اسپین میں کورونا سے ایک دن میں سب زیادہ اموات، دنیا بھر میں 40 ہزار افراد ہلاک

اپ ڈیٹ 01 اپريل 2020

ای میل

کورونا وائرس سے مرنے والے ایک شخص کی لاش کو احتیاطی تدابیر کے ساتھ ٹرک تک پہنچایا جا رہا ہے— فوٹو: اے پی
کورونا وائرس سے مرنے والے ایک شخص کی لاش کو احتیاطی تدابیر کے ساتھ ٹرک تک پہنچایا جا رہا ہے— فوٹو: اے پی

دنیا بھر میں کورونا وائرس سے 8 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہو چکے ہیں اور اسپین میں ایک دن میں 849 اموات کے نتیجے میں دنیا بھر میں ہلاکتوں کی تعداد 40 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔

دنیا بھر میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور اب تک 8 لاکھ 23 ہزار سے زائد افراد وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں۔

امریکا میں 9/11 سے زائد ہلاکتیں

وائرس سے اب تک سب سے زیادہ کیسز امریکا میں رپورٹ ہوئے ہیں جہاں ایک لاکھ 65 ہزار افراد متاثر جبکہ 3 ہزار 400 سے زائد موت کے منہ میں جا چکے ہیں۔

چین سے دوگنا کیسز رپورٹ ہونے کے بعد امریکا نے وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے پابندیاں مزید سخت کردی ہیں جبکہ آنے والے دنوں میں اس میں مزید سختی کا امکان ہے۔

امریکا میں اب مرنے والوں کی تعداد 9/11 کے حملوں سے بھی بڑھ چکی ہے اور اب تک 3 ہزار 400 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جہاں 9/11 حملوں میں 2 ہزار 977 افراد ہلاک ہوئے تھے، جبکہ امریکا میں مرنے والوں کی تعداد چین سے بھی تجاوز کر گئی ہے۔

اٹلی میں رپورٹ ہونے والے کیسز میں نمایاں کمی

اب تک دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہلاکتیں اٹلی میں ہوئی ہیں جہاں 11 ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ اٹلی میں وائرس کا گڑھ تصور کیے جانے والے شمالی علاقے لومبارڈی میں ایک دن میں 381 ہلاکتیں ہو چکی ہیں جس سے صرف اس علاقے میں 7ہزار 199 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

خبر رساں ایجنسی 'رائٹرز' کے مطابق اٹلی میں مجموعی ہلاکتوں میں واضح کمی ہوئی ہے اور گزشتہ 24 گھنٹے میں 458 افراد ہوئے اور یہ 25مارچ کے بعد ایک دن میں ہلاکتوں کی سب سے بڑی تعداد ہے۔

میلان سمیت مذکورہ علاقے میں 43ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں جبکہ مجموعی کیسز کی تعداد بھی ایک لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔

اسپین میں ایک دن میں سب سے زیادہ اموات

اٹلی میں کیسز میں کمی کے باوجود اسپن میں تیزی سے ہلاک اور متاثرہ افراد کی تعداد میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے۔

منگل کو اسپین میں ایک دن میں سب سے زیادہ 849 افراد ہلاک ہوئے جس سے ملک میں مرنے والوں کی تعداد 8 ہزار 189ہو گئی ہے۔

ملک میں 24گھنٹے کے دوران تقریباً ہزار نئے کیسز رپورٹ ہوئے جس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 94 ہزار 417ہو گئی ہے۔

نیدرلینڈز میں 845 نئے کیسز

یورپ کے دوسرے ملکوں کی طرح نیدرلینڈز میں بھی تیزی سے ہلاکتوں کا سلسلہ جاری ہے اور مزید 175 افراد 24گھنٹے میں موت کی نیند سو چکے ہیں۔

نیدرلینڈز میں مزید 845 افراد میں وائرس کی تصدیق سے ملک میں متاثرہ مریضوں کی تعداد 12ہزار 595 ہو چکی ہے جبکہ وائرس سے نیدرلینڈز میں ہلاکتوں کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔

ایران میں مزید 141 افراد

ایران میں بھی 24گھنٹے کے دوران مزید 141 افراد لقمہ اجل بن گئے جس سے ایران میں مجموعی طور پر اب تک 2 ہزار 898 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

وزارت صحت کے ترجمان کیانوش جہان پور کے مطابق ملک میں 24گھنٹے کے دوران مزید 3 ہزار 111 کیس رپورٹ ہوئے جس سے متاثرہ افراد کی تعداد 44 ہزار 605 ہو گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے متاثرہ افراد میں سے 3 ہزار 703 کی حالت تشویشناک ہے اور ہم انہیں بہترین سہولیات کی فراہمی کی کوشش کر رہے ہیں۔

بھارت میں تبلیغی جماعت وائرس کے پھیلاؤ کی ذمے دار قرار

بھارت میں دارالحکومت نئی دہلی میں حکام نے تبلیغی جماعت کے مراکز کو سیل کردیا ہے جہاں حکومت نے ملک میں وائرس کے پھیلاؤ کا ذمے دار 13 سے 15مارچ کو تبلیغی جماعت کے اجتماع کو قرار دیا ہے۔

بھارتی دارالحکومت نئی دہلی کے علاقے ناظم الدین میں عالمی تبلیغی جماعت کا تین روزہ اجتماع ہوا تھا جس میں دنیا کے متعدد ممالک سمیت بھارتی افراد نے شرکت کی تھی اور اس میں شریک 7 افراد کی موت واقع ہو گئی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ اجتماع میں شامل ہونے والے افراد کی حتمی تعداد کی تصدیق نہیں ہو سکی تاہم اس میں شرکت کرنے والے افراد کی تعداد 3400 تک تھی جس میں سے زیادہ تر غیر ملکی تھی۔

