کورونا وائرس: عدالت نے حمزہ شہباز کے 'درخواست ضمانت' واپس لینے پر معاملہ نمٹادیا

اپ ڈیٹ 07 اپريل 2020

ای میل

حمزہ شہباز شریف—فائل فوٹو: ڈان نیوز
حمزہ شہباز شریف—فائل فوٹو: ڈان نیوز

لاہور ہائیکورٹ نے مسلم لیگ (ن) کے نائب صدر اور پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز کی جانب سے کورونا وائرس کے خدشے کے پیش نظر دائر کی گئی درخواست ضمانت واپس لیے جانے پر نمٹادی۔

عدالت عالیہ میں جسٹس سردار احمد نعیم کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے حمزہ شہباز کی درخواست ضمانت پر سماعت کی۔

دوران سماعت وکیل اعظم نذیر تارڑ نے درخواست میں اپنائے گئے مؤقف کے بارے میں کہا کہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں کورونا وائرس پھیل رہا ہے اور میڈیا رپورٹس کے مطابق جیلوں میں بھی کرونا وائرس کے مشتبہ مریض موجود ہیں جس کی وجہ سے جیل میں قید صوبائی اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز کے کورونا وائرس سے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

مزید پڑھیں: حمزہ شہباز نے کورونا وائرس کو بنیاد بنا کر ضمانت کیلئے رجوع کرلیا

اس موقع پر عدالت عالیہ کے جسٹس سردار احمد نعیم نے پوچھا کہ حمزہ شہباز کی میرٹ ضمانت کی درخواست کب مسترد ہوئی؟ جس پر وکیل نے جواب دیا کہ 11 فروری 2020 کو مسترد ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ پوری دنیا میں کورونا وائرس کی وجہ سے ریلیف دیا جا رہا ہے، یہ انسانی معاملہ ہے، منشیات کے مقدمے کا ملزم کیمپ جیل میں آیا جس کی وجہ سے جیل میں بھی کورونا وائرس آیا ہے، لہٰذا عدالت جیل حکام سے کورونا سے متعلق رپورٹ طلب کرے۔

انہوں نے کہا کہ حمزہ شہباز سنگین جرم میں ملوث نہیں ہے اور نہ ہی ان کے موکل عادی ملزم ہیں۔

تاہم اس موقع پر دلائل کے بعد حمزہ شہباز کے وکیل کی جانب سے مذکورہ درخواست کو واپس لے لیا گیا، جس پر عدالت نے معاملے کو نمٹادیا۔

خیال رہے کہ 28 مارچ کو پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز نے کورونا وائرس کی وجہ سے قیدیوں کے لیے پیدا ہونے والے 'ممکنہ جان لیوا خطرے' کو بنیاد بناتے ہوئے لاہور ہائیکورٹ میں ضمانت کی درخواست دائر کی تھی۔

اپنے وکیل کے توسط سے دائر درخواست میں حمزہ شہباز شریف نے کہا تھا کہ عالمی وبا کورونا وائرس ملک میں ایک خطرناک صورتحال کا باعث بن رہا ہے جبکہ دنیا بھر میں ایک ایمرجنسی جیسی صورتحال ہے۔

حمزہ شہباز نے مؤقف اپنایا تھا کہ ایک جیل میں محدود جگہ سماجی فاصلے کی پالیسی پر عملی طور پر عمل درآمد ناممکن بنا دیتی ہے، قیدی کمزور ہوتے ہیں اور اس وائرس کے پھیلنے سے ناقابل تلافی نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔

عدالت میں دائر درخواست میں چیئرمین نیب، ڈی جی نیب اور تفتیشی افسر کو فریق بناتے ہوئے کہا گیا تھا کہ قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے حمزہ شہباز کی گرفتاری کو 10 ماہ گزرنے کے باوجود ابھی تک احتساب کے ادارے نے ان کے خلاف کوئی ریفرنس دائر نہیں کیا۔

یہ بھی پڑھیں: نیب نے حمزہ شہباز کو احاطہ عدالت سے گرفتار کرلیا

واضح رہے کہ نیب اس وقت حمزہ شہباز شریف کے خلاف کرپشن کے مقدمات میں تحقیقات کر رہا ہے اور یہ ضمانت کی درخواست منی لانڈرنگ و آمدن سے زائد اثاثوں کے کیس میں دائر کی گئی تھی۔

یہاں یہ بات مدنظر رہے کہ رواں سال 6 فروری کو پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز کو رمضان شوگر ملز کیس میں ضمانت بعد از گرفتاری دی گئی تھی۔

تاہم 11 فروری کو لاہور ہائی کورٹ نے منی لانڈرنگ کیس میں مسلم لیگ (ن) کے نائب صدر اور پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز کی درخواست ضمانت مسترد کردی تھی۔