مواخذے کی کارروائی:آخری لمحات میں گواہی کیلئے بولٹن کی آمد پر ٹرمپ سیخ پا

اپ ڈیٹ 29 جنوری 2020

ای میل

مذکورہ اطلاعات منظر عام پر آنے کے بعد ٹرمپ نے جان بولٹن کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا —فائل فوٹو: اےایف پی
مذکورہ اطلاعات منظر عام پر آنے کے بعد ٹرمپ نے جان بولٹن کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا —فائل فوٹو: اےایف پی

امریکی صدر کے مواخذے کے آخری لمحات میں سابق قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن کی سینیٹ میں گواہی کے لیے آمد پر ڈونلڈ ٹرمپ سیخ پا ہوگئے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق جان بولٹن ٹرمپ انتظامیہ میں گزشتہ سال ستمبر تک بطور مشیر فرائض انجام دے رہے تھے۔

مزید پڑھیں: امریکی سینیٹ میں ٹرمپ کے مواخذے کیلئے دلائل کا آغاز

جان بولٹن کی اچانک آمد کے بعد امریکی صدر کو مواخذے سے بچانے کی ریپبلکن کی کوششیں متاثر ہو سکتی ہیں۔

جان بولٹن کی گواہی کے بعد سینیٹرز نے پہلی مرتبہ امریکی صدر پر الزامات لگانے والوں اور ٹرمپ کے وکلا سے سخت سوالات کیے۔

واضح رہے کہ جان بولٹن کی آنے والی کتاب کے مسودے میں دعوی کیا گیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرین کی فوجی امداد براہ راست اس شرط سے مشروط کی کہ پہلے یوکرین کی حکومت امریکی صدر کے سیاسی حریفوں خاص طور پر جو بائیڈن کے خلاف تحقیقات کرے۔

مذکورہ اطلاعات منظر عام پر آنے کے بعد ٹرمپ نے جان بولٹن کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔

اس ضمن میں ٹرمپ نے ٹوئٹ میں کہا کہ جان بولٹن نے قومی سلامتی کے مشیر بننے رہنے کی بھیک مانگی تھی لیکن انہیں برطرف کرنے کا فیصلہ ٹھیک تھا۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی ایوان نمائندگان میں ڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذے کی 2 قراردادیں منظور

واضح رہے کہ جان بولٹن نے وائٹ ہاؤس میں قومی سلامتی کے مشیر کی حیثیت سے 17 ماہ فرائض انجام دیے اور انہیں گزشتہ برس ستمبر میں برطرف کیا گیا تھا۔

ٹرمپ نے کہا کہ جان بولٹن ایک ایسا شخص ہے جو کئی برس پہلے اقوام متحدہ میں سفیر کے لیے نامزد نہیں ہوسکا تھا اس کے بعد سے کسی ادارے کے لیے نامزد نہیں ہوسکا۔

ٹرمپ نے کہا کہ میں نے تجربہ کار سفارت کار اور سیاسی معاملات میں جنگ کو اہمیت دینے والے کو مخالفت کے باوجود وائٹ ہاؤس میں قومی سلامتی کا مشیر نامزد کیا۔

امریکی صدر نے کہا کہ 'جان بولٹن کو اس لیے برطرف کردیا گیا کہ اگر میں ان کی بات مان لیتا تو ہم اس وقت تک ایک اور عالمی جنگ میں مصروف ہوتے'۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ 'جان بولٹن نے وائٹ ہاؤس سے جانے کے بعد فوراً ہی ایک گندی اور جھوٹی کتاب لکھی، سلامتی امور کی تمام خفیہ معلومات، وہ کس کے لیے کر رہا ہے'۔

یاد رہے کہ گزشتہ ماہ ڈیموکریٹس کی اکثریت پر مبنی ایوان نمائندگان نے اختیارات کے ناجائز استعمال اور تحقیقات میں کانگریس کی راہ میں رکاوٹ بننے پر ڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذے کی کارروائی مکمل کی تھی۔

امریکی صدر کو تقریباً یقین ہے کہ وہ سینیٹ سے بری ہوجائیں گے جہاں ریپبلکنز کو 2 تہائی اکثریت حاصل ہے، لیکن یہ ٹرائل ان کے دوبارہ انتخاب پر کس طرح اثر انداز ہوگا یہ بات واضح نہیں۔

مزید پڑھیں: سینیٹ میں ٹرمپ کے مواخذے پر دلائل سننے کی تیاری مکمل

اس ضمن میں سوئٹزر لینڈ میں موجود ڈونلڈ ٹرمپ خاصے پراعتماد نظر آئے اور صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ڈیموکریٹس کو اتنے شواہد نہیں ملے کہ انہیں مجرم قرار دے کر عہدے سے ہٹا سکیں۔