دہلی حکومت نے پولیس کو حکم دیا ہے کہ وہ حکومتی ہدایات پر عمل نہ کرنے کے جرم میں تبلیغی جماعت کے رہنماؤں کے خلاف مقدمات درج کریں۔

خیال رہے کہ بھارت میں 31 مارچ کی شام تک کورونا وائرس کے کیسز کی مجموعی تعداد 1251 سے زائد جب کہ ہلاکتوں کی تعداد 32 تک جا پہنچی ہے۔

روس میں بھی لاک ڈاؤن

روس میں کورونا وائرس کے ایک ہی دن میں 500 نئے کیسز سامنے آنے کے بعد دارالحکومت ماسکو سمیت کئی علاقوں میں لوگوں کے گھروں سے نکلنے پر پابندی عائد کردی گئی جب کہ وبا سے متعلق جھوٹی خبریں پھیلانے والے افراد کے لیے سزا بھی متعین کردی گئی۔

روس میں 31 مارچ تک کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 2337 تک جا پہنچی تھی جب کہ وہاں 17 ہلاکتیں بھی ہو چکی ہیں۔

کورونا کے پھیلنے کے باوجود روس میں دیگر ممالک کی طرح لاک ڈاؤن کا نفاذ نہیں کیا گیا تھا جب کہ 30 مارچ کو بھی صدر ولادی میر پیوٹن نے اپنے خطاب میں عوام کو بتایا کہ کورونا وائرس کے حوالے سے حالات قابو میں ہیں۔

تاہم ولادمیر پیوٹن کے خطاب کے بعد رات دیر گئے روسی حکام نے تصدیق کی کہ ملک بھر میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران نئے 500 کیسز سامنے آئے۔

روس میں ایک ہی دن میں ریکارڈ نئے کیسز سامنے آنے کے بعد دارالحکومت ماسکو سمیت کئی علاقوں کی مقامی حکومت نے لاک ڈاؤن نافذ کرتے ہوئے لوگوں کو گھروں تک محدود رہنے کا حکم دیا۔

پیوٹن سے ہاتھ ملانے والا ڈاکٹر وائرس کا شکار

دوسری جانب روسی صدر ولادمیر پیوٹن سے گزشتہ ہفتے ملاقات کرنے والے روسی ڈاکٹر کا کورونا وائرس کا ٹیسٹ مثبت آ گیا ہے۔

پیوٹن نے گزشتہ ہفتے منگل کو ماسکو کے ایک ہسپتال کا دورہ کیا تھا اور اس دوران انہوں نے ڈاکٹرز سے ملاقات کی تھی۔

تشویشناک امر یہ ہے کہ اس ملاقات کے دوران انہوں نے متاثرہ ڈاکٹر سے ہاتھ بھی ملایا تھا اور دونوں ہی شخصیات نے ماسک بھی نہیں پہنے ہوئے تھے۔

البتہ روسی حکام کا کہنا ہے کہ پیوٹن کا روزانہ کورونا وائرس کا ٹیسٹ کیا جا رہا ہے اور وہ مکمل طور پر صحتیاب ہیں۔

فلپائن اور انڈونیشا میں کیسز میں اضافہ

فلپائن میں بھی مزید کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں اور ملک میں ایک دن میں وائرس سے سب سے زیادہ اموات اور کیس رپورٹ ہوئے۔

منگل کو فلپائن میں مزید 10 افراد وائرس سے ہلاک ہوئے جس سے ملک میں مرنے والوں کی تعداد 88 ہوگئی ہے۔

اس کے علاوہ مزید 538 افراد میں وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جس سے متاثرہ افراد کی تعداد 2 ہزار 84 ہو گئی ہے۔

اسی طرح انڈونیشیا میں بھی مزید 14 افراد کی ہلاکت کے نتیجے میں مرنے والوں کی تعداد 136 ہو گئی ہے۔

انڈونیشیا میں مزید 114نئے کیسز بھی رپورٹ ہوئے جس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد بڑھ کر ایک ہزار 528 تک پہنچ گئی ہے۔

تھائی لینڈ میں بھی مزید 127 کیسز کا اضافہ ہوا ہے جس سے ملک میں متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد ایک ہزار 651 ہو گئی ہے جبکہ اب تک 10 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

جرمنی میں 67 ہزار افراد وائرس سے متاثر

جرمنی میں بھی کیسز میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جس سے اب تک ملک بھر میں متاثرہ مریضوں کی تعداد 67 ہزار تک پہنچ چکی ہے۔

ملک میں 24گھنٹے کے دوران مزید 128 افراد کی اموات کے نتیجے میں مجموعی طور پر 682 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

یاد رہے کہ کورونا وائرس کا آغاز چین کے شہر ووہان سے ہوا تھا جس کے بعد ووہان سمیت پورے صوبہ ہوبے کو لاک ڈاؤن کردیا گیا تھا۔

ملک میں 3 ہزار سے زائد اموات کے بعد سخت احتیاطی تدابیر کی بدولت چین اس وائرس پر قابو پانے میں کامیاب رہا لیکن اب یہ یورپ، امریکا اور مشرق وسطیٰ میں تیزی سے پھیل رہا ہے۔

اب تک اٹلی میں سب سے زیادہ 11 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں لیکن اب امریکا اس وائرس کا نیا مرکز بن چکا ہے جہاں ایک لاکھ 65 ہزار افراد وائرس کی زد میں آ چکے ہیں۔