امریکا: پولیس کی مظاہرین پر تشدد کی ویڈیو وائرل، 2 افسران معطل

اپ ڈیٹ 05 جون, 2020

ای میل

ویڈیو وائرل ہونے کے بعد بفلیو پولیس کے دو اہلکاروں کو معطل کردیا گیا —فائل فوٹو: رائٹرز
ویڈیو وائرل ہونے کے بعد بفلیو پولیس کے دو اہلکاروں کو معطل کردیا گیا —فائل فوٹو: رائٹرز

امریکا میں پولیس کے ہاتھوں سیاہ فام شخص جارج فلائیڈ کی ہلاکت کے بعد جاری احتجاجی مظاہروں میں ایک مرتبہ پھر پولیس کے وحشانہ تشدد کی ویڈیوز وائرل ہوگئیں۔

خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق وائرل ہونے والی حالیہ ویڈیو امریکی ریاست نیویارک کے شہر بفلیو کی ہے جہاں پولیس نے ایک 75 سالہ سیفد فام بزرگ کو زور دار دھکا دیا جس کے باعث وہ زمین پر گرے اور ان کے کان سے خون بہنے لگا۔

ویڈیو وائرل ہونے کے بعد بفلیو پولیس کے 2 اہلکاروں کو معطل کردیا گیا۔

میئر بائرن براؤن نے ایک بیان میں کہا کہ مذکورہ شخص کی شناخت نہیں ہوسکی لیکن اس کی حالت تشویشناک ہے۔

ایری کاؤنٹی کے ایگزیکٹو مارک پولن کارز نے ٹوئٹ میں کہا کہ ’امید ہے کہ وہ مکمل صحت یاب ہوجائیں گے‘۔

بعد ازاں ایک اور ویڈیو وائرل ہوئی جس میں نیویارک سٹی کی پولیس نے ایک نوجوان کو انتہائی بے درری سے گرفتار کیا۔

پولیس کے ترجمان جیف رینالڈو نے کہا کہ جب مظاہرین کو دھکیلنے کی ویڈیو سامنے آئی تو 2 پولیس اہلکاروں کو بغیر تنخواہ معطل کردیا گیا۔

علاوہ ازیں شہر کے کرفیو کے آغاز کے 27 منٹ بعد نیویارک شہر میں پولیس نے ایک ڈلیوری ڈرائیور کو گرفتار کرلیا جبکہ وہ کرفیو سے مستثنیٰ تھا۔

ایک اور ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک شخص کے سر پر سے خون بہہ رہا ہے اور اسے گرفتار کیا گیا۔

گزشتہ 8 دنوں کے دوران ہونے والے مظاہروں کی اکثریت پر امن رہی لیکن کچھ مظاہرین مشتعل نظر آئے جس کے بعد متعدد شہروں میں کرفیو نافذ کردیا گیا۔

واشنگٹن ڈی سی میں ایک احتجاج کے دوران سیکیورٹی فورسز نے وائٹ ہاؤس کے باہر مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے کالی مرچ کی گولیاں اور اسموگ بم فائر کیے جس کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو تصویر کے لیے قریبی چرچ میں جانے کا راستہ ملا۔

مزید پڑھیں: امریکا: سیاہ فام نواجون کی ہلاکت پر احتجاج میں شدت، 10 ہزار مظاہرین گرفتار

دوسری طرف شہری حقوق کے گروپ امریکن سول لبرٹیز یونین نے امریکی صدر، اٹارنی جنرل اور دیگر پر مظاہرین کے آئینی حقوق کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے ایک مقدمہ دائر کردیا۔

خبررساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق یونین کے رکن اسکاٹ مشیل مین نے کہا کہ ’جب ملک کا قانون نافذ کرنے والا افسر ایک آمر میں بدل جائے تو یہ ہم سب سے محدود تقریر کی خواہش کرے گا‘۔

واضح رہے گزشتہ ہفتے منی سوٹا میں 46 سالہ سیاہ فام شہری جارج فلائیڈ کی پولیس کی حراست میں ہلاکت کے بعد نسلی امتیاز کے خلاف احتجاج شروع ہوا تھا۔

علاوہ ازیں امریکا کی متعدد ریاستوں میں پھیل جانے والے پرتشدد مظاہروں کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے احتجاج کرنے والے شہریوں کو مقامی دہشت گرد سے تعبیر کرتے ہوئے ان پر لوٹ مار کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔

ڈیریک چاوین نے ہی جارج فلائیڈ کی گردن پر پوری طاقت سے 9 منٹ تک گھٹنا ٹکائے رکھا تھا جس سے سیاہ فام شخص کی موت واقع ہوئی۔

پولیس کی جانب سے مظاہرین کی کوریج کے لیے موجود صحافیوں کو تشدد کا سامنا ہے۔

اس سے قبل امریکی انتظامیہ نے واشنگٹن، لاس اینجلس اور ہیوسٹن سمیت دیگر شہروں میں رات کا کرفیو نافذ کردیا تھا لیکن مظاہرین نے کرفیو کو مسترد کردیا۔

مزید پڑھیں: ٹرمپ کا سوشل میڈیا کمپنیوں کے تحفظ کے قانون پر نظرثانی کا حکم دینے کا امکان

دوسری جانب پوپ فرانسس نے امریکا میں بدامنی پر اپنی خاموشی کو توڑتے ہوئے کہا تھا کہ کوئی بھی ’نسل پرستی سے اپنی نظریں نہیں چرا سکتا‘۔

انہوں نے کہا تھا کہ ’لیکن تشدد صرف اپنی تباہی اور شکست کا باعث بنے گا‘۔