کورونا ازخود نوٹس کیس: پنجاب، سندھ اور خیبرپختونخوا نے سپریم کورٹ میں رپورٹ جمع کرادی

اپ ڈیٹ 08 جون 2020

ای میل

سپریم کورٹ نے تمام صوبوں کو کورونا وائرس کے حوالے سے اب تک کیے گئے اقدامات کی رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کی تھی — فائل فوٹو: اے ایف پی
سپریم کورٹ نے تمام صوبوں کو کورونا وائرس کے حوالے سے اب تک کیے گئے اقدامات کی رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کی تھی — فائل فوٹو: اے ایف پی

صوبہ پنجاب، صوبہ سندھ اور صوبہ خیبر پختونخوا کی حکومتوں نے سپریم کورٹ کے حکم پر کورونا وائرس سے متعلق کیے جانے والے اقدامات کے ساتھ ساتھ ٹڈی دل کے حوالے سے رپورٹ بھی اعلیٰ عدلیہ میں جمع کرا دی۔

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں قائم پانچ رکنی لارجر بینچ نے کورونا وائرس از خود نوٹس کیس کی سماعت کی۔

مزید پڑھیں: ہمارے فیصلے سے ایک شخص کی بھی زندگی خطرے میں پڑنا ناقابل معافی ہے، اسد عمر

اس سے قبل عدالت نے تمام صوبوں کو کورونا وائرس کے حوالے سے اب تک کیے جانے والے اقدمات کی رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کی تھی۔

آج سپریم کورٹ میں صوبہ سندھ، پنجاب اور خیبر پختونخوا نے اپنی اپنی تفصیلی رپورٹ جمع کرادی اور پنجاب نے اپنی رپورٹ میں اعلیٰ عدلیہ کو ٹڈی دل کے حملوں کے خطرے سے بھی آگاہ کردیا۔

پنجاب

پنجاب حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں ٹڈی دل کے ممکنہ حملوں کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

حکومت پنجاب نے بتایا کہ کورونا کے حوالے سے رپورٹ میں عالمی ادارہ صحت کے وضع کردہ تمام تر ایس او پیز پر عملدرآمد جاری ہے اور ان کی روشنی میں حکومت پنجاب اسکریننگ، ٹیسٹنگ اور قرنطینہ سینٹرز سمیت تمام تر اقدامات کر رہی ہے۔

رپورٹ میں ٹڈی دل کے ممکنہ حملے کی تفصیلات بھی بتاتے ہوئے کہا گیا کہ صحرائی ٹڈل دل کی ہر سال پانچ نسلیں ہوتی ہیں جس سے ان کی آبادی سے پہنچنے والی تباہی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے اور یہ عالمی خوراک کا 10فیصد تباہ کر سکتے ہیں جس سے عالمی سطح پر خوراک کا بحران پیدا ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کورونا وائرس: پنجاب میں ریکارڈ 2164 کیسز، ملک میں متاثرین کی تعداد 96 ہزار ہوگئی

اس سلسلے میں مزید بتایا گیا کہ ایک اسکوائر کلومیٹر پر ٹڈی دل کا لشکر اتنی خوراک کھا جاتا ہے جتنا ایک دن میں 35 ہزار لوگ کھاتے ہیں۔

اس سلسلے میں بتایا گیا کہ پاکستان میں تین لاکھ اسکوائر کلومیٹر رقبہ (کل رقبے کا 37.68 فیصد) ٹڈی دل حملے سے متاثر ہونے کا خطرہ ہے جس میں بلوچستان کا 60 فیصد، سندھ کا 25، پنجاب کا 15 فیصد رقبہ ٹڈی دل سے متاثر ہوسکتا ہے۔

اس حوالے سے مزید بتایا گیا کہ اگر ٹڈی دل کی نشونما کو نہ روکا گیا تو پورا ملک متاثر ہوگا اور پنجاب اور سندھ ٹڈی دل کے پیداواری زون میں آتے ہیں۔

حکومت پنجاب کی جانب سے سروے سے متعلق تفصیلات بھی رپورٹ میں شامل کی گئی ہیں جس میں 48 لاکھ 58 ہزار، 483 ہیکٹر ایکٹر پر سروے مکمل کیا جاچکا۔

اس رپورٹ میں بتایا گیا کہ ٹڈی دل کو تلف کرنے کے لیے 771 مختلف ٹیمیں کام کررہی ہیں جو 2 ہزار 682 افراد پر مشتمل ہیں۔

اس حوالے سے بتایا گیا کہ ایک لاکھ، 49 ہزار 68 ہیکٹر ایکڑ رقبے پر اسپرے کیا جاچکا ہے۔

