عالمی ادارہ صحت نے کووِڈ 19 کے علاج کیلئے کلوروکوئن کا ٹرائل روک دیا

اپ ڈیٹ 26 مئ 2020
گزشتہ ہفتے امریکی صدر نے اعلان کیا تھا کہ وہ یہ دوا خود بھی استعمال کررہے ہیں—تصویر: اے ایف پی
گزشتہ ہفتے امریکی صدر نے اعلان کیا تھا کہ وہ یہ دوا خود بھی استعمال کررہے ہیں—تصویر: اے ایف پی

عالمی ادارہ صحت نے کووِڈ 19 کے علاج کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تجویز کردہ دوا ہائیڈروکسی کلوروکوئن کے ٹرائل کو روک دیا جس کے بعد میں پاکستان میں بھی اس دوا کے آزمائشی تجربات روکنے کا اعلان سامنے آگیا۔

ادارے نے اعلان کیا کہ اس کی جانب سے کورونا وائرس کے علاج کے لیے کلوروکوئن کا استعمال اس لیے روکا گیا کیوں کہ تحقیق میں اس کے تحفظ پر سوالات اٹھائے گئے تھے حتیٰ کہ ایک تحقیق میں یہ تک کہا گیا تھا کہ اس سے اموات کے خطرے میں اضافہ ہوا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ٹیڈروس ادھانوم گیبریئسس نے کلورو کوئن سے کورونا وائرس کے ممکنہ علاج کی آزمائش کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اعلان کیا کہ عالمی ادارہ صحت نے ’اس پر عارضی پابندی لگادی ہے جب تک اس سے متعلق سیفٹی ڈیٹا کا جائزہ لیا جارہا ہے‘۔

خیال رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ امریکا میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے آغاز سے ہی کلوروکوئن کے استعمال کی پر زور حمایت کررہے ہیں بلکہ ایک پریس کانفرنس میں انہوں نے یہ دعویٰ بھی کردیا تھا کہ امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایسوسی ایشن نے کورونا وائرس کے علاج کے لیے اس دوا کی منظوری دے دی ہے جس کی بعد میں تردید سامنے آگئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: کلوروکوئن کے استعمال اور خودساختہ علاج پر ماہرین کا انتباہ

بعدازاں گزشتہ ہفتے امریکی صدر نے اعلان کیا تھا کہ وہ یہ دوا خود بھی استعمال کررہے ہیں اور انہوں نے یہ فیصلہ ڈاکٹر اور دیگر افراد کی جانب سے اس دوا کی حمایت پر کی۔

صحافیوں سے بات کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا تھا کہ ’میرے خیال سے یہ اچھی چیز ہے اور میں نے اس کے بارے میں بہت سے اچھی کہانیاں سنی ہیں‘،

ساتھ ہی انہوں نے اپنی حکومت کے ہی ماہرین کی جانب سے کلورو کوئن دوا سے متعلق خطرات کو بھی مسترد کردیا تھا۔

تاہم اب امریکی صدر کی جانب سے عالمی وبا کو سنبھالنے کی صورتحال پر سخت تحفظات کا اظہار کیا جارہا ہے جس کی وجہ سے تقریباً ایک لاکھ امریکی شہری لقمہ اجل بن چکے ہیں۔

دوسری جانب عالمی ادارہ صحت کے انتباہ کے باجود برزایل کی وزارت سحت نے بھی اعلان کیا کہ وہ کووِڈ 19 کے علاج کے لیے ہائیڈروکسی کلوروئن کا استعمال تجویز کرتے رہیں گے۔

مزید پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ کورونا سے بچنے کیلئے کلوروکوئن کے استعمال کی تجویز پر ڈٹ گئے

واضح رہے کہ دنی میں امریکا کے بعد دوسرے نمبر پر برازیل سب سے زیادہ اس وبا سے متاثر ہوا ہے جہاں اموات کی تعداد 23 ہزار 473 ہے جبکہ مجموعی طور پر 3 لاکھ 74 ہزار 898 برازیلین شہری اس وبا کا شکار بن چکے ہیں۔

پاکستان میں بھی ٹرائل روکنے کا اعلان

دوسری جانب عالمی ادارہ صحت کی جانب سے کلوروکوئن کا ٹرائل روکنے کا اعلان کے بعد پاکستان میں بھی اس دوا کی آزمائش روکنے کا اعلان کیا گیا۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی ڈاکٹر ظفر مرزا نے سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک پیغام میں بتایا کہ ڈرگ ریگولیٹر اتھارٹی پاکستان (ڈریپ) ملک میں ہائیڈروکسی کلوروکوئن کے ٹرائل کرنے والوں کو آئندہ احکامات تک انہیں روکنے کے لیے نوٹس جاری کرے گی

یہ بات مدِ نظر رہے کہ کووڈ 19 کے علاج کے حوالے سے ہائیڈرو آکسی کلوروکوئن کے اثرات پر سب سے بڑی تحقیق کے نتائج میں دریافت کیا گیا تھا کہ کہ اس سے فائدے کی بجائے نقصان پہنچنے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔

15 ہزار کے قریب افراد کا علاج کلوروکوئن (ہائیڈرو آکسی کلوروکوئن کی پرانی قسم)، ہائیڈرو آکسی کلوروکوئن یا ان دونوں ادویات کو ایک اینٹی بائیوٹیک کے ساتھ دیا گیا جبکہ باقی افراد کو ان میں سے کوئی دوا نہیں دی گئی اور کنٹرول گروپ کے طور پر کام کیا گیا۔

ان ادویات کو استعمال کرنے والے مریضوں میں سائنسدانوں نے دل کی دھڑکن کی سنگین بے ترتیبی کے خطرے کو دریافت کیا۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی صدر کا کورونا سے بچنے کے لیے کلوروکوئن دوا کا استعمال

انہوں نے مشورہ دیا تھا کہ مریضوں کے علاج کے لیے ان ادویات کا استعمال طبی ٹرائلز سے باہر نہیں کیا جانا چاہیے، جب تک تمام ٹرائلز کے نتائج سے ان ادویات کے محفوظ ہونے اور افادیت کی تصدیق نہ ہوجائے۔

محقققین نے دریافت کیا کہ جن افراد کو کلوروکوئن یا ہائیڈرو آکسی کلوروکوئن دی گئی ان میں ہسپتال میں موت کا خطرہ ان افراد کے مقابلے میں 16 سے 18 فیصد زیادہ تھا جن ک یہ ادویات استعمال نہیں کرائی گئیں۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں