حکومت کا ’منی بجٹ‘ پر بات سے گریز، ایف بی آر کا نئے ٹیکس لگانے سے انکار

اپ ڈیٹ 07 فروری 2020

ای میل

آئی ایم ایف سے پالیسی مذاکرات 10 فروری کو شروع ہوں گے— فائل فوٹو: اے پی
آئی ایم ایف سے پالیسی مذاکرات 10 فروری کو شروع ہوں گے— فائل فوٹو: اے پی

اسلام آباد: بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے وفد کی جانب سے کارکردگی کا جائزہ مکمل ہونے کے بعد فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے اعلیٰ حکام نے رواں مالی سال کی پہلی 2 سہ ماہیوں میں محصولات کی وصولی میں کمی کو دور کرنے کے لیے 'منی بجٹ' سے متعلق کسی بات چیت کو مسترد کردیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق سرکاری ذرائع نے بتایا کہ ’ہم دوسری سہ ماہی کے لیے اپنے اکثر اہداف مکمل کرچکے ہیں‘۔

انہوں نے ٹیکس لگانے اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے کو پریشان کن قرار دیا جو بات چیت کی توجہ کا مرکز ہے۔

تاہم سرکاری ذرائع نے کہا کہ ان ملاقاتوں کے دوران کسی منی بجٹ پر کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت نہیں ٹیکسز جیسی کوئی چیز نہیں ہے اور مزید کہا کہ یہ افواہیں سنی سنائی باتوں پر مبنی ہیں۔

مزید پڑھیں: مالی خسارے کی وجہ سے حکومت کو آئی ایم ایف کی 'سخت نظر ثانی' کا سامنا

ذرائع نے بتایا کہ آئی ایم ایف سے بات چیت کی توجہ اب تک صرف گزشتہ سہ ماہی کے کارکردگی کے جائزے پر مرکوز تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ پالیسی مذاکرات جس میں اگلی سہ ماہی کے لیے بینچ مارکس طے کیے جائیں گے وہ اب تک شروع نہیں ہوئے تو ’منی بجٹ‘ کی بات قبل از وقت ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ آئی ایم ایف نے رواں مالی سال کی دوسری سہ ماہی میں 105 ارب روپے کا ریونیو ہدف پورا نہ ہونے کے باوجود ایف بی آر کی کارکردگی کا ’تسلی بخش‘ جائزہ لیا۔

10 فروری سے آئی ایم ایف کا وفد پاکستانی ٹیم کے ساتھ پالیسی مذاکرات کا آغاز کرے گا جو 13 فروری کو مکمل ہوں گے، اس عرصے کے دوران اگلی (تیسری) سہ ماہی کے لیے حکام کے ساتھ بینچ مارکس طے کیے جائیں گے جنہیں پھر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے بورڈ کو پیش کیا جائے گا۔

آئی ایم ایف کو آگاہ کردیا گیا ہے کہ ایف بی آر 52 کھرب 70 ارب روپے کے ہدف کے قریب بھی نہیں پہنچ سکے گا۔

ملاقاتوں سے آگاہ عہدیدار نے ڈان کو بتایا کہ ہم یہ ہدف پورا نہیں کرسکتے، ہم مانتے ہیں کہ معیشت پہلے ہی سست روی کا شکار ہے اور ہم نے انہیں بتادیا ہے کہ مزید ٹیکسز کا اضافہ نہیں کیا جاسکتا کیونکہ ان سے پاکستان میں کاروبار بند ہوجائیں گے۔

آئی ایم ایف ٹیکس ریونیو ہدف میں مزید کمی پر اتفاق کرتی ہے یا نہیں یہ فیصلہ مذاکرات کے پالیسی مرحلے میں کیا جائے گا جو اب شروع ہونے والے ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق گزشتہ برس کے 38 کھرب 50 ارب روپے کے مقابلے میں ایف بی آر کی ریونیو وصولی 48 کھرب روپے کے قریب ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں: آئی ایم ایف کا وفد بیل آؤٹ پیکج پر کارکردگی کا جائزہ لینے پاکستان پہنچ گیا

عہدیدار نے کہا کہ یہ ایک برس میں ایک کھرب روپے کا اضافہ ہوگا جو ریونیو کی وصولی میں سب سے زیادہ سالانہ وصولی ہوگی۔

یہ دعویٰ مشیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ شیخ کی جانب سے بھی گزشتہ شب ایک ٹی وی شو میں کیا گیا تھا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ مالی سال کے باقی مہینوں میں اہداف کو پورا کرنے کے لیے حکومت نان ٹیکس ریونیوز کی جانب دیکھ رہی ہے تاہم میزبان کی جانب سے ’منی بجٹ‘ کے سوال پر انہوں نے جواب دینے سے گریز کیا۔

منی بجٹ کے امکانات سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا تھا کہ اس ملک میں منی بجٹ کا لفظ بہت لاپروائی سے استعمال کیا جاتا ہے۔

مشیر خزانہ نے کہا تھا کہ معاشی انتظامیہ کا مطلب یہ نہیں کہ بجٹ، سال میں ایک مرتبہ دیا جائے اور پھر آپ بیٹھ جائیں یہ ایک مسلسل جاری رہنے والا پروگرام ہے کہ جب بھی کوئی کمزوری ہو آپ اسے حل کریں، جب بھی کوئی مسئلہ ہو آپ اسے صحیح کریں۔

تاہم مشیر خزانہ نے مستقبل قریب میں ریونیو شارٹ فال کو دور کرنے کے لیے نئے ٹیکس اقدامات لینے سے متعلق براہ راست کوئی جواب دینے سے گریز کیا۔