برآمدات میں کمی سے کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ اپریل میں 57 کروڑ ڈالر تک جا پہنچا

اپ ڈیٹ 22 مئ 2020

ای میل

رواں مالی سال کے پہلے 10 مہینوں کے دوران مجموعی خسارہ کم ہوکر 3 ارب 34 کروڑ ڈالر رہا۔ فائل فوٹو:رائٹرز
رواں مالی سال کے پہلے 10 مہینوں کے دوران مجموعی خسارہ کم ہوکر 3 ارب 34 کروڑ ڈالر رہا۔ فائل فوٹو:رائٹرز

کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے جمعرات کو جاری کردہ اعدادو شمار میں بتایا کہ اپریل کے مہینے میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ (سی اے ڈی) مارچ کے صرف 9 لاکھ ڈالر کے مقابلے میں بڑھ کر 57 کروڑ 20 لاکھ ڈالر ہوگیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق تاہم رواں مالی سال کے پہلے 10 مہینوں کے دوران مجموعی خسارہ کم ہوکر 3 ارب 34 کروڑ ڈالر رہا جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصہ میں 11 ارب 44 کروڑ ڈالر تھا۔

مہینوں کے حساب سے خسارے میں اچانک اضافہ برآمدات میں تیزی سے کمی کی وجہ سے ہوا جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 2 ارب 8 کروڑ ڈالر کے مقابلے میں 54 فیصد کم ہوکر 95 کروڑ 70 لاکھ ڈالر ہوگیا۔

مزید پڑھیں: کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 8 مہینوں میں 71 فیصد کم ہوگیا

امکان ہے کہ رواں مالی سال کے اختتام تک مجموعی طور پر کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 5 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گا۔

تاہم کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ سے ملک کی برآمدات کو خطرے میں پڑ گئی ہے۔

ممکنہ طور پر اپریل کے اعداد و شمار میں تیزی سے کمی کے بعد مئی میں صورتحال مزید خراب ہونے کا امکان ہے کیونکہ شمالی امریکا اور یورپی ممالک کے لیے برآمدات کے لیے بیشتر آرڈر یا تو منسوخ کردیئے گئے ہیں یا بندرگاہوں پر ہی پڑے ہیں۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلے 10 ماہ میں برآمدات گزشتہ سال کے 20 ارب 13 کروڑ ڈالر کے مقابلے میں تھوڑا کم 19 ارب 65 کروڑ ڈالر تک رہ گئیں۔

تاہم درآمدات گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں 43 ارب 44 کروڑ ڈالر کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم 36 ارب 9 کروڑ ڈالر ہوگئیں۔

درآمدات میں تیزی سے کمی نے رواں مالی سال کے پہلے 10 مہینوں کے دوران تجارتی توازن کو 19 ارب 5 کروڑ ڈالر تک محدود کردیا ہے جو گزشتہ سال 27 ارب 24 کروڑ تھا۔

یہ بھی پڑھیں: کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 7 ماہ میں 72 فیصد کم ہوگیا

حکومت رواں مالی سال میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو کم کرنے میں کامیاب ہوگئی ہے جو 20 ارب ڈالر کی اعلیٰ ترین سطح پر پہنچ چکی تھی جس سے اس کے غیر ملکی ادائیگیوں کی صلاحیت خطرے میں تھی۔

سہ ماہی کے اعداد و شمار کو دیکھا جائے تو جنوری تا مارچ میں اکتوبر سے دسمبر کے مقابلے میں زیادہ خسارہ رہا۔

جنوری تا مارچ کے دوران خسارہ اکتوبر سے دسمبر میں 54 کروڑ ڈالر کے مقابلے میں جنوری سے مارچ میں 73 کروڑ 90 لاکھ ڈالر تھا۔

رواں مالی سال میں جاری کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کم ہونے والے رجحان پر رہا ہے تاہم کورونا وائرس نے مزید بہتری لانے کے نقطہ نظر کو تبدیل کردیا کیونکہ پوری دنیا میں اشیا کی طلب میں تیزی سے کمی کی وجہ سے ملک کی برآمدات کو زبردست دھچکا لگا ہے۔

تاہم جی-20 قرض ریلیف اقدام سے حکومت کو انتہائی مطلوبہ ریلیف فراہم کرنے کی توقع کی جارہی ہے کیونکہ اس سے حکومت 12 ماہ کی مدت کے لیے 2 ارب 40 کروڑ روپے کے قرضوں کی ادائیگی کو مؤخر کردے گی اور زرمبادلہ کی بچت ہوگی۔