حفاظتی سامان، اضافی مالی ریلیف کی درخواست پر ڈاکٹروں پر جرمانہ عائد

اپ ڈیٹ اپريل 25 2020

ای میل

5 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس محمد قاسم خان نے لکھا—فائل فوٹو: ڈان
5 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس محمد قاسم خان نے لکھا—فائل فوٹو: ڈان

لاہور ہائی کورٹ نے پنجاب کے ہسپتالوں میں بحیثیت ورکنگ افسران کام کرنے والے ڈاکٹروں کی جانب سے ذاتی تحفظ کا سامان ( پی پی ای) اور حکومت سے اضافی مالی ریلیف حاصل کرنے کی درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کردیا۔

عدالت عالیہ کے چیف جسٹس محمد قاسم خان نے ڈاکٹر زوہیب سمیت دیگر کی درخواست پر 5 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا۔

جس میں عدالت نے نہ صرف درخواست خارج کردی بلکہ درخواست گزاروں کو کارروائی کے اخراجات ادا کرنے کا حکم دیا، ساتھ ہی محکمہ صحت پنجاب کو ان ڈاکٹروں کے خلاف کسی بھی قانون کو توڑنے یا ’ادارے کی بدنامی کا سبب ‘ بننے پر کارروائی کی اجازت بھی دے دی۔

حکم نامے کے مطابق درخواست گزار نے کورونا وائرس سے لڑنے والے تمام طبی ماہرین کے لیے حفاظتی اشیا فراہم کرنے کی درخواست کی تھی لیکن عدالت کے سامنے پیش کیے گئے ریکارڈ سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ان 5 درخواست گزاروں میں سے کسی کی بھی ڈیوٹی کورونا وائرس سے متعلق نہیں تھی۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم کی طبی عملے کو حفاظتی اشیا فراہم کرنے کی ہدایت

فیصلے میں کہا گیا کہ ایک ڈاکٹر کو صرف ایک دن کورونا وائرس کے مریضوں کی اسکریننگ پر تعینات کیا گیا تھا جس کے لیے انہیں مکمل حفاظتی اشیا فراہم کی گئی تھیں۔

تحریری حکم میں کہا گیا کہ ’جو کچھ بھی اوپر بیان کیا گیا اس کی روشنی میں درخواست بدنیتی کی بنیاد پر بغیر کسی ٹھوس وجہ کے سستی شہرت حاصل کرنے کے لیے دائر کی گئی‘۔

پنجاب حکومت کے پیش کردہ موقف کہ کورونا مریضوں کا علاج کرنے والے ڈاکٹروں کو پی پی ایز فراہم کی جارہی ہیں کو قبول کرتے ہوئے عدالت نے تحریری حکم میں یہ بھی لکھا کہ عالمی وبا کے باعث جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس میں متعدد ترقی پذیر ممالک کو حفاظتی اشیا کی کمی کا سامنا ہے۔

مزید پڑھیں: کورونا وائرس کے پھیلنے پر ہسپتالوں کو حفاظتی کٹس کی فراہمی کی فکر

عدالت کا کہنا تھا کہ حکومت پنجاب کے خلاف فیصلہ دینا غیر منصفانہ ہوگا جبکہ وہ بھرپور طریقے سے ڈاکٹروں کی حفاظت یقینی بنا رہی ہے اور بحیثیت سرکاری ملازم ڈاکٹروں کی بھی ریاست کی جانب کچھ ذمہ داری ہے۔

عدالت کا مزید کہنا تھا کہ ’اگر تمام اچھی وجوہات کی بنا پر ہم ڈاکٹروں کو سب سے بڑھ کر عزت دیتے ہیں تو اسی طرح ہم غلط معلومات اور ریاست یا اداروں پر الزامات عائد کر کے معاشرے میں افراتفری پھیلانے اور تباہ کن کھیل کھیلنے کی اجازت نہیں دے سکتے‘۔

لاہور ہائیکورٹ کا مزید کہنا تھا کہ ڈاکٹروں کی جانب سے مالی ریلیف ییکج دینے سمیت دائر درخواستیں براہ راست ان کی ملازمت کی شرائط سے منسلک ہیں جس کے لیے ان کے پاس مسئلے کے حل کے لیے محکمہ صحت کی صورت میں ایک نظام موجود ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ڈاکٹروں کا حکومت سے لاک ڈاؤن مزید سخت کرنے کا مطالبہ

عدالت کا کہنا تھا کہ سرکاری ملازمین کے مسائل کے حل کے لیے دستیاب طریقہ کار سے رجوع کیے بغیر ملازم ایک آئینی درخواست کے ساتھ ہائی کورٹ سے رجوع نہیں کرسکتے۔