گندم بحران تحقیقاتی رپورٹ: صوبائی وزیر خوراک مستعفیٰ، 2 بیوروکریٹس سبکدوش

اپ ڈیٹ 07 اپريل 2020

ای میل

بیوروکریٹس نے عدالت جانے کا بھی تذکرہ کیا —فوٹو: سمیع اللہ فیس بک اکاؤنٹ
بیوروکریٹس نے عدالت جانے کا بھی تذکرہ کیا —فوٹو: سمیع اللہ فیس بک اکاؤنٹ

لاہور: گندم بحران کی تحقیقاتی رپورٹ سامنے آنے کے بعد پنجاب کے وزیر خوراک سمیع اللہ چوہدری نے استعفیٰ پیش کردیا جبکہ تحقیقاتی رپورٹ میں نامزد دیگر دو سیکریٹری خوراک نسیم صادق اور فوڈ ڈائریکٹر ظفر اقبال کو ذمہ داری سے سبکدوش کردیا گیا۔

دونوں عہدیداروں کو ان کی موجودہ ذمہ داریوں سے ہٹا کر خصوصی ڈیوٹی (او ایس ڈی) پر منتقل کردیا گیا۔

مزید پڑھیں: وفاقی کابینہ میں رد و بدل، خسرو بختیار اور حماد اظہر کے قلمدان تبدیل

دوسری جانب حزب اختلاف کی جماعتوں نے حکومت پنجاب کی جانب سے کی جانے والی کارروائی پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اور اہلکاروں کو ’اصل مجرموں‘ کے تحفظ کے لیے قربانی کا بکرا بنایا جارہا ہے۔

واضح رہے کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے ہفتے کے روز پبلک ڈپارٹمنٹ پنجاب کو گندم کی خریداری مہم میں دو ہفتوں سے تاخیر کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت کے سکریٹری محکمہ میں اصلاحات لانے میں ناکام رہے۔

مذکورہ رپورٹ کے بعد عوامی حلقے میں ان پر شدید تنقید نے سمیع اللہ چوہدری کو اپنا عہدہ چھوڑنے پر مجبور کردیا۔

انہوں نے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار سے ملاقات کی اور سمیع اللہ چوہدری نے صوبائی کابینہ چھوڑنے کے فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے ایک مختصر مراسلہ ان کو پیش کردیا۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم نے آٹا اور چینی بحران کے ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی یقین دہانی کروا دی

وزیراعلیٰ کو مخاطب کرتے ہوئے مراسلے میں سمیع اللہ چوہدری نے کہا کہ (میں) وزیر اعظم عمران خان کی خواہش کی تکمیل کے لیے ایسے ہزاروں عہدوں کی قربانی دینے کے لیے تیار ہوں۔

انہوں نے کہا کہ محکمہ خوراک میں اصلاحات متعارف نہ کرنے کے حوالے سے پچھلے کچھ دنوں سے مجھ پر بے بنیاد الزامات لگائے جارہے ہیں، اس کی وجہ سے میں رضاکارانہ طور پر مستعفی ہونے کا اعلان کرتا ہوں۔

اردو میں لکھے گئے نوٹ میں انہوں نے کہا کہ میں اپنے آپ کو دفتر کے لیے اہل نہیں سمجھتا جب تک کہ میں قصوروار ثابت نہیں ہوجاتا اور میں ہر فورم پر اپنے آپ کو جوابدہی کے لیے پیش کرنے پر آمادہ ہوں۔

واضح رہے کہ تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ سندھ میں گندم کی خریداری صفر رہی جبکہ اس کا ہدف 10 لاکھ ٹن تھا، اسی طرح پنجاب نے 33 لاکھ 15 ہزار ٹن گندم خریدی جبکہ اس کی ضرورت و ہدف 40 لاکھ ٹن تھا۔

رپورٹ میں سابق سیکریٹری برائے حکومت پنجاب نسیم صادق اور سابق ڈائریکٹر فوڈ ڈاکٹر ظفر اقبال کو ان سنگین کوتاہیوں کا ذمہ دار قرار دیا گیا تھا۔

مزیدپڑھیں: آٹے کا بحران پیدا کرنے میں 204 فلور ملز ملوث ہیں، محکمہ خوراک

رپورٹ میں صوبائی وزیر خوراک سمیع اللہ چوہدری کا بھی حوالہ دیا گیا کہ انہوں نے محکمہ خوراک میں دیرینہ مسائل سے نمٹنے کے لیے کوئی اصلاحاتی ایجنڈا وضع نہیں کیا۔

علاوہ ازیں سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈپارٹمنٹ کی طرف سے جاری ایک نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ گریڈ 21 کے افسر نسیم صادق سے محکمے کو رپورٹ کرنے کو کہا گیا ہے۔

