میئر اسلام آباد کی معطلی کا حکم کالعدم، عدالت نے کام کی اجازت دے دی

اپ ڈیٹ 21 مئ 2020

ای میل

میئراسلام آباد شیخ انصر عزیز—فائل فوٹو: اے
میئراسلام آباد شیخ انصر عزیز—فائل فوٹو: اے

اسلام آباد ہائی کورٹ نے میئر اسلام آباد شیخ انصر عزیز کی 90 دن کی معطلی کا حکم کالعدم قرار دیتے ہوئے انہیں کام کی اجازت دے دی۔

وفاقی دارالحکومت کی عدالت عالیہ میں جسٹس محسن اختر کیانی نے میئر اسلام آباد کی معطلی کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کی، اس دوران شیخ انصر عزیز عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔

خیال رہے کہ وفاقی حکومت نے میئر اسلام آباد کو 90 روز کے لیے معطل کیا تھا، جسے انصر عزیز نے عدالت میں چیلنج کردیا تھا۔

جمعرات کو ہونے والی سماعت کے دوران سیکریٹری چیئرمین لوکل کمیشن افسر علی سفیان عدالت میں اصل ریکارڈ کے ہمراہ پیش ہوئے تاہم اس موقع پر عدالت کی جانب سے مذکورہ رپورٹ پر برہمی کا اظہار کیا گیا۔

مزید پڑھیں: وفاقی حکومت نے میئر اسلام آباد کو 90 روز کے لیے معطل کر دیا

جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ عدالت میں ایسے ریکارڈ پیش کیا جاتا ہے؟ کیا ایم سی آئی کے ساتویں اجلاس کے ایجنڈے میں میئر کی معطلی شامل تھی؟

اس پر سیکریٹری چیئرمین لوکل کمیشن کا کہنا تھا کہ نہیں اجلاس کے ایجنڈے میں یہ شامل نہیں تھا، جس پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا اور سماعت میں کچھ دیر کا وقفہ کردیا۔

وقفے کے بعد سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو لوکل گورنمنٹ کمیشن کے 7 مئی کے ایجنڈے اور 14 مئی کے اجلاس کے منٹس عدالت میں پیش کیے گئے۔

دوران سماعت ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے بتایا کہ کمیشن کے 9 اراکین میں سے 6 اجلاس میں موجود تھے اور لوکل گورنمنٹ کمیشن کی سفارشات پر وفاقی حکومت نے میئر اسلام آباد کو معطل کیا۔

اس موقع پر عدالت میں موجود ڈپٹی سیکریٹری داخلہ نے بتایا کہ سرکولیشن کے ذریعے کابینہ نے سفارشات پر 90 روز کے لیے میئر اسلام آباد کو معطل کیا۔

عدالت میں میئر اسلام آباد کے وکیل کاشف ملک نے سیکریٹری لوکل گورنمنٹ علی سفیان پر اعتراض اٹھا اور کہا کہ سیکریٹری لوکل گورنمنٹ علی سفیان کے کنڈکٹ پر اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ میڈیا رپورٹس کے مطابق ان کے موکل کو کرپشن کے الزامات پر معطل کیا گیا، ان کرپشن الزامات کی وجہ سے معاشرے اور اہل خانہ کے سامنے میرے موکل کی عزت داؤ پر لگی ہے۔

اس دوران وکیل لوکل گورنمنٹ کمیشن کا کہنا تھا کہ میئراسلام آباد پر کرپشن کے الزامات ہیں اور اس معاملے پر انکوائری ہوگی۔

اس موقع پر فریقین کی جانب سے بات مکمل کرنے پر عدالت نے میئر اسلام آباد کی 90 روز کی معطلی کا حکم معطل کردیا اور انہیں کام کرنے کی اجازت دے دی۔

میئر اسلام آباد کی معطلی

یاد رہے کہ 17 مئی کو وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد حکومت نے میئر اسلام آباد شیخ انصر عزیز کو 90 روز کے لیے معطل کر دیا گیا تھا۔

شیخ انصر عزیز کو معطل کرنے کی سمری کابینہ نے سرکولیشن کے ذریعے منظور کی تھی جس کے بعد انہیں 90 روز کے لیے معطل کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا تھا۔

وزارت داخلہ کے جوائنٹ سیکریٹری عرفان انجم کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا تھا کہ معطلی کا مقصد شیخ انصر عزیز کے خلاف صاف و شفاف انکوائری کرنا ہے۔

تاہم 2016 میں اسلام آباد کے میئر منتخب ہونے والے شیخ انصر عزیز نے وفاقی حکومت کے اس فیصلے کو انتقامی کارروائی قرار دیا تھا۔

انصر عزیز نے کہا تھا کہ میئر شپ سے معطلی پی ٹی آئی حکومت کے انتقامی چہرے کی حقیقی تصویر ہے اور اس بات کا ثبوت ہے کہ تحریک انصاف، کارکردگی نہیں بلکہ انتقام پر یقین رکھتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: افسوس! اب اسلام آباد تباہ شدہ شہر ہے، سپریم کورٹ

ان کا کہنا تھا کہ کابینہ کے بجائے سرکولیشن کے تحت منظوری لی گئی اور ملک کے سارے اہم ترین ایشوز چھوڑ کر جنگی بنیادوں پر چھٹی والے دن میری معطلی کے احکامات جاری کر کے پی ٹی آئی حکومت نے ثابت کردیا کہ ان کی ترجیحات عوامی مسائل نہیں کچھ اور ہیں۔

میئر اسلام آباد پر کیا الزامات تھے؟

رواں سال کے اوائل میں مسلم لیگ سے تعلق رکھنے والے میئر اسلام آباد کے خلاف ریفرنس دائر کیا گیا تھا جس میں ان پر اختیارات کے غلط استعمال اور سرکاری املاک، عملے اور وسائل کو ذاتی طور پر استعمال کرنے الزامات عائد کیے گئے تھے۔

یہ ریفرنس کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے رکن ہمایوں اختر کی جانب سے فائل کیا گیا تھا جس کے بعد تحریک انصاف کے رکن اسمبلی علی نواز اعوان کی زیر سربراہی قائم مقامی حکومت کے کمیشن نے معاملے کی تحقیقات تک میئر کو معطل کرنے کی سفارش کی تھی۔

البتہ شیخ انصر عزیز نے اس ریفرنس کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے موقف اختیار کیا تھا کہ ان کے خلاف سیاسی بنیادوں پر الزامات لگائے گئے ہیں۔