وزیر خارجہ کا فرانسیسی، ہسپانوی ہم منصب سے ٹیلی فونک رابطہ

اپ ڈیٹ 24 مارچ 2020

ای میل

وزیر خارجہ نے پاکستان کی جانب سے کیے گئے اقدامات سے فرانسیسی ہم منصب کو آگاہ کیا—فائل فوٹو: اے پی پی
وزیر خارجہ نے پاکستان کی جانب سے کیے گئے اقدامات سے فرانسیسی ہم منصب کو آگاہ کیا—فائل فوٹو: اے پی پی

دنیا کو اپنی لپیٹ میں لینے والی وبا کورونا وائرس سے پیدا ہونے والی صورتحال اور اس سے نمٹنے کے اقدامات پر تبادلہ خیال کے لیے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے فرانس کے وزیر خارجہ جان ایو لو دریان اور اسپین کی ہم منصب آرانتشا غونثاليث لايا کے ساتھ ٹیلیفونک رابطہ کیا۔

دونوں ہم منصبوں نے کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے پھیلاؤ کو روکنے اور اس عالمی آفت سے نمٹنے کے لیے تعاون کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کورونا وائرس کے باعث فرانس میں ہونے والے جانی نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کورونا وائرس پر قابو پانے کے حوالے سے فرانسیسی اقدامات کی تعریف کی۔

اس کے ساتھ فرانس میں مقیم کورونا وائرس سے متاثرہ 13 پاکستانیوں کو بروقت طبی امداد فراہم کرنے اور ان کی مناسب دیکھ بھال کرنے پر فرانسیسی وزیر خارجہ کا شکریہ ادا کیا۔

یہ بھی پڑھیں: کورونا وائرس: اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی عالمی جنگ بندی کی اپیل

وزیر خارجہ نے اس عالمی وبا سے نمٹنے کے لیے پاکستان کی جانب سے کیے گئے اقدامات سے فرانسیسی ہم منصب کو آگاہ کیا۔

شاہ محمود قریشی نے بتایا کہ پاکستان میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے، کووڈ19 دنیا کے تقریباً تمام ممالک میں پھیل چکا ہے اور یہ صورتحال عالمی برادری کی جانب سے مربوط نقطہ نظر کی ضرورت ہے۔

ایران میں درپیش صورتحال کے تناظر میں وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران سے فوری طور پر پابندیوں کے خاتمے اور انسانی امداد فراہم کرنے کی ضرورت ہے تا کہ ایرانی حکام قیمتی انسانی جانوں کو بچا سکیں۔

وزیر خارجہ نے اس بات پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا کہ مقبوضہ کشمیر میں مواصلات اور نقل و حرکت پر لاک ڈاؤن جاری ہے اور 80 لاکھ کشمیری کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے اہم معلومات اور ضروری طبی اشیا سے محروم ہیں۔

مزید پڑھیں: کورونا وائرس: پاکستان، مالدیپ کے مابین سارک کانفرنس بلانے پر تبادلہ خیال

وزیرخارجہ نے ترقی پذیر ممالک کے نازک مالیاتی نظام کے حوالے سے بھی تحفظات کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم کی جانب سے قرضوں کی ری اسٹرکچرنگ کے مطالبے کو اجاگر کیا اور یورپی یونین، جی-7، اور اقوامِ متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کے رکن کی حیثیت سے ان مسائل پر فرانس کے تعاون کی درخواست کی۔

فرانسیسی وزیر خارجہ نے ایران پر عائد پابندیوں کا معاملہ آئی ایم ایف اور ترقی پذیر ممالک کو درپیش معاشی مسائل کا مسئلہ جی 20 کے ساتھ اٹھانے کا عندیہ دیا۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے موجودہ ایمرجنسی صورتحال کے پیش نظر 26 مارچ کو فرانس اور پاکستان کے مابین طے شدہ دو طرفہ اجلاس کو ویڈیو لنک کے ذریعے منعقد کرنے کی تجویز دی۔

فرانس کے وزیر خارجہ جان ایو لودریان نے اس مشکل گھڑی میں فرانس سے اظہار یکجہتی کرنے پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا شکریہ ادا کیا اور دونوں وزرائے خارجہ نے اس عالمی چیلنج سے نبرد آزما ہونے اور باہمی تعاون کے فروغ کے لیے مشاورتی سلسلے کو جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