سندھ

صوبہ سندھ کی جانب سے سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں سینیٹری اسٹاف کو تنخواہوں کی ادائیگی کی یقین دہانی کرائی گئی۔

رپورٹ میں بتایا کہ کورونا وبا میں اضافے کے باوجود مؤثر اقدامات کی بدولت مریضوں کی صحتیابی میں بہتری دیکھی گئی ہے اور کورونا مریضوں کی صحتیابی کا تناسب 21 فیصد سے بڑھ کر 49 فیصد ہو گیا ہے۔

حکومت سندھ نے تنخواہوں کی ادائیگی سے متعلق رپورٹ بھی جمع کرادی ہے جس میں بتایا گیا کہ وزیر اعلیٰ سندھ نے تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے 14 کروڑ روپے کی منظوری دے دی ہے جبکہ سینیٹری ورکرز کی قابل ادا تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے 23 کروڑ 90 لاکھ کی سمری بھیجی جا چکی ہے۔

مزید پڑھیں: حکومت نے شہریوں، ڈاکٹروں کو لاوارث چھوڑ کر ان کی زندگی خطرے میں ڈال دی، بلاول بھٹو

انہوں نے مزید کہا کہ آئندہ سماعت تک سینٹری ورکز کے تمام واجبات ادا کر دیے جائیں گے اور سینیٹری ورکرز کو حفاظتی کٹس بھی فراہم کریں گے۔

حکومت نے کورونا کے بڑھتے ہوئے کیسز کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ 13 مئی سے 3 جون کے درمیان صوبے میں کورونا مریضوں کی تعداد میں 19 ہزار کا اضافہ ہوا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ فیلڈ آئیسولیشن سینٹرز اور ہسپتالوں کی گنجائش بڑھانے کا منصوبہ ہے جبکہ آئی سی یو بیڈز کی گنجائش 203 سے بڑھا کر 226 کردی ہے اور اس وقت بھی 67 آئی سی یو بیڈز خالی ہیں۔

حکومت نے رپورٹ میں دعویٰ کیا کہ روزانہ کی ٹیسٹنگ کی گنجائش بڑھ کر 8 ہزار 650 ہو گئی ہے جبکہ مریضوں کہ دیکھ بھال کے لیے اضافی میڈیکل اسٹاف بھرتی کیا گیا ہے۔

اس حوالے سے رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ مریضوں کے علاج کے لیے 1500 ڈاکٹرز، 2382 نرسز، 500 ہیلتھ ٹیکنیکل عملے کو بھرتی کیا گیا ہے جبکہ ڈاکٹرز اور میڈیکل عملے کے لیے 15 دن کے حفاظتی سامان کا اسٹاک یقینی بنایا گیا اور ڈاکٹرز اور میڈیکل اسٹاف کیلئے ہیلتھ رسک الاؤنس منظور ہو چکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: وزیر اعظم نے غلط نظم شاعر مشرق علامہ اقبال سے منسوب کردی

رپورٹ کے مطابق 13 مئی سے 3 جون تک صوبے میں 16 ہزار 22 مریض کورونا سے صحت یاب ہو چکے ہیں جبکہ 13 مئی سے 3 جون تک سندھ میں کورونا سے 555 اموات ہو چکی ہیں۔

خیبرپختونخوا

صوبہ خیبرپختونخوا کی جانب سے جمع کرائی گئی رپورٹ میں بتایا گیا کہ سرکاری ہسپتالوں میں 446وینٹی لیٹر دستیاب ہیں جبکہ نجی ہسپتالوں میں 237وینٹی لیٹرز موجود ہیں۔

خیبرپختونخوا میں روزانہ 2 ہزار 860 کورونا کے ٹیسٹ کیے جا سکتے ہیں جس میں سرکاری سطح پر روزانہ 1710 اور پرائیویٹ لیب روزانہ 1150 ٹیسٹ کیے جا سکتے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ صوبے میں ٹیسٹ کرنے کی صلاحٰت بڑھائی جا رہی ہیں تاکہ روزانہ 4 ہزار 450 ٹیسٹ کیے جا سکیں گے جبکہ نجی شعبے میں بھی روزانہ 4 ہزار ٹیسٹ کرنے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں۔

مزید پڑھیں؛ بھارت: ایک دن میں 10 ہزار کے قریب کورونا کیسز، مجموعی تعداد اٹلی سے تجاوز کر گئی

خیبر پختونخوا میں 11 ہزار 373 کورونا کے مریض موجود ہیں اور اب تک صوبے میں 500 اموات ہو چکی ہیں۔

صوبے میں قرنطینہ سینٹرز سے 3 ہزار 861 مریض گھروں کو جا چکے ہیں جبکہ 361 سہولتوں میں 22 ہزار 535 مراکز موجود ہیں۔