کووڈ 19 کے علاج کیلئے منفرد طریقہ کار کی مختلف ممالک میں آزمائش

مئ 03 2020

ای میل

— شٹر اسٹاک فوٹو
— شٹر اسٹاک فوٹو

نئے نوول کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 کے علاج کو ڈھونڈنے کے لیے دنیا بھر کے سائنسدان کوششیں کررہے ہیں اور ہر طرح کے طریقہ کار کو آزمایا جارہا ہے۔

یعنی بیمار ہوکر تندرست ہونے والے افراد کے خون سے پلازما سے دیگر مریضوں کے علاج کے پرانے طریقہ کار سے لے کر انسداد ملیریا ادویات اور دیگر۔

ان میں سے ایک اسٹیم سیل تھراپی بھی ہے جو مختلف امراض کے علاج کے لیے استعمال ہورہی ہے مگر اب اسے کووڈ 19 کے مریضوں کے لیے بھی آزمایا جارہا ہے اور کئی ممالک پر اس میں کام ہورہا ہے۔

درحقیقت چند ممالک میں کسی حد تک کامیابی بھی نظر آئی ہے۔

متحدہ عرب امارات

اس مسلم ملک میں اسٹیل سیل تھراپی کا کلینیکل ٹرائل اب تک کامیاب ہوا ہے اور 73 مریضوں کا کامیابی سے علاج ہوا اور وہ صحتیاب ہوکر ہسپتال سے گھر چلے گئے۔

ابوظبہی کے ڈاکٹروں کے مطابق یہ طریقہ کار کورونا وائرس سے ہھیپھڑوں کو پہنچنے والے نقصان کی مرمت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور بہت آسان ہے کیونکہ اس میں اسٹیم سیلز کو سانس کے ذریعے جسم میں داخل کیا جاتا ہے۔

شیخ خلیفہ میڈیکل سٹی کے شعبہ Hematology اور Hematology کی سربراہ ڈاکٹر فاطمہ الکابی نے ہفتے کو ایک پریس کانفرنس میں بتایا 'ابوظبہی اسٹیم سیل سینٹر میں ہم نے کووڈ 19 کے مریضوں کے علاج میٰں مدد دینے والا یہ طریقہ کار تیار کیا جو یو اے ای میں پہلی بار کلینیکل ٹرائلز سےس گزر رہا ہے، یہ ایک قومی کامیابی ہے'۔

انہوں نے وضاحت کی کہ یہ علاج میں معاونت کرنے والا طریقہ کار ہے باقاعدہ علاج نہیں۔

اس طریقہ کار سے مریض کے اپنے خون کی مدد سے اسٹیم سیلز تیار کرکے سانس کے لیے ذریعے جسم میں داخل کیے جاتے ہیں، جو پھیپھڑوں کے خلیات کے بننے میں مدد دیتے ہیں اور مدافعتی ردعمل کو کنٹرول میں رکھتا ہے تاکہ وہ زیادہ متحرک ہوکر جسم کو مزید نقصان نہ پہنچادے۔

ڈاکٹروں نے بتایا کہ کلینیکل ٹرائل کا ابتدائی مرحلہ کامیابی سے مکمل کرلیا گیا ہے اور یہ طریقہ کار محفوظ ثابت ہوا اور صحتیاب افراد میں کسی قسم کے مضر اثرات اب تک نظر نہیں آئے۔

ویسے صرف یو اے ای میں نہیں بلکہ کئی اور ممالک میں بھی اس سے ملتے جلتے طریقہ کار پر کام کیا جارہا ہے۔

آسٹریلیا

آسٹریلیا کے شہر سڈنی کے وکٹر چینج کارڈک ریسرچ انسٹیٹوٹ میں نئے نوول کورونا وائرس کے مریض کے لیے اسٹیم سیل طریقہ علاج کی آزمائش شروع کی جاچکی ہے اور اس کی وجہ نیویارک کے ماؤنٹ سینائی ہاسپٹل میں اس انسٹیٹوٹ کے اشتراک سے اس کے ابتدائی ٹرائل میں اس کی کامیابی ہے۔

آسٹریلین پروفیسر جیسن کوواسک کے مطابق امریکا میں 12 مریضوں پر اسٹیم سیل تھراپی کا استعمال کیا گیا تو ان میں سے 9 افراد کے لیے صرف 10 دن میں وینٹی لیٹر کی ضرورت باقی نہیں رہی۔

انہوں نے بتایا کہ یہ اسٹیم سیلز تھراپی کسی بھی مریض پر آزمائی جاسکتی ہے جو ورم کو پھیلنے سے روکنے کے ساتھ مدافعتی ردعمل میں بھی تبدیلیاں لاتا ہے۔

آسٹریلین انسٹیٹوٹ آئندہ چند ہفتوں میں مقامی مریضوں پر ٹرائل شروع ہوجائے گا اور ماہرین کو توقع ہے کہ اس طریقہ علاج سے کووڈ 19 میں مبتلا خون کی شریانوں سے جڑے امراض یا امراض قلب کے شکار افراد کی شرح اموات میں کمی لائی جاسکے گی۔

امریکا

امریکا میں بھی اس طرح کے طریقہ کار آزمایا جارہا ہے بلکہ سائوتھ فلوریڈا کے ڈاکٹروں کی ایک ٹیم نے کووڈ 19 کے 3 قریب المرگ مریضوں کا کامیاب علاج بھی تجرباتی اسٹیم سیل ٹریٹمنٹ سے کیا ہے، جس سے عندیہ ملتا ہے کہ یہ سانس کے نظام کے سنگین مسائل کے شکار مریضوں کی ریکوری میں مددگار ہوسکتا ہے۔

بپسٹ ہیلتھ ساؤتھ فلوریڈا نے اس طریقہ کار کو استعمال کیا اور ماہرین کا کہنا تھا کہ یہ گیم چینجر ہے جو آئی سی یو میں زیرعلاج مریضوں کے موثر علاج میں مدد فراہم کرسکتا ہے۔

ڈاکٹر جوئیر پریز فرنانڈس کے مطابق 'میں اس طریقہ علاج کے حوالے سے بہت پرجوش ہوں کیونکہ مجھے لگتا ہے کہ یہ کام کرے گا، اور اگر ہماری توقعات کے مطابق موثر ہوا تو ان مریضوں کے علاج کو ڈرامائی انداز سے بدل دے گا'۔

ماہرین کا خیال ہے کہ اس طریقہ علاج سے مدافعتی نظام کے بہت زیادہ متحرک ہونے کے نتیجے میں صحت مند خلیات پر حملہ آور ہونے کے عمل کو ریورس کرنے میں مدد ملے گی، جو اس وقت کورونا وائرس سے بہت زیادہ بیمار افراد میں جان لیوا ثابت ہوتا ہے۔

اس طریقہ کار کو نیویارک کے ماؤنٹ سینائی ہاسپٹل میں بھی آزمایا گیا جس کے نتائج کا ذکر اوپر ہوچکا ہے اور اب اسے مزید 300 مریضوں پر آزمانے کی تیاری کی جارہی ہے۔

ساؤتھ فلوریڈا میں ایف ڈی اے کی ایمرجنسی منظوری کے بعد 3 مریضوں پر اس طریقہ کار کو استعمال کیا گیا تھا اور محققین نے نتائج کو حوصلہ افزا قرار دیا۔

اسی طرح میامی یونیورسٹی کے ملر اسکول آف میڈیسین میں بھی اسٹیم سیل تھراپی کے کلینیکل ٹرائل کی منظوری دی جاچکی ہے تاہم اب تک اس کے نتائج جاری نہیں ہوئے۔