وکلا تنظیموں کا سوشل میڈیا ریگولیشن پر اظہار تشویش

15 فروری 2020

ای میل

یہ قواعد اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بغیر خفیہ طریقے سے بنائے گئے—فائل فوٹو: ڈان
یہ قواعد اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بغیر خفیہ طریقے سے بنائے گئے—فائل فوٹو: ڈان

اسلام آباد: وکلا برادری کی نمائندگی کرنے والی اعلیٰ تنظیموں نے حکومت کی جانب سے اظہار رائے کی آزادی اور آن لائن شہریوں کے ڈیجیٹل حقوق پر قدغن لگانے اور میڈیا کو ہراساں کرنے کے لیے تجاویز پیش کرنے کی رپورٹس پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق پاکستان بار کونسل (پی بی سی) کے نائب چیئرمین عابد ساقی اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن (ایس سی بی اے) کے صدر سید قلب حسن نے کہا کہ سیٹیزن پروٹیکشن (اگینسٹ آن لائن ہارم) رولز 2020 کا مقصد سوشل میڈیا کو کنٹرول کرنا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ قواعد اسٹیک ہولڈرز مثلاً وکلا برادری، میڈیا اور شہریوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں سے مشاورت کے بغیر خفیہ طریقے سے بنائے گئے۔

یہ بھی پڑھیں: ڈیجیٹل کمپنیوں کا حکومت سے آن لائن ریگولیشن پر نظرثانی کا مطالبہ

عابد ساقی کا کہنا تھا پی بی سی کا ماننا ہے کہ بادی النظر میں یہ قواعد آزادی اظہار کو روکنے، شہریوں کی پرائیویسی پر حملہ کرنے اور آن لائن معلومات تک ان کی رسائی محدود کرنے کے لیے تجویز کیے گئے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ تجاویز نہ صرف آئین کی دفعہ 14، 19 اور 19 (اے) سے متصادم ہیں بلکہ شہری اور سیاسی حقوق کے بین الاقوامی کنوینشن کے بھی خلاف ہے جس پر پاکستان نے دستخط کر رکھے ہیں۔

عابد ساقی کا کہنا تھا کہ پی بی سی کو تشویش ہے کہ الیکٹرونک کرائم ایکٹ کی طرح جسے برقی جرائم کی روک تھام کے لیے لایا گیا تھا لیکن اصل میں آن لائن اظہار رائے پر قدغن عائد کرنے کے لیے استعمال کیا گیا، سوشل میڈیا سے متعلق ان قواعد کا مقصد بھی آن لائن مواد اور شہریوں کو آن لائن نقصانات سے بچانے کے بجائے صارفین کے درمیان روابط پر ریاست کو مزید کنٹرول فراہم کرنا ہے۔

مزید پڑھیں: حکومت نے سوشل میڈیا ریگولیٹ کرنے کے قواعد و ضوابط کی منظوری دے دی

پی بی سی کے نائب چیئرمین نے کہا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو اپنے آپ کو رجسٹر کروانے، مقامی سطح پر دفتر قائم کرنے اور مقامی قوانین پر عمل کروانے کا نتیجہ سائبر اسپییس کی بے انتہا آن لائن سینسر شپ کی صورت میں نکلے گا۔

بار کونسل نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ یہ آمرانہ قواعد واپس لے کیوں کہ سوشل میڈیا کی ریگولیشن کی آڑ میں ان قواعد جیسے اقدامات سے قوم کو تکلیف پہنچتی ہے۔

دوسری جانب سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر سید قلب حسن، صحافتی اداروں پر ’غیر ضروری اور ناجائز پابندیاں‘ لگانے پر حکومت پر برس پڑے۔

یہ بھی پڑھیں: وفاقی حکومت کا سوشل میڈیا کی نگرانی کرنے کا فیصلہ

ان کا کہنا تھا کہ ایس بی سی اے کو یقین محکم ہے کہ میڈیا کے آزادانہ اور منصفانہ طور پر کام کرنے کے بغیر حقیقی جمہوریت کا کوئی تصور نہیں کیوں کہ میڈیا ریاست کا ریاست کا چوتھا ستون سمجھا جاتا ہے اور ہمیشہ انتہائی اہم کردار ادا کرتا ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے حکومت سنبھالنے سے لےکر اب تک پیمرا کا کردار متنازع ہے اور اس کی جانبداری مجروح ہونے کے حوالے سے سوالات اٹھتے ہیں۔