یہ بھی پڑھیں: چین میں 'کورونا کے مرکز' ووہان سے لاک ڈاؤن ختم، دنیا کے کئی ممالک میں شروع

وزیر خارجہ نے فرانس میں مقیم کورونا وائرس سے متاثرہ 13 پاکستانیوں کو بروقت طبی امداد فراہم کرنے اور ان کی مناسب دیکھ بھال کرنے پر فرانسیسی وزیر خارجہ کا شکریہ ادا کیا

ہسپانوی وزیر خارجہ کے ساتھ تبادلہ خیال

دوسری جانب وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ہسپانوی وزیر خارجہ مس آرانتشا غونثاليث لايا سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے کورونا وائرس کی عالمی وبا کے پھیلاؤ کو روکنے کے حوالے سے حکمت عملی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

وزیر خارجہ نے کورونا وبا کے باعث اسپین میں ہونے والے قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا انہوں نے اس وبا پر قابو پانے کے لیے اسپین کی حکومت کی طرف سے کیے گئے بروقت اقدامات اور اس چیلنج کا عزم و ہمت سے مقابلہ کرنے والے اسپین کے ہیلتھ ورکرز کی قربانیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ہمیں یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ اسپین میں مقیم ایک لاکھ کے قریب پاکستانی کمیونٹی، مشکل کی اس گھڑی میں اسپینش عوام کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہیں۔

وزیر خارجہ نے اپنے ہسپانوی ہم منصب کو اس عالمی وبائی مرض کے تناظر میں مقبوضہ جموں و کشمیر کی تشویشناک صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 8 ماہ سے 80 لاکھ کشمیری، مسلسل کرفیو کی صورت میں بھارتی استبداد کا سامنا کر رہے ہیں، وہاں خوراک اور ادویات کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے، عالمی برادری کو اس صورت حال کا نوٹس لینا چاہیئے۔

یہ بھی پڑھیں: دنیا کے بیشتر ممالک میں لاک ڈاؤن، کورونا وائرس سے 15 ہزار اموات

وزیر خارجہ نے موجودہ عالمی وبا کے تناظر میں ایران پر عائد پابندیوں کے فوری خاتمے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایران میں کورونا وبا کا شکار ہزاروں افراد کی زندگیوں کو بچانے کے لیے ضروری ہے کہ معاشی پابندیوں کو اٹھایا جائے تاکہ ایران اپنے وسائل کو اس وبا کے تدارک کے لیے بروئے کار لا سکے۔

وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ کورونا عالمی وبا کے پھوٹنے سے ترقی پزیر ممالک کو شدید معاشی مشکلات کا سامنا ہے اور برآمدات، زر مبادلہ میں کمی ان مشکلات میں مزید اضافہ کا باعث بن رہی ہے اسی لیے وزیراعظم عمران خان نے قرضوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ترقی پذیر ممالک کو قرضوں میں سہولت فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ وہ اپنے محدود وسائل کو اس وبا کے پھیلاؤ کو روکنے اور اپنے لوگوں کی زندگیوں کو بچانے کے لیے استعمال میں لا سکیں۔

اسپین کے وزیر خارجہ آرانتشا غونثاليث لایا نے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس مشکل گھڑی میں اسپین میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کے مثبت کردار کی تعریف کی۔

مزید پڑھیں: کورونا وائرس: جنوبی کوریا میں چار ہفتے بعد سب سے کم کیسز رپورٹ

انہوں نے کہا کہ موجودہ وبائی چیلنج کی موجودگی میں ہمیں ترقی پذیر ممالک کی معاشی مشکلات کا بخوبی اندازہ ہے اور ہم ان ممالک کو معاشی سہولت فراہم کرنے کےلیے معاملہ جی 20 اجلاس میں اٹھائیں گے۔

ہسپانوی وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران سے پابندیاں ہٹانے کا معاملہ آج یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں زیر بحث آیا اور آئی ایم ایف کے سامنے معاملہ اٹھانے کی تجویز زیر غور ہے۔

دونوں وزرائے خارجہ نے اس وبا سے نبرد آزما ہونے کے لیے باہمی مشاورت کا سلسلہ جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