برطانیہ میں پاکستانی نژاد ڈاکٹر کورونا وائرس کے باعث جاں بحق

اپ ڈیٹ 28 مارچ 2020

ای میل

76 سالہ ڈاکٹر ممکنہ طور پر کورونا وائرس کا علاج کرتے ہوئے جاں بحق ہوئے—تصویر: بی بی سی
76 سالہ ڈاکٹر ممکنہ طور پر کورونا وائرس کا علاج کرتے ہوئے جاں بحق ہوئے—تصویر: بی بی سی

برطانیہ میں پاکستان نژاد برطانوی ڈاکٹر، حبیب زیدی کے اہلِ خانہ نے ان کی کورونا وائرس کے باعث ہلاکت کی تصدیق کردی جو برطانیہ میں کسی ڈاکٹر کی کورونا کی وجہ سے ہونے والی پہلی ہلاکت ہے۔

76 سالہ ڈاکٹر کے اہلِ خانہ کا کہنا تھا کہ وہ ممکنہ طور پر کورونا وائرس کا علاج کرتے ہوئے جاں بحق ہوئے، اہلِ خانہ کے مطابق منگل کے روز ان کی طبیعت خراب ہونے پر انہیں ایسیکز کے ساؤتھ اینڈ ہسپتال کے انتہائی نگہداشت یونٹ میں داخل کیا گیا تھا جہاں صرف ایک روز بعد ان کا انتقال ہوگیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق مذکورہ ڈاکٹر کا کووِڈ19 کی تشخیص کے لیے ٹیسٹ کیا گیا تھا لیکن نتائج آنے سے پہلے ہی وہ وفات پا گئے۔

یہ بھی پڑھیں: گلگت بلتستان:کورونا وائرس کی اسکریننگ پر مامور ڈاکٹر دم توڑ گیا

ان کی بیٹی ڈاکٹر سارا زیدی نے کہا کہ ان میں وائرس کی کچھ علامتیں پائی گئیں تھیں۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ان کے والد کا علاج کورونا کے مصدقہ کیس کے طور پر کیا گیا، اس بات میں بہت کم شبہ ہے کہ یہ کورونا وائرس تھا‘۔

اہلِ خانہ نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ برطانیہ میں وبا کا پھیلاؤ روکنے کے لیے لاک ڈاؤن ہونے کی وجہ سے متوفی کا باقاعدہ جنازہ ادا نہیں کیا جاسکا۔

خیال رہے کہ برطانیہ میں اس وقت کورونا وائرس کے 11 ہزار 658 مصدقہ کیس ہیں جبکہ اس وبا سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 578 ہے۔

ڈاکٹر حبیب زیدی 45 برس سے زائد عرصے سے بطور جنرل فزیشن کام کررہے تھے اور ایسٹ ووڈ گروپ پریکٹس کے منیجنگ پارٹنر بھی تھے ان کی اہلیہ اور چاروں بچے بھی ڈاکٹر ہیں۔

مزید پڑھیں: کورونا وائرس، 10 دن تک لگاتار کام کرنے والا ڈاکٹر ہارٹ اٹیک سے ہلاک

اہلِ خانہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں انہیں کمیونٹی کا محبوب ستون قرار دیا گیا، جنہیں ان کے ساتھی ’میڈیکل کمیونٹی کا سربراہ‘ کہتے ہیں۔

سال 2018 میں برطانیہ کی نیشنل ہیلتھ سروسز نے ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں ’گمنام ہیرو‘ کے ایوارڈ سے نوازا تھا۔

ڈاکٹر حبیب کی وفات کی خبر ملنے پر ان کے بہت سے مریضوں نے سوشل میڈیا پر تعزیت پیغامات دیے۔

کورونا وائرس کے پیشِ نظر آخری رسومات

خیال رہے کہ کورونا وائرس کے پیشِ نظر برطانوی ہدایات کے مطابق آخری رسومات جتنا ممکن ہوں عام طور پر جاری رہنا چاہیے لیکن اہلِ خانہ کو صرف ’قریبی افراد‘ کی موجودگی کی ہدایت کی جارہی ہے تا کہ شرکت کرنے والے اور عملے کے اراکین میں وائرس پھیلنے کا خطرہ کم سے کم ہو۔

یہ بھی پڑھیں: کورونا وائرس سے ڈاکٹر کی ہلاکت، چین میں آزادی اظہار رائے کے مطالبات زور پکڑنے لگے

اس لیے گھر سمیت کسی بھی مقام پر اس مقصد کے لیے اجتماع کرنا مناسب نہیں رہا، تاہم مسلمان کمیونٹی کے لیے حکومت برطانیہ نے کورونا وائرس کے لیے پیش کردہ ہنگامی بل میں ترمیم کردی تھی جس میں میتوں کو دفنانے کے بجائے جلانے کا کہا گیا تھا۔

لیبر پارٹی کی رکن پارلیمان ناز شاہ سے مختلف مذہبی گروہوں کے جذبات کے احترام میں بل میں ترمیم کرنے کی مہم چلائی تھی جس کے لیے انہیں 100 اراکین کی حمایت حاصل تھی۔