پیپلز پارٹی کو وائرس سے نمٹنے کیلئے حکومتی طریقہ کار پر تشویش

اپ ڈیٹ 01 اپريل 2020

ای میل

قصور قرنطینہ مرکز ناقص انتظامات کی وجہ سے تفتان کی طرح بیماری کی آماجگاہ بن سکتا ہے—فائل فوٹو: اے ایف پی
قصور قرنطینہ مرکز ناقص انتظامات کی وجہ سے تفتان کی طرح بیماری کی آماجگاہ بن سکتا ہے—فائل فوٹو: اے ایف پی

اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ملک میں کورونا وائرس کی صورتحال سنبھالنے کے طریقہ کار پر تحفظات کا اظہار کیا ہے اور تین صوبوں سے تعلق رکھنے والے پارٹی رہنماؤں نے متاثرہ افراد کے لیے مقامی حکومتوں کی جانب سے کیے گئے انتظامات میں خامیوں کی نشاندہی کی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق پی پی پی پنجاب کے جنرل سیکریٹری اور سابق رکن قومی اسمبلی چوہدری منظور احمد نے پنجاب صحت حکام کی جانب سے قصور شہر کے مضافات میں بنائے گئے قرنطینہ مراکز کی ’ابتر صورتحال‘ پر روشنی ڈالی۔

دوسری جانب خیبرپختونخوا سے پی پی پی کے رہنما فیصل کریم کنڈی نے الزام لگایا کہ صوبائی حکومت نے قبائلی علاقوں کو نظر انداز کردیا اور انہیں کوئی سہولت نہیں دی جارہی۔

یہ بھی پڑھیں: وفاقی کابینہ نے بھی 'معاشی ریلیف پیکج' کی منظوری دے دی

ایک ویڈیو پیغام میں چوہدری منظور نے کہا کہ قصور قرنطینہ مرکز ناقص انتظامات کی وجہ سے تفتان کی طرح بیماری کی آماجگاہ بن سکتا ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ 100 سے زائد کووِڈ 19 کے مشتبہ مریض آئیسولیشن میں رکھے جانے کے بجائے ایک ساتھ رکھے گئے ہیں اور خدشہ ظاہر کیا کہ اگر ایک شخص کا ٹیسٹ مثبت آیا تو وہ دیگر کو بھی متاثر کرسکتا ہے۔

چوہدری منظور نے ایک ویڈیو کلپ بھی پوسٹ کیا جس میں لوگ بغیر کسی روک ٹوک کے ایک دوسرے سے مل رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ تمام مشتبہ افراد کو ایک ساتھ رکھ کر حکام قرنطینہ کے بنیادی تصور کے خلاف کام کررہے ہیں، ساتھ ہی یہ دعویٰ بھی کیا کہ پیر کی شام تک کسی ایک شخص کا بھی ٹیسٹ نہیں کیا گیا جبکہ وہاں تعینات، ڈاکٹروں، پولیس اہلکاروں اور طبی عملے کے پاس ذاتی تحفظ کی اشیا بھی نہیں۔

مزید پڑھیں: وزیراعظم کی آئی ڈی پیز، افغان مہاجرین کیلئے ریلیف پیکج تیار کرنے کی ہدایت

پی پی پی کے میڈیا سینٹر سے جاری کردہ ایک بیان میں فیصل کریم کنڈی نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ ’نیازی حکومت‘ وائرس کو سنجیدگی سے نہیں لے رہی اور ’سلیکٹڈ وزیراعظم اسے مذاق سمجھ رہے ہیں‘۔

سابق ڈپٹی اسپیکر نے دعویٰ کیا کہ قبائلی علاقہ جات میں کوئی قرنطینہ مرکز نہیں بنایا گیا، انہوں نے صوبائی حکومت اور وزرا کی جانب سے عوام کی مدد کے لیے ایک فیس بک پیچ بنانے کی بات کو مضحکہ خیز قرار دیا اور کہا کہ صوبے کے کن علاقوں میں انٹرنیٹ کی سہولت موجود ہے۔

دوسری جانب پی پی پی کی سیکریٹری اطلاعات ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے کہا کہ بدقسمتی کی بات ہے کہ وزیراعظم عمران خان لاک ڈاؤن کے فوائد کو نہیں سمجھ سکے حالانکہ عوام کی زندگیاں بچانے کے لیے اور کوئی راستہ نہیں۔

یہ بھی پڑھیں؛ کورونا سے پاکستان سمیت دیگر ترقی پذیر ممالک کی معیشت بری طرح متاثر ہوگی، رپورٹ

ایک بیان میں نفیسہ شاہ کا کہنا تھا کہ عمران خان اپنی ناقص پالیسی پر مصر ہیں کیوں کہ چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو اور ان کی ٹیم کورونا وائرس کی روک تھام کی پالیسی میں کامیاب رہی ہے اور وقت پر قوم کو اس وائرس سے بچا لیا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پنجاب اور خیبرپختونخوا نے پی ٹی آئی کی حکومت ہوتے ہوئے وزیراعظم کے احکامات نہیں مانے اور لاک ڈاؤن نافذ کیا جس سے دونوں صوبوں کے عوام عمران خان کے فیصلے سے محفوظ رہے۔