افغانستان: پیدا ہوتے ہی 2 گولیوں کا نشانہ بننے کے باوجود بچ جانے والی بچی

20 مئ 2020

ای میل

بچی کو ایک ہی ٹانگ میں دو گولیاں لگی تھیں—فوٹو: دی ٹائمز
بچی کو ایک ہی ٹانگ میں دو گولیاں لگی تھیں—فوٹو: دی ٹائمز

رواں ماہ 12 مئی کو افغانستان کے دارالحکومت کابل میں بین الاقوامی تنظیم ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز کے تحت چلنے والے سرکاری ہسپتال کے زچگی وارڈ پر دہشت گردوں نے حملہ کرکے نوزائیدہ بچوں اور ماؤں کو قتل کردیا تھا۔

دہشت گردوں کے حملے میں کم از کم 2 شیر خوار بچے بھی چل بسے تھے جب کہ مجموعی طور پر دہشت گردوں کی فائرنگ سے نوزائیدہ ماؤں سمیت مجموعی طور پر 24 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

شیر خوار بچوں اور ماؤں کے قتل کے واقعے نے نہ صرف افغانستان بلکہ پوری دنیا کے حساس دل لوگوں کو غمزدہ کردیا تھا۔

تاہم اسی حملے میں دہشت گردوں کی گولیوں سے زخمی ہونے والی ایک ایسی بچی محفوظ رہیں جنہیں ایک نہیں 2 گولیاں لگی تھیں۔

برطانوی اخبار دی ٹائمز کے مطابق کابل کے ہسپتال کے زچگی وارڈ پر دہشت گردوں کے حملے میں تین گھنٹے قبل پیدا ہونے والی بچی ٹانگ پر 2 گولیاں لگنے کے باوجود محفوظ رہیں۔

رپورٹ کے مطابق حملے سے تین گھنٹے قبل دنیا میں آنے والی بچی کو ایک ہی ٹانگ میں دو گولیاں لگی تھیں اور ڈاکٹرز سمیت تمام عملے کو خدشہ تھا کہ بچی کی زندگی نہیں بچ پائے گی، تاہم بچی بلکل محفوظ رہیں۔

تین حملہ آوروں نے ایک گھنٹے تک ہسپتال کو یرغمال بنائے رکھا تھا—فوٹو: اے ایف پی
تین حملہ آوروں نے ایک گھنٹے تک ہسپتال کو یرغمال بنائے رکھا تھا—فوٹو: اے ایف پی

بدقسمتی سے دہشت گردوں کے حملے میں بچی کو جنم دینے والی ان کی ماں نازیہ چل بسیں اور بچی کے والد نے اپنی بیٹی پر اپنی اہلیہ کا نام رکھ دیا۔

یہ بھی پڑھیں: افغانستان: میٹرنٹی ہوم اور جنازے میں حملوں سے 37 افراد ہلاک

بچی کو زخمی ہونے کے بعد کابل کے اندرا گاندھی ہسپتال لے جایا گیا تھا، جہاں ڈاکٹرز نے ان کا آپریشن کیا تھا اور آپریشن کے چند گھنٹے بعد ہی بچی نے ٹانگ کو ہلانا شروع کردیا تھا۔

ماہرین کے مطابق وہ حیران ہیں کہ اتنی کم عمر بچی کس طرح گولیوں سے بچ گئیں اور انہوں نے امید ظاہر کی کہ نوزائیدہ بچی بڑی عمر کے افراد کے مقابلے جلد صحت یاب ہوجائیں گی۔

دوسری جانب خبر رساں ادارے اے ایف پی کی ایک رپورٹ کے مطابق جس وقت دہشت گرد زچگی وارڈ میں فائرنگ کر رہے تھے عین اسی وقت ایک خاتون نے بچے کو جنم دیا۔

رپورٹ میں ہسپتال کی خاتون نرس کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ جس وقت زچگی کلینک کے ایک وارڈ میں فائرنگ چل رہی تھی، عین اسی وقت ایک خاتون نے دوسرے وارڈ میں بچے کو جنم دیا اور اس دوران خاتون کو خاموش رہنے کی ہدایت کی گئی تھی اور وہ درد کے باوجود نہیں چلائیں اور نہ ہی روئیں۔

نرس نے بتایا کہ بچے کو جنم دینے کے بعد ماں نے اپنے ہاں پیدا ہونے والے بچے کو رونے سے چپ کرانے کے لیے اس کے منہ میں انگلی ڈال دی اور خود بھی خاموشی سے درد اور تکلیف برداشت کرتی رہیں اور ایک گھنٹے بعد حالات معمول پر ائے تو خاتون کو دوسری طبی امداد دی گئی۔

آپریشن کے بعد بچے کی حالت خطرے سے باہر ہے، ڈاکٹرز—فوٹو: اے ایف پی
آپریشن کے بعد بچے کی حالت خطرے سے باہر ہے، ڈاکٹرز—فوٹو: اے ایف پی