نو تشکیل شدہ اقلیتی کمیشن کا نوٹیفکیشن جاری

اپ ڈیٹ 12 مئ 2020
12 اراکین میں 2 مسلمان، 3، 3 ہندو اور مسیحی برادری جبکہ 2 سکھ برادری سے تعلق رکھتے ہیں — فائل فوٹو: اے ایف پی
12 اراکین میں 2 مسلمان، 3، 3 ہندو اور مسیحی برادری جبکہ 2 سکھ برادری سے تعلق رکھتے ہیں — فائل فوٹو: اے ایف پی

اسلام آباد: وزارت مذہبی امور نے نو تشکیل شدہ قومی کمیشن برائے اقلیتیں اور اس کی ٹرم آف ریفرنسز سے متعلق نوٹیفکیشن جاری کردیا جس میں اس بات کی یقین دہانی موجود ہے کہ غیر مسلم اقلیتوں کی عبادت گاہوں کو محفوظ اور فعال رکھا جائے گا۔

ٖڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق جامشورو کے ایک کاروباری خاندان سے تعلق رکھنے والے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سندھ کے رہنما اور پاکستان ہندو کونسل کے سابق صدر چیلا رام کیلوانی کو کمیشن کا نیا چیئرمین نامزد کیا گیا ہے۔

وزارت مذہبی امور کے نوٹیفکیشن کے مطابق کمیشن میں 3 سال کی مدت کے لیے 6 سرکاری عہدیدار اور چیئرمین سمیت 12 غیر سرکاری اراکین شامل ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں: اقلیتی حقوق کمیشن کا وزارت مذہبی امور پر عدم تعاون کا الزام

ان 12 اراکین میں 2 مسلمان، ہندو اور مسیحی برادری سے 3، 3 جبکہ 2 اراکین سکھ برادری سے تعلق رکھتے ہیں، اسی طرح پارسی اور کیلاش کمیونٹی کی نمائندگی ان کا ایک ایک رکن کرے گا۔

چیلا رام کیلوانی کے علاوہ نو تشکیل شدہ کمیشن میں شامل ہندو اراکین کراچی کے سماجی کارکن ڈاکٹر جے پال چھابڑیا اور سکھر سے سابق بیوروکریٹ وشنو راجا قوی ہیں۔

اسی طرح مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والے اراکین میں خیبر پختونخوا کی سابق وزیر پروفیسر ڈاکٹر سارا صفدر، لاہور کے کیتھولک چرچ کے آرچی بشپ سیباستین فرانسز شا اور ایک سیاسی جماعت پاکستان یونائیٹڈ کرسچین موومنٹ کے چیئرمین البرٹ ڈیوڈ شامل ہیں۔

مزید پڑھیں: اقلیتی مذاہب کے رہنماؤں نے مذہبی آزادی سے متعلق امریکی رپورٹ مسترد کردی

دو سکھ اراکین میں حکومت خیرپختونخوا کے ایک سینئر عہدیدار سروپ سنگھ اور لاہور کی کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کے ڈاکٹر ممپال سنگھ شامل ہیں۔

اسی طرح سابق سینیٹر روشن خورشید بھاروچا پارسی کمیونٹی سے تعلق رکھنے والی رکن ہیں جو بلوچستان کی قائم مقام حکومت میں وزیر بھی رہ چکی ہیں۔

ادھر سماجی کارکن اور چھوٹا سیاحتی کاروبار چلانے والے داؤد شاہ کیلاش کمیونٹی کی نمائندگی کریں گے۔

دوسری جانب کمیشن میں شامل دونوں مسلمان اراکین کا تعلق لاہور سے ہے جس میں بادشاہی مسجد کے خطیب مولانا سید محمد عبدالکبیر اور ڈاکٹر سرفراز نعیمی کے بیٹے مفتی گلزار احمد نعیمی شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: اقلیتوں کے حقوق سے متعلق عدالتی فیصلے پر عمل درآمد نہ ہونے پر مایوسی کا اظہار

اسی طرح سرکاری عہدیداروں میں وزارت داخلہ، وزارت قانون، وزارت انسانی حقوق، وفاقی وزارت تعلیم کے گریڈ 20 یا اس سے زائد کے عہدیدار، اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین اور وزارت مذہبی امور کے سیکریٹری شامل ہوں گے۔

ٹرم آف ریفرنسز کے مطابق یہ کمیشن ملک میں بین المذاہب ہم آہنگی اور امن کو فروغ دینے کے لیے قومی پالیسی تشکیل دینے کے لیے تجاویز پیش کرے گا۔

ضرور پڑھیں

’اٹھو کاروانِ سحر آگیا‘

’اٹھو کاروانِ سحر آگیا‘

پاکستان ’قراردادِ پاکستان‘ کے بعد طلوعِ آزادی کی جس منزل سے ہم کنار ہوا اس کی داستان نسلِ نو کو سنانی ضروری ہے۔

تبصرے (0) بند ہیں