’والد کی دعائیں ساتھ تھیں، ورنہ میں بھی اس بدقسمت طیارے میں موجود ہوتا‘

ای میل

نامور گلوکار زوہیب حسن، فوٹو: ٹوئٹر
نامور گلوکار زوہیب حسن، فوٹو: ٹوئٹر

پاکستان کے نامور گلوکار زوہیب حسن کے والد کا رواں ماہ 15 مئی کو کراچی میں انتقال ہوگیا تھا اور ان کے جنازے میں شرکت کے لیے زوہیب حسن لندن سے فوری طور پر پاکستان روانہ ہوئے۔

گلوکار کے مطابق ان کے والد کی تدفین 21 مئی کو کراچی میں کی جانی تھی اور وہ لندن سے لاہور پہنچے تھے اور جلد سے جلد کراچی پہنچنا چاہتے تھے۔

مزید پڑھیں: نازیہ اور زوہیب حسن کے والد چل بسے

زوہیب حسن کے مطابق اگر ان کے ساتھ ان کے والد کی دعائیں نہ ہوتی تو وہ بھی لاہور سے کراچی آنے والے پاکستان ایئر لائنز (پی آئی اے) کے بدقسمت طیارے میں موجود ہوتے۔

اس حوالے سے گلوکار نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ایک طویل پوسٹ بھی جاری کی۔

A photo posted by Instagram (@instagram) on

زوہیب حسن نے لکھا کہ ’میرے والد جن کا انتقال گزشتہ جمعے کو ہوا انہوں نے مجھ سے وعدہ لیا تھا کہ اگر انہیں کچھ ہوگیا تو میں بیمار والدہ کا خیال رکھوں گا، اس وقت جو واحد فلائٹ موجود تھی وہ لندن سے 300 میل کی دوری پر منچسٹر سے روانہ ہورہی تھی، بہت مشکل سے میں نے اس فلائٹ میں سفر کیا جن میں زیادہ تر کورونا متاثرین اور لاشیں موجود تھیں، لاہور پہنچنے کے بعد مجھے ایک ہوٹل میں 300 افراد کے ساتھ قرنطینہ کردیا گیا، طیارہ عملہ سمیت چند مسافر اس پرواز میں کوونا سے متاثر بھی ہوئے‘۔

انہوں نے مزید لکھا کہ ’مجھے ویسے تو 72 گھنٹوں بعد پی آئی اے کی پرواز 830 سے کراچی پہچنا تھا لیکن میرے والد کی تدفین 21 مئی کو تھی تو میں نے ہر ممکن کوشش کی کہ میرا ٹیسٹ جلدی ہو اور میں اسی بدقسمت طیارے سے دو دن قبل کراچی پہنچ جاؤں، یہاں خدا نے میری مدد کی، میرا کورونا ٹیسٹ منفی آیا اور مجھے جلدی جانے کی اجازت مل گئی‘۔

زوہیب حسن کے مطابق ’اگر میرے مرتے ہوئے والد کی دعائیں میرے ساتھ نہ ہوتیں تو یا تو میں کورونا کا شکار ہوچکا ہوتا یا پھر کراچی میں تباہ ہونے والے پی آئی اے 830 طیارے میں موجود ہوتا‘۔

انہوں نے لکھا کہ واقعی خدا سب سے بلند ہے اور وہ اسی کے آگے جھکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی ایئرپورٹ کے قریب پی آئی اے کا مسافر طیارہ آبادی پر گر کر تباہ،80 افراد جاں بحق

خیال رہے کہ کراچی ایئرپورٹ کے قریب ماڈل کالونی میں جناح گارڈن کے قریب حادثے کا شکار ہونے والے طیارے میں 91 مسافر اور عملے کے 8 افراد سوار تھے جن میں سے خواتین اور بچوں کی تعداد 30 جبکہ مردوں کی 60 سے زائد بتائی گئی تھی۔

حادثے کے حوالے سے سول ایوی ایشن (سی اے اے) اور پی آئی اے انتظامیہ نے واضح کیا تھا کہ یہ تکنیکی خرابی کے باعث حادثہ پیش آیا، تاہم ابتدائی طور پر واضح نہیں تھا کہ کس طرح کی تکنیکی خرابی ہوئی۔

مذکورہ حادثے کو کراچی میں پیش آنے والا اب تک کا سب سے بڑا حادثہ قرار دیا جا رہا ہے اور اس حادثے میں 97 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق ہوچکی ہے۔