حیدرآباد: ’کورونا سے ہلاک‘ مریض میں وائرس کی غلط تشخیص کا انکشاف

اپ ڈیٹ 07 اپريل 2020

ای میل

مریض کی رپورٹس کو ان کے اہلِ خانہ نے سوشل میڈیا پر شیئر کیا—تصویر: اے ایف پی
مریض کی رپورٹس کو ان کے اہلِ خانہ نے سوشل میڈیا پر شیئر کیا—تصویر: اے ایف پی

حیدرآباد کے علاقے حسین آباد سے تعلق رکھنے والے رہائشی کا ایک نجی لیبارٹری سے کروایا گیا کورونا وائرس کا ٹیسٹ منفی آیا ان کا انتقال 3 اپریل کو ہوگیا تھا تاہم انہیں کورونا سے متاثرہ مریض سمجھا گیا تھا۔

اس سے نشاندہی ہوتی ہے کہ لیبارٹری ٹیکنیشن ہسپتالوں یا جہاں کہیں بھی نمونے لے رہے ہیں ان کے طریقہ کار ناقص ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق مذکورہ شخص کی وفات حیدرآباد میں کورونا وائرس کی پہلی ہلاکت تصور کی گئی تھی۔

54 سالہ شخص کو لیاقت یونیورسٹی ہسپتال (ایل یو ایچ) کے ایمرجنسی وارڈ میں لایا گیا تھا جہاں سے انہیں کورونا وائرس کی تشخیص سے قبل انتہائی نگہداشت یونٹ منتقل کردیا گیا تھا اور اسی ہسپتال کے آئی سی یو میں شعبہ ادویات کی ایک خاتون نے ان کے نمونے ٹیسٹ کے لیے حاصل کیے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں کورونا متاثرین کی تعداد 3864، اموات 54 ہوگئیں، 429 صحتیاب

ہسپتال ذرائع کا کہنا تھا کہ مذکورہ شخص مفلوج اور متعدد بیماریوں کا شکار تھے، وہ فالج کے بعد ایک سال سے ایک نجی ہسپتال کے دماغی امراض کے ڈاکٹر کے زیر علاج تھے جہاں سے انہیں لیاقت یونیورسٹی ہسپتال منتقل کیا گیا تھا۔

لیاقت یونیورسٹی کی لیبارٹری میں ان نمونوں کا جائزہ لینے کے بعد ہی تشخیص کی گئی کہ مذکورہ شخص کورونا سے متاثر ہے جس کے بعد انہیں فوری طور پر آئیسولیشن وارڈ منتقل کردیا تھا۔

اس حوالے سے ایک ڈاکٹر نے بتایا کہ ’جس خاتون ڈاکٹر نے مذکورہ مریض کا معائنہ کیا تھا خوف کے باعث ان کی حالت تشویشناک ہوگئی تھی اور وہ بہت زیادہ خوفزدہ تھیں جبکہ دیر ڈاکٹروں نے 15 روز کے لیے آئی سی یو کی ڈیوٹی چھوڑنے کا سوچنا شروع کردیا تھا‘۔

ہسپتال ذرائع کا کہنا تھا کہ ’آئیسولیشن وارڈ میں منتقل کیے جانے کے بعد مریض کا 3 اپریل کو انتقال ہوگیا لیکن اسے سے قبل ان کا ایک اور نمونہ اسی ٹیکنیشن نے لیا اور اسے ایک مشہور نجی لیبارٹری میں ٹیسٹ کے لیے بھجوایا گیا‘۔

مزید پڑھیں: گوجر خان: کورونا وائرس کے2 مریضوں سے 19قریبی عزیز متاثر

جس کی اگلے روز موصل ہونے والی رپورٹ منفی آئی جسے صدمے کا شکار مریض کے اہلِ خانہ نے سوشل میڈیا پر شیئر کیا۔

ایک ہی مریض کی 2 مختلف رپورٹس کے بارے میں کوئی حکام کا نقطہ نظر دینے کو تیار نہ ہوا جبکہ ان کے اہلِخانہ کو افسوس اس بات کا ہے کہ وہ اپنے پیارے کی تدفین روایتی احترام کے ساتھ نہیں کرسکے جو انتظامیہ اور پولیس نے کہ تھی بلکہ حیدرآباد کے ایس ایس پی نے تدفین کے موقع پر ایک درجن سے زائد افراد کو جمع ہونے سے روکنے میں ناکامی پر ایس ایچ او حسین آباد کو معطل کردیا تھا۔

تاہم ایک عہدیدار کا کہنا تھا کہ ’یہ بہت بڑی ناانصافی ہے کہ متوفی کورونا وائرس سے متاثر نہیں تھے اور ان کے اہلِ خانہ کو احترام کے ساتھ تدفین نہیں کرنے دی گئی‘۔

دوسری جانب ہسپتال لے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر مظہر کلہوڑو نے ایک سوال کے جواب میں محض اتنا کہا کہ ’جی ایک مریض کی 2 مختلف رپورٹس آئی ہیں جس کا نمونہ دونوں مرتبہ ایک ہی ٹیکنیشن نے حاصل کیا تھا‘۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم کی طبی عملے کو حفاظتی اشیا فراہم کرنے کی ہدایت

علاوہ ازیں کچھ ڈاکٹروں نے پسِ پردہ بات کرتے ہوئے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’مذکورہ شخص میں کورونا وائرس کی تمام ممکنہ علامتیں مثلاً تیز بخار، کھانسی، سانس لینے میں تکلیف، موجود تھیں اور ان کے ڈاکٹر نے بھی انہیں کورونا کے مشتبہ مریض کے طور پر لیاقت ہسپتال بھجوایا تھا‘۔

اس واقعے سے قبل لطیف آباد کے کوہسار ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کی بھی دو مختلف رپورٹس موصول ہوئیں اور ڈی آر ایل کی رپورٹ میں وائرس کی نشاندہی ہوئی جبکہ نجی لیبارٹری کے ٹیسٹ میں وائرس تشخیص نہیں ہوا جس کے بعد اسی نمونے کا دوبارہ ٹیسٹ کیا گیا اور دونوں رپورٹس دوبارہ وہی رہیں۔