وزیراعظم کی وزیراعلیٰ پنجاب کو ناراض ارکان اسمبلی کے تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی

اپ ڈیٹ 26 جنوری 2020

ای میل

وزیراعظم نے وزیراعلیٰ پنجاب سے ملاقات کی— فوٹو: عدنان شیخ
وزیراعظم نے وزیراعلیٰ پنجاب سے ملاقات کی— فوٹو: عدنان شیخ

وزیراعظم عمران خان نے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو ناراض ارکان اسمبلی کے تحفظات دور کرنے اور جائز مطالبات کو پورا کرنے کی یقین دہانی کروادی۔

لاہور کے ایک روزہ دورے کے دوران وزیراعظم عمران خان نے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سے ون آن ون ملاقات کی۔

علاوہ ازیں وزیراعظم نے وزیراعلیٰ سیکریٹریٹ میں پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی سے بھی علیحدہ ملاقات کی۔

وزیراعلیٰ پنجاب سے ملاقات میں صوبہ پنجاب کی مجموعی صورتحال، عوام الناس کو سہولیات کی فراہمی اور ترقیاتی امور کے حوالے سے گفتگو ہوئی۔

علاوہ ازیں وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار نے ناراض اراکین اسمبلی کے تحفظات سے وزیر اعظم عمران خان کو آگاہ کیا اور گزشتہ روز ناراض اراکین اسمبلی کے ساتھ ہونے والی ملاقات کی بریفنگ دی۔

جس پر وزیر اعظم نے ناراض ارکان اسمبلی کے تحفظات دور کرنے اور جائز مطالبات کو پورا کرنے کی یقین دہانی کروائی۔

مزیدپڑھیں: 'وزیراعظم عمران خان اور وزیراعلیٰ عثمان بزدار کہیں نہیں جارہے'

وزیراعلیٰ پنجاب نے وزیر اعظم عمران خان کو آٹے، گندم اور چینی بحران پر بریفنگ دی، انہوں نے کہا کہ پنجاب میں آٹے اور گندم کا کوئی بحران نہیں مصنوعی قلت پیدا کرنے والوں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی گئی۔

انہوں نے کہا کہ مصنوعی مہنگائی پیدا کرنے والوں کے خلاف پرائس کنٹرول کمیٹیوں نے فعال کردار ادا کیا ہے، فلور ملوں اور مہنگے داموں فروخت کرنے والی چکیوں کو جرمانے کئے اور لائسنس معطل کیے گئے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ملاقات سے آگاہ ذرائع نے بتایا کہ وزیراعظم نے عندیہ دیا کہ وہ وزیر اعلیٰ پنجاب کے خلاف سازشیں کرنے والوں سے آگاہ ہیں لیکن اس پر مزید کچھ نہیں کہا۔

ذرائع نے بتایا کہ وزیراعظم نے کہا کہ اگر موجودہ وزیراعلیٰ پنجاب کو تبدیل کیا گیا تو نئے وزیراعلی ایک مہینہ بھی نہیں رہ سکیں گے۔

ایک اور ذرائع نے کہا کہ کوئی بھی اِن ہاؤس تبدیلی لانا تقریبا ناممکن ہوگا کیونکہ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار ایک ووٹ کی اکثریت کے ساتھ منتحب ہوئے جب پی ٹی آئی کے ارکان صوبائی اسمبلی،اتحادیوں اور 3 آزاد ارکان نے ان کے حق میں ووٹ دیا تھا۔

ذرائع نے بتایا کہ ’اب پارٹی کے ارکان صوبائی اسمبلی اور اتحادیوں کی صورتحال اتنی ہموار نہیں جتنی تھی‘۔

وزیراعظم عمران خان نے پنجاب حکومت کو پہلے مرحلے میں دیہاتوں میں کونسل انتخابات کے انعقاد کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کی۔

انہوں نے کہا کہ بلدیاتی انتخابات سے عوام کے مسائل کو بنیادی سطح پر حل کرنے میں مدد ملے گی۔

علاوہ ازیں لاہور کے دورے کے دوران وزیراعظم عمران خان سے پنجاب سے منتخب پاکستان تحریک انصاف کے قومی اسمبلی کے ارکان نے بھی ملاقات کی۔

