بھارت کشمیری عوام کو کورونا سے متعلق بنیادی معلومات فراہم نہیں کررہا، دفتر خارجہ

اپ ڈیٹ 26 مارچ 2020

ای میل

انہوں نے کہا کہ  مقبوضہ جموں و کشمیر میں مواصلاتی بلیک آؤٹ کو ختم کیا جائے—فائل فوٹو: ریڈیو پاکستان
انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں مواصلاتی بلیک آؤٹ کو ختم کیا جائے—فائل فوٹو: ریڈیو پاکستان

پاکستان نے ایک مرتبہ پھر بھارت سے کورونا وائرس کے پیش نظر مقبوضہ جموں و کشمیر میں مواصلاتی بلیک آؤٹ ختم کرنے کا مطالبہ کردیا۔

ریڈیو پاکستان کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد میں ہفتہ وار پریس بریفنگ میں دفتر خارجہ کی ترجمان عائشہ فاروقی نے بھارتی حکومت پر زور دیا کہ وہ کورونا وائرس سے لاحق خطرے کے پیش نظر مقبوضہ جموں و کشمیر میں مواصلاتی بلیک آؤٹ کو ختم کرے۔

مزیدپڑھیں: مقبوضہ کشمیر میں کورونا وائرس سے پہلی ہلاکت

واضح ہے کہ دفتر خارجہ کی ترجمان عائشہ فاروقی نے مقبوضہ وادی میں مسلسل رابطے کی بندش پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ بھارتی انتظامیہ مقبوضہ کشمیر کے عوام کو وائرس سے متعلق بنیادی معلومات سے محروم کررہی ہے اور وبا سے مقابلہ کرنے کے لیے وہاں لوگوں کو طبی سہولیات بروقت ملنی چاہیئیں۔

ترجمان دفتر خارجہ نے مطالبہ کیا کہ میڈیکل ٹیموں اور سامان کو مقبوضہ جموں و کشمیر کے لوگوں تک پہنچنے کی اجازت دی جائے۔

خیال رہے کہ 19 مارچ کو بھی پاکستان نے بھارتی حکومت سے مقبوضہ جموں و کشمیر سے کورونا وائرس کے کیسز سامنے آنے پر وہاں لگائی گئی رکاوٹیں ختم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

عائشہ فاروقی نے کہا کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے حالیہ دنوں میں سارک اجلاس میں اپنے ہم منصبوں کے ساتھ بات چیت کے دوران سارک کے عمل کو جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

یہ بھی پڑھیں: کورونا وائرس: اٹلی میں سب سے زیادہ 7 ہزار ہلاکتیں، عالمی سطح پر اموات 21 ہزار سے تجاوز

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ویڈیو لنک پر سارک اجلاس میں وزرائے صحت کو متحرک کرنے کی تجویز دی تاکہ خطے میں کورونا وائرس کو روکنے کے لیے مربوط کوششیں کی جاسکیں۔

ترجمان نے کہا کہ حکومت اور بیرون ملک ہمارے سفارتکاروں کی پوری کوشش ہے کہ وہ دنیا کے مختلف حصوں میں پھنسے ہوئے اپنے شہریوں کی حفاظت اور جلد واپسی کو یقینی بنائیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے مشن مقامی حکام سے رابطے میں ہیں اور پاکستانی شہریوں کو کھانے، ادویات اور رہائش میں مدد فراہم کررہے ہیں۔

عائشہ فاروقی نے نشاندہی کی کہ حالیہ دنوں میں حکومت نے سعودی عرب، دبئی اور دوحہ سے پھنسے پاکستانیوں کو وطن واپس لانے کے لیے خصوصی پروازیں چلائیں۔

واضح رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں کورونا وائرس سے پہلی ہلاکت کی تصدیق ہوچکی ہے۔

خبررساں ادارے اکنامک ٹائمز نے رپورٹ کیا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے علاقے حیدرپورا سے تعلق رکھنے والا 65 سالہ شخص وائرس سے انتقال کرگیا۔

مزیدپڑھیں: اٹلی، جو آج ویران ہے

خیال رہے کہ 5 اگست 2019 سے کرفیو اور لاک ڈاؤن کا سامنا کرنے والی مقبوضہ وادی میں ایک طرف بھارتی ظلم و ستم جاری ہے تو دوسری جانب کورونا وائرس کے باعث وہاں کے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔

سری نگر کے میئرجنید عظیم مٹو نے ٹوئٹ کیا کہ 'ہم کورونا وائرس سے پہلی موت کی بری خبر شیئر کر رہے ہیں، میرا دل مرنے والوں کے اہل خانہ کے ساتھ ہے اور ہم آپ کے ساتھ کھڑے ہیں'۔

علاوہ ازیں حکومتی ترجمان روہت کانسل نے بذریعہ ٹوئٹر پہلی موت کی تصدیق کی اور کہا کہ حیدرپورا سری نگر سے تعلق رکھنے والے شخص کی موت کورنا وائرس سے پہلی ہلاکت ہے، ان سے رابطے میں موجود دیگر 4 افراد کے نتائج بھی مثبت آئے ہیں۔

اگر دنیا بھر میں کورونا وائرس پر نظر ڈالیں تو اس نے تقریباً دنیا کے ایک تہائی آبادی کو گھروں تک محدود کردیا ہے اور اس سے مجموعی طور پر اب تک تقریباً 21 ہزار سے زیادہ اموات ہوچکی ہیں جبکہ 4 لاکھ 74 ہزار سے زائد افراد متاثر ہیں۔

مزیدپڑھیں: کورونا وائرس: ایک ماہ کے دوران متاثرین کی تعداد 1118 تک جاپہنچی

وبا سے سب سے بری طرح متاثر ہونے والے ملک اٹلی میں ہلاکتوں کی تعداد 7 ہزار 500 سے بھی تجاوز کر گئی ہے جہاں مجموعی طور پر 74 ہزار 386 کورونا کیسز سامنے آچکے ہیں۔

واضح رہے کہ 5 اگست کو بھارت کے اپنے آئین کے آرٹیکل 370 کا خاتمہ کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کو حاصل خصوصی حیثیت کو ختم کردیا تھا۔

اس کے ساتھ ہی وہاں اضافی فوج تعینات کرتے ہوئے وہاں کی حریت قیادت، سیاسی رہنماؤں کو قید اور نظر بند کردیا تھا جبکہ اب تک ہزاروں نوجوان بھی گرفتار ہیں۔

بھارت نے پابندیوں کا سلسلہ یہی نہیں ختم کیا تھا بلکہ وہاں مواصلاتی نظام کو مکمل طور پر معطل کرتے ہوئے پوری دنیا کا رابطہ مقبوضہ وادی سے منقطع کردیا گیا تھا۔