شہریت قانون پر بھارت کو عالمی سطح پر تنہائی کا سامنا ہوگا، سابق سیکریٹری خارجہ

اپ ڈیٹ 04 فروری 2020

ای میل

اگر عالمی میڈیا کو دیکھیں تو بھارت سے متعلق رائے عامہ تبدیل ہوگئی ہے، شیو شنکر مینن — فائل فوٹو: رائٹرز
اگر عالمی میڈیا کو دیکھیں تو بھارت سے متعلق رائے عامہ تبدیل ہوگئی ہے، شیو شنکر مینن — فائل فوٹو: رائٹرز

نئی دہلی: بھارت کے سابق سیکریٹری خارجہ اور پاکستان میں سابق بھارتی سفیر شیو شنکر مینَن نے خبردار کیا ہے نریندر مودی کی حکومت کی جانب سے لوگوں کو الگ کرنے اور مذہب کی بنیاد پر شہریت دینے کے اقدام سے بھارت کو عالمی سطح پر تنہائی کا سامنا ہوگا۔

بھارت کے سابق سیکریٹری خارجہ نے وزیر داخلہ امیت شاہ کے حالیہ خطاب کے بعد مذکورہ بیان دیا۔

امیت شاہ نے راجستھان میں ایک جلسے سے خطاب میں کہا تھا کہ ان کی حکومت متنازع شہریت ترمیمی ایکٹ (سی اے اے) سے ایک انچ پیچھے نہیں ہٹے گی۔

مزید پڑھیں: بھارت: شہریت قانون کے خلاف جامعہ دہلی میں شدید احتجاج، 100 سے زائد زخمی

نئی دہلی میں کونسٹیٹیوشنل کنڈکٹ گروپ اور کاروانِ محبت کی جانب سے منعقد کیے گئے عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے شیو شنکر مینن نے کہا کہ 'یہ کشمیر سمیت سلسلہ وار کارروائیوں کا مجموعی اثر ہے، ہمیں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہم تنہا ہیں، وزیر خارجہ نے امریکی قانون سازوں سے ملاقات منسوخ کردی تھی'۔

شہریت ترمیمی ایکٹ اور نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز (این آر سی) کے عالمی نتائج پر بات کرتے ہوئے انہوں نے بھارت کے مستقبل کے حوالے سے شدید تشویش کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ 'اگر عالمی میڈیا کو دیکھیں تو بھارت سے متعلق رائے عامہ تبدیل ہوگئی ہے، یہ خود سے عائد کیا گیا مقصد ہے'۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت میں متنازع بل پر ہنگامے: امریکا، برطانیہ کا اپنے شہریوں کیلئے سفری انتباہ

سابق سیکریٹری خارجہ نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہاں تک کہ بھارت کے دوست ممالک بھی ملک کے اندرونی معاملات سے متعلق نامعقول انداز میں بات کر رہے ہیں۔

شیو شنکر مینن نے کہا کہ 'بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ نے کہا کہ انہیں آپس میں لڑنے دو، اگر ہمارے دوست ایسا محسوس کرتے ہیں تو ہمارے مخالفین کو کیسا محسوس کرنا چاہیے'۔

انہوں نے کہا کہ یہاں تک کہ کشمیر کا معاملہ جو 1971 سے اقوام متحدہ میں غیرفعال تھا وہ بھی فعال ہوگیا ہے۔


یہ خبر 4 جنوری 2020 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