یہ بھی پڑھیں: 'وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے پنجاب کو آٹے کے بحران سے بچالیا'

ملاقات کے دوران وزیراعظم نے کہا کہ ملاقات کا مقصد آپ کے متعلقہ حلقوں میں عوام الناس کو درپیش مسائل اور ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کے حوالے سے مشکلات کا ادراک اور ان کے فوری حل کے لیے ہدایات جاری کرنا ہے۔

ملاقات کے دوران اراکین اسمبلی نے اپنے متعلقہ حلقوں میں عوام کو درپیش سماجی و ترقیاتی مسائل کے حل میں درپیش مشکلات سے آگاہ کیا۔

علاوہ ازیں ملاقات میں صوبے میں ڈویژن کی سطح پر سالانہ ترقیاتی پروگرام کے حوالے سے منتخب نمائندگان اور صوبائی حکومت کے درمیان مشاورت کے حوالے سے گفتگو بھی کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ ترقیاتی کاموں کے حوالے سے کسی علاقے کو نظر انداز نہیں کیا جائے گا، ارکان اسمبلی اپنے حلقوں میں عوام سے قریبی رابطہ رکھیں اور ان کے مسائل کے ترجیحی بنیادوں پر حل کے لیے کوشاں رہیں۔

وزیراعظم عمران خان نے صوبائی حکومت، خصوصی طور پر انتظامیہ اور منتخب نمائندگان کے مابین ایک مربوط اور موثر طریقہ کار کی اہمیت پر زور دیا اور اس ضمن میں صوبائی حکومت کو ہدایات جاری کیں۔

مزیدپڑھیں: پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی کا عثمان بزدار پر مکمل اعتماد کا اظہار

عمران خان نے کہا کہ ہمارے منشور کا بنیادی عنصر کرپشن کا خاتمہ ہے، ایک ’منظم مافیا‘ معاشرے میں حکومت کے خلاف منفی تاثر کو فروغ دے رہی ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ یہ وہی عناصر ہیں جو گزشتہ دہائیوں سے اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنے کے لیے عوام کو گمراہ کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جان بوجھ کر ہر روز افراتفری کی باتیں کی جاتی ہیں تاکہ جو مثبت انتظامی تبدیلیاں ہم لے کر آ رہے ہیں ان کو ناکام بنایا جائے، پنجاب کی تاریخ میں پہلی مرتبہ بڑے جرائم پیشہ عناصر کے خلاف اور قبضہ مافیا قانون کی گرفت میں آئی ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ میں واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ ہم ہرگز دباؤ میں نہیں آئیں گے، ہم نے ہمیشہ چیلنجز کا سامنا کیا ہے اور آئندہ بھی کریں گے۔

عمران خان نے کہا کہ جب ہم نے حکومت سنبھالی تو ملک کو تاریخی خسارے کا سامنا تھا، روپے کی قدر مسلسل گر رہی تھی، ملک قرضوں میں ڈوبا ہوا تھا، آج صورتحال تبدیل ہو چکی ہے اور روپے کی قدر میں توازن آگیا ہے اور آج دنیا پاکستان کو سرمایہ کاری کے حوالے سے پرکشش ملک کے طور پر دیکھ رہی ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ڈیووس میں جس طرح ہمیں پذیرائی ملی ہے اس کی ماضی میں نظیر نہیں ملتی، ڈیووس میں دنیا کی بڑی سرمایہ کار کمپنیوں کے وفد شریک ہوتے ہیں، ان سب نے کہا کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے بے پناہ مواقع اور صلاحیت ہے۔

بعدازاں وزیراعظم نے وزیراعلیٰ پنجاب اور صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد سے ملاقات کی اور صحت انشورنس کارڈز، صحت انصاف کارڈز کی تقسیم سمیت ترقیاتی منصوبوں پر بات چیت کی۔

علاوہ ازیں یہ بات بھی علم میں آئی کہ وزیراعظم نے ملک محمد ڈوگر اور ایم این اے عامر محمود کیانی کو منتخب نمائندوں اور پنجاب حکومت کے درمیان بہتر تعاون کے لیے معاون مقرر کیا ہے۔