'امریکا اور پاکستان کے مابین براہ راست پروازیں شروع کرنے کا فوری کوئی منصوبہ نہیں'

اپ ڈیٹ 10 مارچ 2020

ای میل

امریکی انتظامیہ اور پی آئی اے کے مابین گزشتہ دو برس سے بات چیت جاری تھی — فائل فوٹو: اے ایف پی
امریکی انتظامیہ اور پی آئی اے کے مابین گزشتہ دو برس سے بات چیت جاری تھی — فائل فوٹو: اے ایف پی

اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے نے کہا ہے کہ پاکستان اور امریکا کے مابین براہ راست پروازیں جاری کرنے کا ’فوری کوئی منصوبہ‘ نہیں ہے۔

ٹرانسپورٹیشن سیکیورٹی ایڈمنسٹریشن (ٹی ایس اے) کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ امریکی ٹیم اسلام آباد ایئر پورٹ کا دورہ کرے گی، پاکستان ایویشن سیکیورٹی کے نظام کا جائزہ لے گی اور متعلقہ اداروں کے عہدیداروں سے ملاقات کرے گی۔

اعلامیے میں مزید کہا کہ امریکا اور پاکستان کے مابین براہ راست پروازیں شروع کرنے کا فوری طور پر کوئی منصوبہ زیر غور نہیں ہے۔

مزیدپڑھیں: وزیراعظم کی پی آئی اے کو منافع بخش ادارے بنانے کی ہدایت

پریس ریلیز میں ٹی ایس اے اتاچی ڈینیل میک کوائڈ کے حوالے سے کہا گیا کہ امریکا اور پاکستان کے مابین مضبوط تعلقات کو فروغ دینے کے لیے محفوظ بین الاقوامی ہوائی سفر ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ساتھ اپنے تعلقات کو جاری رکھنے کے منتظر ہیں۔

واضح رہے کہ میڈیا پر خبریں گردش کررہی تھیں کہ ٹی ایس اے ٹیم کے دورہ پاکستان کے ساتھ ہی پی آئی اے کی امریکا کے لیے براہ راست پروازیں شروع ہوجائیں گی۔

22 جنوری کو پی آئی اے کے ترجمان عبدالحفیظ نے کہا تھا کہ امریکی ادارے ٹی ایس اے کی کلیئرنس کے بعد امریکا کے لیے براہ راست پروازوں کا سلسلہ رواں برس مئی سے شروع ہوجائے گا۔

امریکا کیلئے براہ راست پروازوں کا معاملہ، امریکی ٹیم پاکستان میں موجود

اس سے قبل بتایا گیا کہ پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) کو واشنگٹن کے لیے براہ راست پروازیں شروع کرنے کے لیے امریکی کلیئرنس درکار ہے اور اسی مقصد کے لیے امریکی ٹرانسپورٹ سیکیورٹی ایڈمنسٹریشن (ٹی ایس اے) کی ٹیم اسلام آباد ایئرپورٹ پہنچ چکی ہے۔

پاکستان پہنچنے والی امریکی ٹیم ایک جائزہ رپورٹ مرتب کرے گی جس کی بنیاد پر پی آئی اے کو واشنگٹن کے لیے براہ راست پروازیں چلانے کی اجازت مل سکے گی۔

مزیدپڑھیں: پی آئی اے کے بیڑے میں 2023 تک 12 نئے طیارے شامل ہوں گے، سی ای او

ذرائع کے مطابق یہ ٹیم جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کراچی اور علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ لاہور کا بھی دورہ کرے گی۔

توقع کی جارہی ہے کہ امریکی ٹیم ایوی ایشن کے سیکریٹری ناصر حسین جامی سے ملاقات میں ایوی ایشن اور سیکیورٹی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کرے گی۔

واضح رہے کہ یہ امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ پی آئی اے رواں سال مئی سے امریکا کے لیے براہ راست پروازیں شروع کرے گی۔

تاہم اس سلسلے میں امریکی ٹیم کا جائزہ درکار ہے اور وہ تینوں ہوائی اڈوں کے سیکیورٹی آڈٹ کے بعد اپنی حتمی رپورٹ پیش کرے گی۔

امریکی انتظامیہ اور پی آئی اے کے مابین گزشتہ دو برس سے بات چیت جاری تھی۔

یہ بھی پڑھیں: پی آئی اے کی مسافروں کے بغیر 46 پروازیں، قومی خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان

پی آئی اے نے تین بڑے ہوائی اڈوں پر اسکریننگ مشینوں کے استعمال سمیت امریکی حکام کی جانب سے بتائے گئے تمام اقدامات اٹھائے ہیں۔

خیال رہے کہ امریکی ٹرانسپورٹ اتھارٹی کے وفد نے حتمی سیکیورٹی آڈٹ ٹیم کی آمد سے قبل پاکستان کا دورہ کیا تھا۔

علاوہ ازیں پی آئی اے نے ایک فلائٹ پلان تیار کیا ہے جس کے مطابق ابتدائی طور پر ہفتے میں 3 پروازیں نیویارک کے لیے چلائی جائیں گی لیکن بعد میں اس تعداد میں اضافہ کیا جائے گا۔

یاد رہے کہ سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر امریکا نے کسی ایسی براہ راست پرواز کی اجازت نہیں جو پاکستانی ہوائی اڈے سے اس کی فضائی حدود میں جانے والی ہو۔

تاہم یہ پہلا موقع ہوگا جب پی آئی اے پاکستان سے امریکا کے لیے اپنی براہ راست پروازیں شروع کرے گی۔

مزیدپڑھیں: پی آئی اے کا ڈیڑھ سال سے ناقابل استعمال طیارہ پرواز کے لیے تیار

واضح رہے کہ اکتوبر 2017 میں پی آئی اے نے بڑھتی ہوئی آپریٹنگ لاگت اور اس کا سامنا کرنے والے نقصانات کو کم کرنے کی غرض سے امریکا کے لیے اپنی پروازیں بند کردیں تھیں۔