کورونا وائرس سے متاثرہ ایشیائی اسٹاک مارکیٹ 7 ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

اپ ڈیٹ 29 اپريل 2020

ای میل

کورونا وائرس کے ممکنہ علاج سے متعلق مثبت خبریں اور ویکسین کی تیاری میں پیشرفت کی وجہ سے حالیہ اضافہ ہوا — فوٹو: رائٹرز
کورونا وائرس کے ممکنہ علاج سے متعلق مثبت خبریں اور ویکسین کی تیاری میں پیشرفت کی وجہ سے حالیہ اضافہ ہوا — فوٹو: رائٹرز

کورونا وائرس کے باعث مختلف معاشی خدشات اور عالمی سطح پر کاروباری سرگرمیاں متاثر ہونے کے بعد ایشیائی مارکیٹ 7 ہفتے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی جبکہ وال اسٹریٹ میں ٹیکنالوجی فرمز کے انڈیکس میں کمی دیکھی گئی۔

برطانوی خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کی رپورٹ کے مطابق یورو اسٹاکس 50 فیوچرز میں 0.4 فیصد جبکہ جرمنی کے ڈاکس انڈیکس اور لندن کے ایف ٹی ایس ای میں 0.7، 0.7 فیصد اضافہ ہوا۔

کورونا وائرس کے عالمی وبا سے پہنچنے والے معاشی دھچکے میں کمی سے متعلق دنیا بھر میں مالیاتی پالیسی کے محرکات کے باعث رواں ماہ یہ اضافہ دیکھا گیا۔

دوسری جانب کورونا وائرس کے ممکنہ علاج سے متعلق مثبت خبریں اور ویکسین کی تیاری میں پیشرفت کی وجہ سے بھی کاروبار میں اضافہ ہوا۔

مزید پڑھیں: عالمی منڈی میں تیل کی قیمت میں کمی اسٹاک مارکیٹ پر بھی اثر انداز

مزید برآں امریکا، یورپ اور آسٹریلیا میں پابندیوں میں بتدریج نرمی جبکہ نیوزی لینڈ نے رواں ہفتے کچھ کاروباری مراکز کھولنے کی اجازت دی تھی جس کے باعث سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے کہ شاید وائرس کا عروج ختم ہورہا ہے۔

ان اقدامات کے باعث امریکی خام تیل کی مانگ میں بحالی میں مدد کی اُمید ہے جو 11 فیصد اضافے سے 13.66 ڈالر فی بیرل ہوا جبکہ برینٹ 3.6 فیصد اضافے سے 2120 ڈالر فی بیرل ہوگیا۔

جاپان سے باہر ایشیا پیسیفک کے ایم ایس سی آئی کے بروڈیسٹ انڈیکسشیئرز میں 0.7 فیصد دیکھا گیا جہاں رواں ہفتے 3.3 فیصد اضافہ ہوا۔

دن کے آغاز پر یہ 471.86 کی بلند ترین سطح پر پہنچا جو 12 مارچ کے بعد پہلی مرتبہ دیکھا گیا تاہم اس دوران جاپان کی مارکیٹس سرکاری تعطیل کی وجہ سے بند تھیں۔

آسٹریلیا کے شیئرز توانائی کی فرمز کی قیادت کے ساتھ 1.2 فیصد اضافے کے بعد بند ہوگئے جبکہ جنوبی کوریا کے شیئرز میں 0.8 فیصد اضافہ ہوا اور چینی مارکیٹ انڈٰکس میں 0.2 فیصد اضافہ ہوا۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی تیل کی قیمت گرنے کے بعد بحالی کی جانب گامزن

رات گئے وال اسٹریٹ پر سرمایہ کاروں کی جانب سے ٹیکنالوجی کی 3 بڑی کمپنیوں کے شیئرز میں کمی ریکھی گئی اور تینوں کے امریکی اسٹاکس نچلی ترین سطح پر پہنچ گئے تھے۔

ڈاؤ جونز انڈسٹریل ایوریج 0.3 فیصد گرا، ایس اینڈ پی 500 میں 0.5 فیصد اور نسداق کمپوزٹ 1.4 فیصد کمی آئی۔

سرمایہ کار اب دیگر ٹیکنالوجی فرمز بشمول ایمزون، ایپل ارننگز اور مائیکروسافٹ کارپوریشن کے نتائج کا انتظار کررہے ہیں۔

کاروبار وقت سے قبل دوبارہ کھلنے سے کورونا وائرس کے تیزی سے پھیلاؤ کے خدشات کے باعث کرنسیوں میں جاپانی ین کے مقابلے میں ڈالر کی قدر 106.52 ہوگئی۔

یورو کی قدر 0.3 فیصد اضافے کے ساتھ 1.0852 ڈالر ہوگئی جبکہ ڈالر کے انڈیکس میں دیگر کرنسیوں کے مقابلے میں 0.2 فیصد کمی آئی۔