھ کر اب 108 ارب ڈالر سے بھی زیادہ ہوگئے ہیں۔ مصر میں معاشی بدانتظامی نے بیڑہ غرق کردیا ہے۔ صدر السیسی کی قیادت میں مصر سرمایہ کاروں کے لیے بلیک ہول بن گیا ہے۔ عوام اس قدر بدحال ہیں کہ ایک جلاوطن مزاحیہ اداکار کے کہنے پر بھی مظاہروں کے لیے نکل آتے ہیں۔

فلسطین پر بڑھتا اسرائیلی جبر

فلسطین میں اسرائیلی جبر مزید بڑھ گیا ہے۔ اسرائیل کا دایاں بازو ایک دوسرے پر برتری کے لیے فلسطینیوں کو دبانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور فلسطینیوں کے حقوق سلب کرنا اب اسرائیل میں ایک جائز اور قانونی عمل قرار پایا ہے۔ امریکی صدر کا امن منصوبہ جسے وہ ڈیل آف دی سنچری کہتے ہیں ابھی تک شائع نہیں ہوا لیکن اسرائیلیوں کو علم ہے کہ فلسطینی ریاست کا قیام امریکی پالیسیوں میں شامل نہیں اس لیے وہ مضبوط بنیادوں پر کھڑے ہیں۔

عرب امارات بمقابلہ سعودی

عرب امارات اب اپنے مفادات کو سعودی اتحاد پر ترجیح دے رہا ہے۔ امارات کے قومی سلامتی کے مشیر اور ولی عہد کے چھوٹے بھائی طحنون بن زاید وسط اکتوبر میں تہران کا خفیہ دورہ کرچکے ہیں۔ اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ یہ دورہ سمندر میں 4 تیل ٹینکروں پر حملوں کے بعد ہوا۔ امریکا نے ان حملوں کے بعد ایران پر انگلی اٹھائی لیکن عرب امارات نے حملوں کے فوری بعد اپنی بحریہ کے افسران کو تہران میں ملاقات کے لیے بھیجا۔ طحنون کا دورہ خفیہ رکھا گیا اور تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔

عرب امارات یمن سے فوج واپس بلا چکا ہے اور جنوبی یمن پر اپنے حمایت یافتہ باغیوں کے ذریعے قبضہ برقرار رکھے ہوئے ہے۔ محمد بن سلمان ان حالات میں یمن میں عسکری فتح کی امید چھوڑ کر سمجھوتے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ سوڈان بھی عرب امارات کی پالیسی اپناتے ہوئے نصف سے زیادہ فوجی دستے واپس بلا چکا ہے۔

سعودی ولی عہد کے چھوٹے بھائی خالد بن سلمان نے یمن کی عالمی سطح پر تسلیم شدہ عبد ربہ کی حکومت اور جنوبی یمن پر قابض دھڑے کے درمیان مذاکرات کرائے اور 5 نومبر کو ایک معاہدے پر دستخط بھی ہوئے۔ معاہدے کے مطابق ایک ماہ کے اندر یمن میں نئی حکومت بنائی جائے گی جس کے 24 وزیر ہوں گے اور دونوں دھڑوں کی نمائندگی برابر کی بنیاد پر ہوگی۔ اس کے ساتھ ساتھ دونوں دھڑوں کی فوجیں ضم کردی جائیں گی۔

اومان کے سلطان قابوس حوثی باغیوں اور سعودی عرب کے درمیان صلح کے لیے کردار ادا کر رہے ہیں۔ خالد بن سلمان اور حوثی باغیوں کے درمیان رابطے سعودی تیل تنصیبات پر حملوں کے فوری بعد ستمبر میں شروع ہوئے۔ خالد بن سلمان نے حوثی لیڈر مہدی المشاط کو 2 کمیٹیاں بنانے کی تجویز دی، یعنی ایک سیاسی اورایک فوجی کمیٹی، تاکہ طویل مدتی جنگ بندی اور سفارتی حل پر بات کی جاسکے۔

