پشاور: پولیس کی حراست میں ایک برس کے دوران 4 ملزمان ہلاک

اپ ڈیٹ 26 دسمبر 2019

ای میل

انہوں نے کہا کہ لاک اپ میں ناخوشگوار واقعات سے نمٹنے کیلئے اورینٹیشن سیشنز منعقد کیے گئے—فائل فوٹو:
انہوں نے کہا کہ لاک اپ میں ناخوشگوار واقعات سے نمٹنے کیلئے اورینٹیشن سیشنز منعقد کیے گئے—فائل فوٹو:

پشاور: گزشتہ ایک برس کے دوران 4 زیر حراست ملزمان کی ہلاکتوں کے واقعات کے بعد سٹی پولیس نے تمام مقامی تھانوں کے لاک اپس کے اندر کلوز سرکٹ ٹیلی ویژن (سی سی ٹی وی) کیمرے نصب کردیے، زندگی بچانے والی ادویات مہیا کیں اور عملے کو ملزمان کی جان بچانے کے لیے تربیت فراہم کی۔

پولیس عہدیداروں نے ڈان کو بتایا کہ یونیورسٹی ٹاؤن، آغا میر جانی، ہشت نگری اور خان رازق شہید تھانوں کے لاک اپس میں زیر حراست ملزمان کی موت کی اطلاع ملی۔

مزیدپڑھیں: کراچی: زیر حراست مشتبہ ملزم پراسرار طور پر ہلاک

ان کا کہنا تھا کہ سروسز ہسپتال کے ڈاکٹروں کے ذریعہ تمام تھانوں کے کلرکوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کی تربیت بھی دی گئی۔

عہدیداروں نے بتایا کہ لاک اپ کی ویڈیو نگرانی، زندگی بچانے والی ادویات کی فراہمی اور تھانوں کے ملازمین کی تربیت کا مقصد زیر حراست ملزمان کی ہلاکتوں کو روکنا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ تھانوں کے کلرک کے لیے لاک اپ میں ناخوشگوار واقعات سے نمٹنے کے لیے اورینٹیشن سیشنز منعقد کیے گئے جبکہ تھانوں کے اندر نمایاں مقامات پر ہیلتھ کیئر ایمرجنسی نمبر آویزاں کیے گئے۔

مزید برآں انہوں نے بتایا کہ ایسی اموات کو روکنے کے لیے تھانوں میں سی سی ٹی وی کیمرے اور زندگی بچانے والی ادویات موجود ہیں۔

علاوہ ازیں عہدیداروں نے بتایا کہ پولیس نے حراست میں اموات کی ایف آئی آر درج کی اور ان سے عدالتی تحقیقات کا حکم دیا تھا۔

ان کے مطابق موبائل فون چوری کے الزام میں زیر حراست فدا محمد کی موت 26 نومبر 2018 کو آغا میر جانی شاہ تھانے کے لاک اپ میں ہوئی تھی جس کے نتیجے میں اس وقت کے ایس ایچ او، انسپکٹر عباد وزیر اور ان کے گن مین راحت شاہ کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: نیب کے زیر حراست ایک اور ملزم کا دورانِِ علاج انتقال

انہوں نے بتایا کہ 'تاہم مقتول کے اہل خانہ نے پولیس افسر کے ساتھ سمجھوتہ کیا اور اس طرح عدالت کے ذریعہ اس معاملے کو ختم کردیا گیا'۔

واضح رہے کہ 2 ستمبر2019 کو ملزم عمران اللہ یونیورسٹی ٹاؤن پولیس اسٹیشن میں مردہ حالت میں پایا گیا تھا۔

عہدیداروں نے بتایا کہ عدالتی تفتیش سے یہ بات سامنے آئی تھی کہ ملزم منشیات کا عادی تھا جو فطری موت کا شکار ہوا جس میں کوئی ملوث نہیں تھا۔

اس کے علاوہ 11 اکتوبر 2019 کولیڈی ریڈنگ ہسپتال میں چوری کے الزام میں زیر حراست سید اجمل شاہ کا خان رازق شہید پولیس اسٹیشن میں انتقال ہوگیا تھا۔

زیر حراست شخص نے مبینہ طور پر ایک نرس کا پرس چوری کیا تھا اور اس کی شناخت ہسپتال کے حفاظتی عملے نے سی سی ٹی وی کیمرے فوٹیج کے ذریعے کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: 'میاں جاوید احمد کی موت سے نیب کا کوئی تعلق نہیں'

پولیس عہدیداروں نے بتایا کہ 11 اکتوبر کو دوپہر 2 بجے کے قریب ملزم کو متعلقہ پولیس اسٹیشن کے حوالے کردیا گیا جب کہ دیگر زیر حراست افراد نے تقریبا ساڑھے 7بجے ڈیوٹی پولیس کو اطلاع دی کہ ملزم کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔

بعدازاں ملزم کو ایل آر ایچ منتقل کردیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دے دیا۔

عہدیداروں نے بتایا کہ لاش پوسٹ مارٹم کے لیے خیبر میڈیکل کالج منتقل کردی گئی جس کی رپورٹ کا ابھی تک انتظار ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ متوفی مبینہ طور پر منشیات کا عادی ہونے کے علاوہ دل کا مریض تھا اور اس سے قبل بھی موبائل فون چھیننے کے معاملے میں اسے جیل ہوئی تھی۔

علاوہ ازیں یکم اکتوبر 2019 کو ایک رہائشی پر تشدد کے الزام میں نوید کو پولیس اسٹیشن میں حراست میں لیا گیا تھا تاہم بعد ازاں ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دے دیا تھا۔

متوفی اور اس کے بھائی ظاہر اللہ کو جمیل چوک کے مشتاق کی شکایت پر گرفتار کیا گیا۔

مزیدپڑھیں: سرگودھا یونیورسٹی کے پروفیسر کا ’جیل‘ میں انتقال

بعد میں ملزم کے اہل خانہ نے شکایت کنندہ مشتاق اور اس کے بھائی احمد گل کے خلاف اس کے قتل کا مقدمہ درج کیا اور دعوی کیا کہ وہ (ملزم) کسی چیز سے ٹکرایا جس سے اس کے سینے میں تکلیف پہنچی۔

پشاور سٹی پولیس آفیسر محمد علی گنڈا پور نے بتایا کہ پولیس کو حراستی اموات کے سلسلے میں کوئی رعایت نہیں ہوگی اور متعدد اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔


یہ خبر 26 دسمبر 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی