'میں نے کبھی فاطمہ پر ہاتھ نہیں اٹھایا'

اپ ڈیٹ 27 فروری 2020

ای میل

فاطمہ نے گزشتہ سال محسن عباس حیدر پر سوشل میڈیا پر تشدد کا الزام لگایا تھا — فوٹو: فیس بک
فاطمہ نے گزشتہ سال محسن عباس حیدر پر سوشل میڈیا پر تشدد کا الزام لگایا تھا — فوٹو: فیس بک

پاکستان کے نامور اداکار و گلوکار محسن عباس حیدر گزشتہ چند سالوں سے میڈیا کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں جس کی وجہ ان کا کام نہیں بلکہ ذاتی زندگی ہے۔

محسن عباس حیدر اور ان کی سابق اہلیہ فاطمہ ثنا سہیل کے درمیان جاری تنازع کسی سے چھپا ہوا نہیں اور اب اداکار نے اپنے ایک انٹرویو میں اس حوالے سے کھل کر بات بھی کی۔

محسن عباس حال ہی میں وسیم بادامی کے شو کا حصہ بنے جہاں انہوں نے انکشاف کیا کہ اب ان کی زندگی پہلے سے بہت بہتر گزر رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 'زندگی اب پہلے سے بہتر گزر رہی ہے، مجھ پر جو الزام تھے وہ تمام کیسز ختم ہوچکے ہیں، عدالت میں صرف ایک شق 506 پر بحث جاری ہے'۔

اپنے بیٹے کو ماہانہ خرچ دینے کے سوال ہر انہوں نے کہا کہ 'ماہانہ خرچ دینے کے لیے میں پہلے سے تیار تھا اور فاطمہ سے اس حوالے سے پہلے ہی بات کرچکا تھا اور ان سے بات کرنے کے اگلے ہی روز عدالت کا نوٹس آگیا کہ مجھے ہر ماہ 50 ہزار روپے اپنے بیٹے کے لیے دینے ہوں گے'۔

گلوکار نے اپنی اہلیہ کی جانب سے لگائے گئے الزامات پر کہا کہ 'میرا غصہ بہت تیز تھا لیکن میں نے کبھی فاطمہ پر ہاتھ نہیں اٹھایا'۔

اپنے انٹرویو میں انہوں نے گوہر رشید اور دعا ملک کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ میری نظر میں وہ دونوں کوئی بڑے نام نہیں، انہوں نے اس صورتحال سے فائدہ اٹھانے کی بھرپور کوشش کی۔

خیال رہے کہ محسن عباس حیدر نے ماضی میں یہ انکشاف بھی کیا تھا کہ وہ ڈپریشن میں بھی مبتلا ہوچکے ہیں۔

اس حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ 'میں نے بہت جدوجہد کی ہے، کراچی میں کئی سال اکیلے رہا، میں نے اپنی والدہ کو کھو دیا، میری ماں نے مجھے بہت لاڈ سے پالا تھا، اگر وہ ہوتی تو یہ سب دیکھ کر دوبارہ مر جاتی، اس لیے شاید جو ہوتا ہے اچھے کے لیے ہوتا ہے'۔

انہوں نے مزید کہا کہ 'میری ماں مجھ سے بہت مطمئن ہوکر اس دنیا سے گئی ہیں، ان کے جانے کے بعد میں لاوارث ہوچکا ہوں، انشااللہ میں اپنی والدہ سے جلد ملوں گا'۔

اپنی بیٹی کے انتقال پر اداکار و گلوکار نے کہا کہ 'میری پروفیشنل زندگی ہمیشہ بہت کامیاب رہی، لیکن ذاتی زندگی میں بہت تکلیف اٹھائی، میری بیٹی نے میرے ہاتھوں میں جان دی تھی'۔

محسن عباس حیدر کے مطابق انہیں اپنی زندگی سے کوئی پچھتاوا نہیں۔

اپنی سابق اہلیہ فاطمہ ثنا سہیل کے لیے پیغام دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 'میں بس یہی کہنا چاہتا ہوں کہ وہ خوش رہیں اور اب وہ کریں جو وہ ہمیشہ سے کرنا چاہتی تھی'۔

محسن عباس اور فاطمہ سہیل کے تنازع کا پس منظر

خیال رہے کہ گزشتہ سال 20 جولائی کو فاطمہ سہیل نے فیس بک پر ایک پوسٹ کے ذریعے محسن عباس حیدر پر جنسی تشدد کرنے اور شادی شدہ ہونے کے باوجود نازش جہانگیر نامی ماڈل سے تعلقات رکھنے کا الزام لگایا تھا اور محسن کے خلاف مقدمہ لڑنے کا اعلان کیا تھا۔

فاطمہ کے محسن پر الزام کے بعد 2 اداکار دعا ملک اور گوہر رشید نے سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا کہ وہ اس سب سے آگاہ تھے تاہم فاطمہ کے منع کرنے کے باعث اب تک خاموش رہے جبکہ کئی اور نامور شخصیات بھی فاطمہ سہیل کے سپورٹ میں سامنے آئیں۔

بعدازاں محسن عباس حیدر نے لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ان کی اہلیہ نے ان پر جھوٹا الزام لگایا ہے اور طلاق ہی واحد راستہ رہ گیا ہے۔

دوسری جانب ماڈل نازش جہانگیر نے بھی سوشل میڈیا پر فاطمہ کی جانب سے لگائے الزامات کو بےبنیاد قرار دیا تھا۔

اس کے بعد محسن عباس اور فاطمہ سہیل نے ایس پی کینٹ لاہور کے دفتر میں اپنے، اپنے بیانات ریکارڈ کرائے۔

بعدازاں فاطمہ کی جانب سے الزامات کے بعد محسن عباس حیدر کو دنیا ٹی وی کے شو ‘مذاق رات’ سے نکالتے ہوئے چینل نے اداکار سے لاتعلقی کا اعلان کیا۔

اہلیہ کی جانب سے الزام لگائے جانے کے بعد لاہور کے ڈیفنس پولیس اسٹیشن میں محسن کے خلاف ایف آئی آر بھی درج کی گئی، جس کے بعد محسن عباس نے لاہور کی سیشن عدالت سے عبوری ضمانت کی استدعا کی جسے عدالت نے 50 ہزار روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض منظور کرلیا جبکہ بعدازاں ان کی عبوری ضمانت میں 16 اگست تک توسیع بھی کی گئی۔

اس دوران یہ خبریں بھی سامنے آئیں کہ محسن عباس اور نازش جہانگیر بہت جلد شادی کے بندھن میں بندھنے والے ہیں۔

بعدازاں فاطمہ سہیل نے محسن عباس سے خلع لینے کا فیصلہ کرتے ہوئے لاہور کے فیملی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔

2019 ستمبر میں لاہور کے فیملی کورٹ نے محسن عباس حیدر اور فاطمہ سہیل کو خلع کی ڈگری جاری کردی تھی۔

محسن عباس اور فاطمہ سہیل کا تعلق

محسن عباس کی شادی فاطمہ سہیل سے 2015 میں ہوئی تھی۔

2016 میں محسن عباس حیدر کی اپنی اہلیہ سے علحیدگی کی خبریں بھی سامنے آئی تھیں تاہم اداکار نے خاموشی اختیار کی جبکہ بعدازاں ان خبروں کو بےبنیاد قرار دیا۔

2017 میں اداکار کے ہاں پہلی بیٹی کی پیدائش ہوئی تھی جس کا نام انہوں نے ماہ وین عباس رکھا تھا۔

البتہ اس ہی سال دسمبر میں اداکار کی بیٹی کا انتقال ہوگیا تھا، جس کا اعلان بھی انہوں نے سوشل میڈیا پر کیا تھا۔

رواں سال 20 مئی کو ان کے گھر بیٹے کی پیدائش ہوئی جس کا اعلان بھی اداکار نے سوشل میڈیا پر کیا تھا۔