سندھ ہائی کورٹ نے نوٹیفکیشن واپس لینے پر فیسوں میں کمی کی درخواست نمٹادی

اپ ڈیٹ 29 اپريل 2020

ای میل

قواعد میں ترمیم کر دی گئی ہے اس کے تحت بہت جلد نیا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا —فائل فوٹو: وکیمیڈیا
قواعد میں ترمیم کر دی گئی ہے اس کے تحت بہت جلد نیا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا —فائل فوٹو: وکیمیڈیا

سندھ حکومت نے پرائیویٹ اسکولوں کی فیس میں 20 فیصد کٹوتی کا نوٹیفکیشن واپس لے لیا، جس کے بعد سندھ ہائی کورٹ نے پرائیویٹ اسکولوں کی جانب سے فیسوں میں کمی کے خلاف درخواست نمٹادی۔

اسکول فیسوں میں 20 فیصد کٹوتی سے متعلق صوبائی حکومت کے نوٹیفکیشن کے خلاف درخواست کی سماعت جسٹس ندیم اختر اور جسٹس عدنان کریم میمن پر مشتمل عدالت عالیہ کے دو رکنی بینچ نے کی۔

سماعت کے دوران سندھ حکومت کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ صوبائی حکومت نے اسکولوں کی فیس میں 20 فیصد رعایت کا پرانا نوٹیفکیشن واپس لے لیا۔

انہوں نے بتایا کہ قواعد میں ترمیم کر دی گئی ہے اس کے تحت بہت جلد نیا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: سندھ ہائیکورٹ نے اسکول فیسوں میں 20 فیصد کمی کا نوٹیفکیشن معطل کردیا

دوران سماعت اپنے دلائل میں ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سندھ کا کہنا تھا کہ اسکول فیس کے حوالے سے نئے رولز بنائے ہیں آرڈیننس آچکا ہے جسے منظوری کے لیے گورنر سندھ کو بھجوادیا ہے۔

ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کا مزید کہنا تھا کہ درخواست اب غیر مؤثر ہوچکی ہے لہذا خارج کی جائے۔

عدالت نے دوران سماعت ڈائریکٹر جنرل پرائیوٹ اسکولز منصوب صدیقی سے استفسار کیا کہ آپ نے کس اتھارٹی کے تحت نوٹفیکشن جاری کیا تھا؟ آپ ایک سنئیر آفیسر ہیں کسی کو تنگ کرنے نہیں بیٹھے ہیں۔

جس پر ڈی جی پرائیویٹ اسکولز نے جواب دیا کہ وزیر اعلی سندھ کے کہنے پر فیس میں کمی کا نوٹفیکشن جاری کیا تھا۔

اس پر عدالت نے کہا کہ حالات جیسے بھی ہوں اگر وزیر اعلی کنویں میں کودنے کا کہیں گے تو کود جاؤ گے؟

مزید پڑھیں: سندھ کے نجی اسکولوں کو اپریل، مئی کی فیس میں 20 فیصد کمی کی ہدایت

عدالت نے ڈی جی پرائیوٹ اسکولز کو تنبیہ کی کہ پہلے آپ کو اختیار نہیں تھا اب ملا ہے یہ اختیار، لہذا آئندہ خیال رکھیں۔

بعدازاں عدالت نے ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل سندھ کی جانب سے نوٹیفکیشن واپس لینے کے بیان پر فیسوں میں کٹوتی کی درخواست نمٹادی۔

یاد رہے کہ کورونا وائرس کے باعث درپیش صورتحال کو مدِ نظر رکھتے ہوئے 7 اپریل کو محکمہ تعلیم سندھ نے ایک نوٹیفکیشن جاری کر کے تمام نجی اسکولوں کو ماہ اپریل اور مئی کی فیسوں میں 20 فیصد کمی کی ہدایت کی تھی۔

اعلامیے میں ہدایات کی گئی تھیں کہ صوبے کے تمام نجی اسکولوں کو لازمی طور پر ماہ اپریل اور مئی کی ٹیوشن فیس میں 20 فیصد کمی کرنا ہو گی۔

صوبائی حکومت نے نجی اسکولوں کی جانب سے ہدایات پر عمل نہ کرنے کی صورت میں والدین کی جانب سے شکایات کے لیے ایک خصوصی شکایتی سیل بھی تشکیل دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں نجی اسکولوں کو فیسوں میں 20 فیصد کمی کی ہدایت

محکمہ تعلیم کی جانب سے یہ تنبیہ بھی کی گئی تھی کہ اگر نجی تعلیمی اداروں نے ہدایات پر عمل نہ کیا تو ان کے خلاف سخت تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

جس کے خلاف دی ٹائمز ایجوکیشن پرائیویٹ لمیٹڈ اور دیگر نے ڈائریکٹوریٹ آف انسپیکشن/رجسٹریشن آف پرائیویٹ انسٹیٹیوشن، سندھ اسکول ایجوکیشن اینڈ لٹریسی ڈپارٹمنٹ نے سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

درخواست گزار کے وکیل نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ فریقین کے پاس اس قسم کے نوٹیفکیشن جاری کرنے کا کوئی اختیار نہیں اور نہ ہی نوٹیفکیشن میں یہ بات ظاہر کی گئی کہ یہ فیصلہ متعلقہ حکام یا کابینہ کے اجلاس میں کیا گیا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ فیسوں میں کمی کا فیصلہ نجی طور پر چلنے والے اسکولز اور ان کی تنظیموں کا مؤقف سنے بغیر کیا گیا۔

جس پر 16 اپریل کو عدالت نے صوبائی حکومت کی جانب سے 22 اپریل تک اسکولوں میں فیسوں میں 20 فیصد کمی کا نوٹیفکیشن معطل کردیا تھا۔