وزیراعظم، امریکا-طالبان معاہدے میں قطر کے کردار کے معترف

اپ ڈیٹ 28 فروری 2020

ای میل

دیوان امیری آمد پر قطر کے امیر  نے وزیر اعظم اور ان کے وفد کا خیر مقدم کیا — فوٹو: ثنا اللہ
دیوان امیری آمد پر قطر کے امیر نے وزیر اعظم اور ان کے وفد کا خیر مقدم کیا — فوٹو: ثنا اللہ
عمران خان کا یہ دوسرا دورہ قطر تھا — فوٹو: ڈان نیوز
عمران خان کا یہ دوسرا دورہ قطر تھا — فوٹو: ڈان نیوز

وزیراعظم عمران خان نے دوحہ میں امیر قطر شیخ تمیم بن حمد الثانی سے ملاقات کرتے ہوئے امریکا اور طالبان کے درماین 29 فروری کو طے پانے والے متوقع معاہدے کے علاوہ علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے امید ظاہر کی کہ افغانستان میں پائیدار امن و استحکام کی خاطر تمام افغان اسٹیک ہولڈرز ایک جامع سیاسی تصفیے کے لیے موقع سے فائدہ اٹھائیں گے۔

اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نے امریکا اور طالبان کے درمیان ہونے والے معاہدے میں قطر کے قابلِ قدر کردار کو سراہا اور افغان سربراہی میں افغان مفاہمتی عمل کے لیے پاکستان کی حمایت جاری رکھنے کا عزم دہرایا۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم عمران خان ایک روزہ دورے پر قطر روانہ

دفتر وزیراعظم سے جاری بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے ’موجودہ بہترین باہمی تعلقات کے ساتھ ساتھ باہمی دلچسپی کے علاقائی اور بین الاقوامی مسائل پر تبادلہ خیال کیا، ساتھ ہی دونوں ممالک کے درمیان سیاسی اور اقتصادی اشتراک کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

دونوں ممالک نے تجارت اور سرمایہ کاری کے بارے میں دوطرفہ مشترکہ ورکنگ گروپ فوری طور پر فعال بنانے، سیاحت اور کاروباری مواقع کے شعبوں میں تعاون پر مفاہمت کی یادداشت طے پانے پر اتفاق کیا۔

وزیراعظم کے ہمراہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، معاون خصوصی برائے سمندر پار پاکستانی سید ذوالفقار بخاری، معاون خصوصی پیٹرولیم ندیم بابر اور دیگر سینئر عہدیدار دورے پر گئے تھے۔

قبل ازیں وزیراعظم عمران خان اپنے وفد کے ہمراہ ایک روزہ دورے پر قطر پہنچے تو وزیر توانائی سعد شریدہ الکعبی نےان کا استقبال کیا تھا۔

وزیراعظم کے اس دورے کا مقصد باہمی تعاون کو مستحکم کرنے اور علاقائی ترقی پر تبادلہ خیال کرنا تھا۔

مزید پڑھیں: وزیراعظم عمران خان ایک روزہ دورے پر قطر روانہ

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ مذکورہ دورہ ایسے وقت میں کیا گیا جب 2 روز بعد قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہی امریکا اور طالبان کے درمیان امن معاہدے پر دستخظ کی تقریب ہوگی۔

خیال رہے کہ پاکستان اور قطر کے درمیان باہمی اعتماد کی بنیاد پر قریبی اور دوستانہ تعلقات ہیں، یہ دوطرفہ تعلقات وسیع اور کثیرالجہتی ہیں جو سیاست، تجارت، دفاع، لوگوں سے لوگوں کے تعلقات اور ثقافتی تبادلوں سمیت مختلف شعبوں پر محیط ہیں۔

یاد رہے کہ عمران خان کے وزیر اعظم کا منصب سنبھالنے کے بعد یہ دوسرا دورہ قطر تھا۔

قبل ازیں گزشتہ برس جون میں امیر قطر نے پاکستان کا دورہ کیا تھا، جس میں دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں باہمی تجارتی تعاون کو مستحکم کرنے پر بات چیت ہوئی تھی اور وزیراعظم عمران خان کا حالیہ دورے نے اس معاملے کو مزید تقویت بخشی۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم کی قطری ہم منصب سے ملاقات، اقتصادی تعاون پر تبادلہ خیال

اپنے آخری دورے میں عمران خان نے دوحہ کی قیادت سے قطر میں افرادی قوت بھیجنے کے معاملے پر بھی بات چیت کی تھی۔

خیال رہے کہ گزشتہ سال دسمبر میں قطر نے اپنے ملک میں کام کرنے کے خواہش مند پاکستانی افرادی قوت کے لیے ویزا کا عمل آسان بنانے کے پیش نظر اسلام آباد میں ویزا سہولت سینٹر کھولا تھا۔

اس کے علاوہ قطر کی جانب سے پاکستانی ورکرز کے لیے ایک لاکھ نوکریوں کا بھی وعدہ کیا گیا تھا اوراس سلسلے میں حکومت نے قطری حکومت سے بات بھی کی تھی۔