گریڈ 18 کے افسر طاہر فاروق کو ڈی جی کا کمشنر تعینات کیا گیا تھا اور نسیم صادق اس وقت ڈیرہ غازی خان کمشنر کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے تھے۔

نسیم صادق نے دعوی کیا کہ انہوں نے خود ہی حکام سے درخواست کی تھی کہ وہ انہیں فارغ کردیں کیونکہ وہ کسی عوامی عہدے میں رہے بغیر اپنا مقدمہ لڑنا چاہتے ہیں تاکہ کوئی بھی ان پر یہ الزام نہ لگا سکے کہ وہ تحقیقات پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔

اس سلسلے میں انہوں نے عدالت جانے کا بھی تذکرہ کیا۔

یہ بھی پڑھیں: گندم کی خریداری میں کمی آٹے کے بحران کی وجہ بنی، رپورٹ

انہوں نے کہا کہ گندم خریداری مہم پہلے ہی آٹھویں دن میں داخل ہو چکی تھی تو انہوں نے بطور سیکریٹری خوراک کا چارج سنبھالا تھا اور اس طرح اس عمل میں تاخیر کا الزام ان پر نہیں عائد کیا جاسکتا۔

انہوں نے نیشنل فوڈ سیکیورٹی کے سیکریٹری ڈاکٹر ہاشم پوپلزئی کے لکھے ہوئے مراسلے (مورخہ 11 جون ، 2019) کو بھی شیئر کیا جس میں کہا گیا کہ گندم کی خریداری صوبائی حکومت کے طے شدہ ہدف کو پورا کررہی ہے۔

تاہم اسی مراسلے میں مقامی مارکیٹ میں گندم اور گندم کے آٹے کی بڑھتی قیمتوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔

صوبائی سول سروس سے تعلق رکھنے والے نسیم صادق کے قریبی ساتھی نے ڈان کو بتایا کہ سابق سیکریٹری کا خیال ہے کہ کچھ وجوہات کی بنا پر اس بحران میں ملوث ہونے کے پیچھے پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس (پی اے ایس) کی ایک طاقتور لابی کا ہاتھ ہے۔

مزید پڑھیں: چینی کی برآمد، قیمت میں اضافے سے جہانگیر ترین کو سب سے زیادہ فائدہ پہنچا، رپورٹ

انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ نسیم صادق پی ٹی آئی کے رہنما جہانگیر خان ترین کے ساتھ اچھے تعلقات بھی ہیں۔

دریں اثنا پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کی انفارمیشن سیکریٹری عظمیٰ بخاری نے کہا کہ وزیر اعظم اور پنجاب کے وزیر اعلیٰ کی حفاظت کے لیے سمیع اللہ چوہدری کو قربانی کا بکرا بنایا گیا جو ان کے بقول چینی اور آٹے کے بحران کے اصل مجرم ہیں۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ شوگر اسکینڈل میں خسرو بختیار بھی شامل تھے اور اب ان کا پورٹ فولیو قومی فوڈ سیکیورٹی سے تبدیل کرکے معاشی ڈویژن کردیا گیا۔

عظمیٰ بخاری نے کہا کہ وہ سمجھتی ہیں کہ خسرو بختیار کو اپنا پورٹ فولیو تبدیل کرنے کی بجائے انہیں باہر کا دروازہ دکھا دینا چاہیے تھا۔

مزید پڑھیں: وزیراعظم نے چینی کی قیمتوں میں اضافے کی تحقیقات کیلئے کمیٹی قائم کردی

پی پی پی کے پارلیمانی لیڈر حسن مرتضیٰ نے بھی ان کے مؤقف کی حمایت کی اور مطالبہ کیا کہ پی ٹی آئی کی سینئر قیادت وزیر خوراک سمیع اللہ چوہدری کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اپنے عہدوں سے استعفی دے دیں۔

انہوں نے کہا کہ چونکہ چینی برآمد کے لیے سبسڈی وزیر اعظم اور وزیر اعلی پنجاب نے منظور کی تھی لہذا وہ اس کیس کے اصل ملزم ہیں اور انہیں اپنے متعلقہ دفاتر کو ایک ساتھ چھوڑ دینا چاہیے۔

پاکستان عوامی تحریک (پی اے ٹی) نے حکومت کی جانب سے رپورٹ کو منظر عام پر لانے کے اقدامات کا خیرمقدم کیا۔

عوامی تحریک کے انفارمیشن سیکریٹری نور اللہ صدیقی نے وزیر اور بیوروکریٹس کے خلاف کارروائی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ جب تک تاجروں اور صنعت کاروں کو سرکاری پالیسیاں بنانے کی اجازت دی جاتی ہے اس طرح کے اسکینڈلز سامنے آتے رہیں گے۔


یہ خبر 7 اپریل 2020 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی