دفتر خارجہ نے او آئی سی ورچوول اجلاس کے حوالے سے ‘گمراہ کن‘ رپورٹس مسترد کردیں

اپ ڈیٹ مئ 28 2020

ای میل

میڈیا رپورٹس میں کہا گیا تھا کہ اجلاس میں اسلامو فوبیا کے خلاف پاکستان گروپ تشکیل دینے میں ناکام رہا تھا— فائل فوٹو:اے پی پی
میڈیا رپورٹس میں کہا گیا تھا کہ اجلاس میں اسلامو فوبیا کے خلاف پاکستان گروپ تشکیل دینے میں ناکام رہا تھا— فائل فوٹو:اے پی پی

اسلام آباد: دفتر خارجہ نے نیو یارک میں اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے سفیروں کے ورچوول اجلاس کے حوالے سے ’گمراہ کن‘ میڈیا رپورٹس کو مسترد کردیا۔

خیال رہے کہ میڈیا رپورٹس میں کہا گیا تھا کہ اجلاس میں مالدیپ نے بھارت کو اسلامو فوبیا پر تنہا کرنے کو مسترد کردیا تھا جبکہ پاکستان مسئلے پر ایک گروپ تشکیل دینے میں ناکام رہا تھا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق دفتر خارجہ کی ترجمان عائشہ فاروقی نے بیان جاری کرتے ہوئے 20 مئی کو اقوام متحدہ کے لیے او آئی سی سفیروں کے ورچوول اجلاس کے حوالے سے میڈٰیا رپورٹس کو ’گمراہ کن اور حقائق کے منافی‘ قرار دیا۔

مزید پڑھیں: پاکستان کی اقوامِ متحدہ میں او آئی سی کا غیر رسمی گروپ تشکیل دینے کی کوشش ناکام

واضح رہے کہ ڈان اخبار کی 27 مئی کی رپورٹ میں مالدیپ کے اعتراض اور متحدہ عرب امارات ( یو اے ای) کی جانب سے وزرائے خارجہ کا مینڈیٹ ہونے کو بنیاد بنا کر گروپ کی تشکیل کی اجازت نہ دینے کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا تھا۔

دفتر خارجہ نے اپنے بیان میں نیو یارک میں اقوام متحدہ کے لیے پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم کی بھارت میں اسلامو فوبیا کے بڑھتے ہوئے واقعات اور صورتحال کے حوالے سے تقریر کے نکات واضح کیے۔

اس کے بعد کہا گیا کہ ‘بڑی تعداد میں او آئی سی سفیروں نے بھارت کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا اور اقوام متحدہ میں اسلامو فوبیا کے حوالے سے او آئی سی کے مشترکہ مؤقف کی حمایت کی۔

بیان میں کہا گیا کہ سفیروں نے پاکستان کے مؤقف کی تائید کی تاہم اس سے واضح ہوا کہ تمام نے اس کی حمایت نہیں کی، اس کے علاوہ بیان میں مالدیپ کے اعتراض کو نظر انداز کردیا گیا۔

خیال رہے کہ مالدیپ کے وزیر خارجہ نے اجلاس میں کہا تھا کہ ’مالدیپ، او آئی سی میں کسی ایسے اقدام کی حمایت نہیں کرسکتا جو بھارت کو تنہا کردے یا اسے ہدف بنائے‘۔

ادھر پاکستانی سفیروں کے مطابق او آئی سی اجلاس میں غیر روایتی خیالات کو روایتی طور پر 'ہیوی ویٹ' (سعودی عرب اور مصر) کے حوالے سے سامنے لایا گیا تاہم اس معاملے میں مالدیپ اپنے اعتراض پر قائم رہا اور اس متنازع ریمارک پر نام نہاد ہیوی ویٹس کے ذریعے کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔

اس کے علاوہ سفیر منیر اکرم کی جانب سے او آئی سی ممالک سے اس ایک چھوٹے ورکنگ گروپ میں پاکستان کے ساتھ شامل ہونے کے مطالبے کا ذکر نہیں کیا، جس میں ان اقدامات پر غور کرنے کے لیے تھا جو اسلاموفوبیا سے نمٹنے کے لیے اقوام متحدہ میں او آئی سی لے سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: او آئی سی کا اسلاموفوبیا سے نمٹنے، کشمیر کی خودمختاری کی حمایت کا اعادہ

متحدہ عرب امارات نے تکنیکی بنیادوں پر اس اقدام کی اجازت نہیں دی تھی۔

تاہم دفتر خارجہ نے اسلامو فوبیا اور بھارت میں مسلمانوں کے خلاف تشدد پر او آئی سی کے گزشتہ بیان کا حوالہ دیا۔

بیان میں کہا گیا کہ ’او آئی سی اور اس کی انسانی حقوق کی تنظیم او آئی سی-آئی پی ایچ آر سی نے بھارتی حکومت کے حالیہ مسلمان مخالف اقدامات بشمول سی اے اے، دہلی میں مسلمانوں کی ٹارگٹ کلنگ، بابری مسجد کا فیصلہ اور کورونا وائرس کے حوالے سے مسلمان مخالف جذبات ابھارنے پر سخت بیان جاری کیا ہے‘۔

دفتر خارجہ نے کہا کہ او آئی سی کے علاوہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے اداروں، بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں اور بین الاقوامی میڈیا نے بھی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