کورونا ریلیف فنڈ: وزیراعظم عمران خان کی قوم سے عطیات کی اپیل

اپ ڈیٹ 01 اپريل 2020

ای میل

وزیراعظم پاکستان—تصویر عمران خان فیس بک پیچ
وزیراعظم پاکستان—تصویر عمران خان فیس بک پیچ

وزیراعظم کے کورونا وائرس ریلیف فنڈ میں عطیات کی وصولی آج سے شروع ہوگئی ہے اور عمران خان نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ ڈالیں۔

واضح رہے کہ اس فنڈ کے قیام کا مقصد ان لوگوں کی مدد کرنا ہے جو کورونا وائرس کے باعث لگنے والے لاک ڈاؤن کی وجہ سے سخت مشکلات کا شکار ہیں۔

اس حوالے سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر عمران خان نے فنڈ کے قیام کے بارے میں بتایا اور لکھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ سب اس فنڈ میں اپنا حصہ ڈالیں تاکہ ان لوگوں کی دیکھ بھال ممکن ہوسکے جنہیں لاک ڈاؤن نے افلاس کے کنارے لاکھڑا کیا ہے۔

مزید پڑھیں: 'حکومت قرنطینہ مراکز، آئی سی یو میں آنے والے صحافیوں کو حفاظتی کٹ فراہم کریگی'

اکاؤنٹ کی تفصیل بتاتے ہوئے وزیراعظم نے لکھا کہ اپنے قابل ٹیکس عطیات نیشنل بینک آف پاکستان کی کراچی میں واقع مرکزی شاخ میں موجود اکاؤنٹ نمبر '4162786786' پر بھجوائیں۔

علاوہ ازیں اپنی ٹوئٹ میں انہوں نے اکاؤنٹ کی مکمل تفصیلات اور عطیات کی منتقلی کے حوالے سے ہدایات اس لنک پر دستیاب ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ دنوں قوم سے خطاب میں وزیراعظم عمران خان نے قوم پر زور دیا تھا کہ وہ آگے آئیں اور فنڈ میں عطیات دیں۔

انہوں نے کہا تھا کہ (یہ فنڈ) ان لوگوں کی مدد کے لیے استعمال ہوگا جنہیں لاک ڈاؤن نے مشکل میں ڈال دیا ہے۔

علاوہ ازیں وزیراعظم نے ایک اور ٹوئٹ میں لکھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ کورونا جیسی آفت سے نمٹنے کی کوششوں میں نوجوان ہمارا ساتھ دیں اور ہماری ٹائیگر فورس کا حصہ بنیں اور اس بیماری کے خلاف جنگ میں اپنا کردار ادا کریں۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ٹائیگر فورس کو اس وبا سے جنم لینے والے مصائب کے خلاف جہاد کے لیے منظم کیا جائے گا۔

وزیراعظم نے لکھا کہ سٹیزن پورٹل ایپلی کیشن کے استعمال کے ذریعے اس فورس میں اپنا اندراج کرواسکتے ہیں۔

یاد رہے کہ پیر کو قوم سے خطاب میں وزیراعظم نے کہا تھا کہ جو لوگ اس فنڈ میں عطیات جمع کروائیں گے انہیں ٹیکسز میں ریلیف دیا جائے گا جبکہ اس رقم کو ایک کروڑ 50 لاکھ ضرورت بندوں کو کھانا اور رقم فراہم کرنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

عمران خان نے کہا تھا کہ پاکستان حکمت عملی کے ساتھ کورونا وائرس کے خلاف جنگ لڑے گا چونکہ ہمارے ملک میں چین اور امریکا جیسے وسائل نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا تھا کہ امریکا نے کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے 2 ہزار 200 ارب ڈالر مختص کیے جبکہ پاکستان نے صرف 8 ارب ڈالر رکھے ہیں تاہم ہمارے پاس 2 چیزیں ہیں جس سے پاکستان اس مہلک وائرس سے لڑ سکتا ہے جس میں ایک ایمان ہے اور دوسرا ہمارے نوجوان ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: وبا کے دنوں میں کس طرح پاکستانی غریبوں کی مدد کر رہے ہیں؟

خیال رہے کہ 26 فروری کو اس وائرس کا پہلا کیس پاکستان میں سامنے آیا تھا اور 29 فروری تک یہ کیسز صرف 4 تک محدود تھے تاہم مارچ کے مہینے میں ان کیسز میں بہت تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا اور مارچ کی 31 تاریخ تک یہ تعداد 2 ہزار سے تجاوز کرگئی۔

یہی نہیں بلکہ 18 مارچ کو اس وائرس سے پاکستان میں پہلی ہلاکت سامنے آئی اور 31 مارچ تک یہ اموات 26 تک جاپہنچی جبکہ یکم مارچ کو ایک اور موت کی تصویق ہوئی۔

ملک میں مجموعی کیسز کی تعداد 2 ہزار 71 ہوگئی ہے، جس میں پنجاب سے سب سے زیادہ 740، سندھ سے 676، خیبرپختونخوا سے 253، بلوچستان سے 158، گلگت بلتستان سے 184، اسلام آباد سے 54 اور آزاد کشمیر سے 6 کیسز شامل ہیں۔