حوثیوں نے تجویز مان لی اور اپنے نائب وزیرِ خارجہ حسین العزی کو اقوامِ متحدہ کے بحری جہاز پر اومان بھیجا۔ وہاں سے حسین العزی بذریعہ ہوائی جہاز اردن کے دارالحکومت عمان پہنچے، جہاں سعودیوں اور حوثیوں کے درمیان پہلی ملاقات ہوئی۔ اس کے بعد صنعا میں ملاقات ہوئی، جس میں جنگ بندی تجاویز پر زیادہ تفصیلی بات ہوئی۔

ان تجاویز میں ایک سال کی جنگ بندی، زخمیوں اور بیماروں کے انخلا کے لیے صنعا ایئرپورٹ محدود مدت کے لیے کھولنے پر بات ہوئی۔ اس کے بعد ایک اور ملاقات ریاض میں ہوئی جس میں سعودی عرب نے حوثیوں سے مطالبہ کیا کہ وہ ایران کے ساتھ روابط کم کریں۔ ابھی تک یہ ملاقاتیں کسی حتمی نتیجے تک پہنچنے میں کامیاب نہیں ہوسکی ہیں۔

سعودی چاہتے ہیں کہ جنگ بندی غیر معینہ مدت کے لیے ہو جبکہ حوثی مدت طے کرنے کے حق میں ہیں۔ ایران سے رابطے توڑنے کے حوالے سے حوثی کسی جلد بازی کا شکار نہیں کیونکہ ابھی تک وہ ایران سے نقد اور اسلحے کی مدد وصول کر رہے ہیں۔ پھر حوثی ابھی سعودیوں پر مکمل اعتماد بھی نہیں کرتے کہ وہ انہیں حکومت میں مکمل حصہ دیں گے اور مناسب فنڈز بھی فراہم کریں گے۔ حوثیوں کی یمن کی حکومت کے ساتھ پہلی جنگ بھی حکومت میں حصہ اور فنڈز نہ ملنے کی وجہ سے ہوئی تھی۔

واشنگٹن، ریاض اور اسرائیل کے سامنے اصل سوال یہ ہے کہ حوثیوں کے ساتھ کوئی بھی معاہدہ ایران کے ساتھ ان کی کشیدگی میں کس حد تک کمی یا وقفہ لاسکتا ہے؟ اس کے ساتھ یہ بھی پرکھا جا رہا ہے کہ مستقبل میں ایران کس حد تک یمن کو سعودی زیرِ اثر ریاست بننے سے روکنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ایران نے اگرچہ حوثیوں کی حکومت کو تسلیم کرکے تہران میں ان کے نمائندے کو سفیر کا درجہ دے رکھا ہے لیکن ایران جانتا ہے کہ یہ سفارتی حربہ پتھر پر لکیر نہیں۔ حوثیوں اور ایران کا سفارتی رشتہ پہلے بھی کبھی نہیں تھا لیکن تعلقات مضبوط تھے۔

ایران کا یمن سے تعلق اسٹریٹیجک نوعیت کا ہے۔ حوثی حکومت کی صورت انہیں بحیرہ احمر اور آبنائے باب المندب تک رسائی مل سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ایران ایک اور عرب ریاست میں اپنا اثر جما سکتا ہے۔ حوثیوں کو ایران سے فوائد اس سے بھی زیادہ ملے، حوثیوں نے ایران کی مدد سے یمنی حکومت کے خلاف فورس کھڑی کی، یمن کے بڑے حصے پر قبضہ جمایا، سعودی عرب کو محدود کیا اور اپنی سرگرمیوں کے لیے ایران سے رقم لی۔

حوثی اب اس سے زیادہ چاہتے ہیں۔ وہ حکومت میں مکمل حصہ اور تیل کی آمدن کا معقول حصہ چاہتے ہیں جو جنوبی یمن میں پایا جاتا ہے۔اگر سعودی عرب حوثیوں کو حصہ دے دیتا ہے اور معاہدہ ہوجاتا ہے تو ایران کا اثر کم ہوجائے گا اور ایران اور حوثیوں کے درمیان قائم اسٹریٹیجک پارٹنر کا تعلق ختم ہوکر صرف ایک دوست کا رہ جائے گا۔ اگرچہ شہزادہ محمد بن سلمان نے یمن سے مذاکرات کا فیصلہ تاخیر سے کیا لیکن فیصلہ درست ہے جو انہیں واشنگٹن میں دوبارہ مضبوط اتحادی بنا دے گا۔

