کورونا وائرس سے صحتیاب ہونے والوں کی تعداد میں جلد اضافہ ہوگا، ظفر مرزا

اپ ڈیٹ 28 مارچ 2020

ای میل

حکومت اس وقت ہر فرد کا ٹیسٹ نہیں کرسکتی اس لیے ترجیحی کیس کی بنیاد پر ٹیسٹ کیے جارہے ہیں—تصویر:فیس بک
حکومت اس وقت ہر فرد کا ٹیسٹ نہیں کرسکتی اس لیے ترجیحی کیس کی بنیاد پر ٹیسٹ کیے جارہے ہیں—تصویر:فیس بک

کراچی: وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے ملک میں نوجوانوں کی تعداد اور ان کی قوت مدافعت کے تناظر میں کہا ہے کہ آئندہ آنے والے دنوں کے دوران ملک میں (کورونا وائرس سے) صحت یاب افراد کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آئے گا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ڈان نیوز ٹی وی کے پروگرام نیوز آئی میں میزبان عارفہ نور سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ پاکستان کی آبادی مغرب سے مختلف ہے اور یہاں 70 سال تک کی عمر کے افراد کی تعداد کم ہے۔

ان کے مطابق ’اس وجہ سے زیادہ تر 21 سے 30 سال کے نوجوان وائرس سے متاثر ہوئے تاہم اس کا مثبت پہلو یہ ہے کہ چونکہ نوجوانوں میں قوت مدافعت زیاہ ہوتی ہے اس لیے صحت یاب ہونے کی شرح بھی زیادہ ہوگی‘۔

یہ بھی پڑھیں: پنجاب، بلوچستان میں 3 ڈاکٹرز میں کورونا کی تشخیص، ملک میں متاثرین 1363 ہوگئے

ذاتی تحفظ کی اشیا (پی پی ایز) کی 5 اپریل کو آمد کے بارے میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ترجیح، صف اول میں رہتے ہوئے کام کرنے والے افراد کا تحفظ ہے جس میں زیادہ تر صحت کا عملہ شامل ہے جو براہِ راست کووِڈ 19 کے مریضوں سے رابطے میں آتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کی مدد سے حکومت نے فوری طور پر پی پی ایز کی خریداری کی اور پہلی کھیپ 5 اپریل کو پاکستان پہنچ جائے گی۔

کیا مذکورہ آلات اسکریننگ کرنے والے افراد کو بھی فراہم کیے جائیں گے؟ کے سوال کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ سب سے پہلے قرنطینہ اور آئیسولیشن وارڈز میں کام کرنے والوں کو یہ اشیا فراہم کی جائیں گی اس کے بعد بتدریج تقسیم کی جائے گی اور آنے والے دنوں میں مزید سامان ملک میں پہنچ جائے گا۔

مزید پڑھیں: کورونا وائرس: ملک میں ایک ماہ کے دوران متاثرین کی تعداد 1193 تک جاپہنچی

وزیراعظم کے معاون خصوصی نے بتایا کہ حکومت روزانہ سیکڑوں افراد کا ٹیسٹ کررہی ہے ’قرنطینہ میں اکثریت تفتان بارڈر کے ذریعے آنے والے افراد کی ہے، اس وقت 7 ہزار مشتبہ کیسز موجود ہیں جس میں سے 3 ہزار کے ٹیسٹ کیے گئے اور ان میں سے 24 فیصد قرنطینہ میں ہیں‘۔

پنجاب میں غلط طور پر مثبت نتیجہ آنے کے بارے میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے جو ٹیسٹنگ کٹس تجویز کی جارہی ہیں وہ بہت مؤثر ہیں ’ہم صرف ای سی آر بیسڈ ٹیسٹنگ تجویز کررہے ہیں‘۔

ڈاکٹر ظفر مرزا کا مزید کہنا تھا کہ حکومت اس وقت ہر شہری کا ٹیسٹ نہیں کرسکتی اس لیے ترجیحی کیس کی بنیاد پر ٹیسٹ کیے جارہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: آئی ایم ایف کا کورونا وائرس کے اثرات سے نمٹنے کیلئے پاکستان کی مدد کا عندیہ

پاکستان میں کیسز کی کم تعداد پر قیاس آرائیوں کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ حکومت کوئی کیسز نہیں چھپا رہی، ہم بالکل شفاف کام کررہے ہیں تمام اعداد و شمار حکومت کی ویب سائٹ پر موجود ہیں اور ہم ٹیسٹ کے اعداد و شمار بھی جلد دیں گے۔

میو ہسپتال کیس کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے اس واقعے کی انکوائری کا حکم دے دیا ہے، یہ واقعہ ناقص طبی تربیت اور تعلیم کا نتیجہ ہے۔

واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اگر آپ صحت کے شعبے کو نظر انداز کریں تو یہی ہوتا ہے، نظام صحت کو اصلاحات کی ضرورت ہے‘۔