کورونا میں مبتلا ہونے کے بعد اٹلی کی نرس نے خودکشی کرلی

مارچ 26 2020

ای میل

34 سالہ نرس سخت ذہنی دباؤ کا شکار بھی تھیں—فوٹو: نیویارک پوسٹ
34 سالہ نرس سخت ذہنی دباؤ کا شکار بھی تھیں—فوٹو: نیویارک پوسٹ

کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک اٹلی کی ایک نرس نے کورونا وائرس میں مبتلا ہونے کے بعد اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا۔

خودکشی کرنے والی نرس گزشتہ کئی ہفتوں سے کورونا کے مریضوں سے بھرے ہسپتال کے انتہائی نگہداشت والے وارڈ مین خدمات سر انجام دے رہی تھیں اور وہ خود بھی وبا کا شکار بن چکی تھیں جس کے بعد انہوں نے اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا۔

برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف نے اپنی رپورٹ میں اٹلی کی نرس فیڈریشن تنظیم نے تصدیق کی کہ 34 سالہ ڈینیلا تریزی نے کورونا وائرس میں مبتلا ہونے کے بعد شدید ذہنی ڈپریشن کی وجہ سے اپنی زندگی کا خاتمہ کیا۔

نرس فیڈریشن کے ایک عہدیدار کا کہنا تھا کہ خودکشی کرنے والی نرس گزشتہ کئی ہفتوں سے کورونا سے سب سے زیادہ متاثرہ علاقے لمبارے کے سب سے مصروف ہسپتال کے انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں خدمات سر انجام دے رہی تھیں۔

نرس فیڈریشن کے مطابق زندگی کا خاتمہ کرنے والی نرس مسلسل ہزاروں نئے مریض آنے اور ہسپتال میں یومیہ درجنوں ہلاکتیں دیکھنے کی وجہ سے سخت ذہنی دباؤ کا بھی شکار تھیں، تاہم بعد ازاں وہ خود بھی کورونا کا شکار ہوگئی تھیں۔

خودکشی کرنے والی نرس آئی سی یو میں خدمات سر انجام دے رہی تھیں—فوٹو: دی میٹرو
خودکشی کرنے والی نرس آئی سی یو میں خدمات سر انجام دے رہی تھیں—فوٹو: دی میٹرو

نرس فیڈریشن کا کہنا تھا کہ خودکشی کرنے والی نرس کا خیال تھا کہ اگر وہ زندگی رہیں تو وہ مزید افراد کو بھی کورونا کا شکار کردیں گی، اس لیے انہوں نے شدید ذہنی دباؤ اور مسلسل نئے مریضوں اور لوگوں کے مرتے ہوئے دیکھنے کے بعد خودکشی کی۔

یہ بھی پڑھیں: کورونا وائرس: اٹلی میں اموات سب سے زیادہ

نوجوان نرس کی خودکشی پر نرس فیڈریشن نے گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک بھر میں میڈیکل عملہ انتہائی ذہنی دباؤ کا شکار ہے۔

دی ٹیلی گراف نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ اٹلی بھر میں مجموعی طور پر 5 ہزار میڈیکل عملے کے افراد بھی کورونا سے متاثر ہوچکے ہیں جن میں سے کئی افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات بھی ہیں، تاہم اس بات کی تصدیق نہیں ہوسکی کہ کورونا سے میڈیکل عملے کے کتنے افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اس وقت اٹلی کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ملک ہے، جہاں گزشتہ 5 دن سے یومیہ 600 تک افراد وائرس سے ہلاک ہو رہے ہیں اور 26 مارچ کی صبح تک وہاں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد بڑھ کر 7 ہزار 500 سے زائد ہوچکی تھی۔

اٹلی میں 26 مارچ کی صبح تک کورونا وائرس سے مبتلا افراد کی تعداد بڑھ کر 74 ہزار سے زائد ہو چکی تھی۔

کورونا وائرس کے مریضوں کے حوالے سے دوسرا بڑا ملک امریکا بن چکا ہے، جہاں 26 مارچ کی صبح تک مریضوں کی تعداد بڑھ کر 69 ہزار ہوچکی تھی اور وہاں ہلاکتوں کی تعداد بھی ایک ہزار سے زائد ہوچکی تھی۔

26 مارچ کی صبح تک دنیا بھر میں کورونا کے مریضوں کی تعداد بڑھ کر 4 لاکھ 72 ہزار سے زائد ہو چکی تھی جب کہ ہلاکتوں کی تعداد بھی بڑھ کر 21 ہزار 300 سے زائد ہوچکی تھی۔