لبنان کی بگڑتی صورتحال اور اس سے فائدہ اٹھانے کے لیے تیار فریق

آنے والے دنوں میں لبنان خطے میں نئے بحران کے طور پر دکھائی دیتا ہے۔ لبنان امریکا کے لیے اہم ملک ہے لیکن ایران نے لبنان کی سول وار اور 2003ء کے عراق کے اندرونی تنازعات کو استعمال کیا۔ روس بھی لبنان کو بحیرہ احمر میں اپنے اثر و رسوخ کے لیے اہم سمجھتا ہے، بحیرہ احمر میں کردار کے لیے روس شام میں موجود ہے اور لیبیا میں جنرل ہفتار کی مدد کر رہا ہے۔

لبنان کی 3 بندرگاہیں اور آف شور ہائیڈرو کاربن ذخائر پر اگر روس کا کنٹرول ہوگیا تو امریکا کے مقابلے میں یہ روس کی بڑی فتح ہوگی۔ چین بھی لبنان کی بندرگاہوں میں دلچسپی رکھتا ہے۔ لبنان چین کی فائیو جی ٹیکنالوجی کی خاطر بیجنگ کی طرف جھکاؤ بڑھا سکتا ہے۔ لبنان کے ٹیلی کمیونیکیشن شعبہ کے حالات اچھے نہیں ہیں اور اکتوبر میں شروع ہونے والے مظاہروں کی بظاہر وجہ بھی واٹس ایپ پر ٹیکس کا مجوزہ نفاذ ہے۔

لبنان کے اندرونی اور بیرونی قرضے پریشان کن حد تک بڑھ چکے ہیں اور عوام معاشی بدحالی کی وجہ سے موجودہ فرقہ وارانہ سیاسی اسٹیبلشمنٹ کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں، جس کا ثبوت سعد حریری کے استعفیٰ کے بعد ان کی دوبارہ نامزدگی کے امکانات پر احتجاج ہے۔

لبنان کا پوارا سیاسی نظام اس وقت داؤ پر لگا ہوا ہے جس سے فائدہ اٹھانے کے لیے کئی فریق تیار بیٹھے ہیں۔ لبنان کے سنی، شیعہ، مسیحی اور دروز سب سڑکوں پر ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ہم پہلے لبنانی اور بعد میں کچھ اور ہیں۔ حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ بھی اس سیاسی بحران کو ٹالنے میں ناکام رہے ہیں اور ان کی اپیل کے باوجود شیعہ مظاہرین سڑکوں پر موجود ہیں۔ حسن نصراللہ نے ان مظاہروں کو بیرونی قوتوں کی سازش قرار دیا لیکن عوام اب سازشی نظریات کو ماننے کو تیار نہیں۔

لبنان میں مظاہرین پر ہونے والے تشدد میں بھی حزب اللہ کا ہاتھ ہونے کے شبہات ہیں، اگر واقعی حزب اللہ ملوث ہے تو اس کا مطلب ہے کہ ایران اس بدامنی سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کا آغاز کرچکا ہے۔ حزب اللہ اور ایران کا مقابلہ کرنے کے لیے امریکا لبنان کی فورسز کی سرپرستی کرسکتا ہے۔ لبنان کی فورسز کا امریکا کے ساتھ پرانا تعلق ہے، لبنان کی فورسز اب تک بظاہر اس سیاسی جھگڑے سے دُور ہیں لیکن سیاسی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف ہونے والی بغاوت میں امریکا لبنان کی فورسز کو ایک مسیحا کے روپ میں آگے بڑھا سکتا ہے، امریکی سفارت کاری کا سب سے بڑا ہتھیار ہی دفاعی تعاون اور تعلقات ہیں۔