کورونا وائرس: فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز کیلئے ریلیف پیکج، ٹیکسز میں چھوٹ دینے کا اعلان

اپ ڈیٹ 12 جون 2020

ای میل

معاون خصوصی برائے صحت—فوٹو: اسکرین شاٹ
معاون خصوصی برائے صحت—فوٹو: اسکرین شاٹ

وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کووڈ 19 کے دوران خدمات انجام دینے والے فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز کے لیے ریلیف پیکج کا اعلان کردیا۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس میں کووڈ 19 کی وبا کے دوران فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز (صف اول کے صحت رضاکاروں) کے لیے خصوصی پیکج کا اعلان کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اس پیکج کا تعلق براہ راست ان ہیلتھ ورکرز کے ساتھ ہے جو کورونا وائرس کے مریضوں کی نگرانی پر مامور ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس پیکج کو بنانے کا مقصد یہ بھی تھا کہ کچھ عرصے قبل ہم نے این سی او سی کے پلیٹ فارم سے ملک بھر کے اہم ڈاکٹرز، ہیلتھ پروفیشنلرز کے ساتھ رابطوں کا سلسلہ شروع کیا اور ان کے ساتھ کئی ویڈٰیو کانفرنسز کی گئیں اور ہم نے ان کے تحفظات کو نوٹ کیا۔

ظفر مرزا نے کہا کہ اس کے علاوہ تمام صوبوں کے وزرائے صحت سے انفرادی اور اجتماعی طور پر بات کی گئی، جہاں ان کی طرف سے بہت اچھی تجاویز آئیں اور بہت سے خیالات نظرثانی کی گئی اور ان رابطوں کی روشنی میں اس پیکج کو تشکیل دیا۔

مزید پڑھیں: 'عوام یقینی بنائیں کہ فرنٹ لائن ورکرز کی محنت ضائع نہ ہو'

بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چونکہ اس پیکج کا اعلان قومی سطح پر کیا جارہا ہے اور اس کا اطلاق ہم نے اپنی اپنی ذمہ داریوں کے حوالے سے کرنا ہے جبکہ ظاہر سی بات ہے اس میں کچھ لچک دکھانے کی ضرورت ہے جسے صوبائی سطح پر استعمال بھی کیا جائے گا۔

دوران گفتگو انہوں نے کہا کہ فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز ہمارا ہر اول دستہ ہیں اور ہم مکمل طور پر ان پر منحصر ہیں، ہمارے ہیلتھ ورکرز ہمیں بہت عزیز ہیں، یہ ہمارے ہیروز ہیں اور ہم ان کے انتہائی مشکور ہیں کہ ایک خطرناک حالات میں بھی وہ اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یقیناً کوئی پیکج ان چیزوں کا مداوا نہیں کرسکتی جو یہ ہیلتھ ورکرز کر رہے ہیں۔

معاون خصوصی برائے صحت نے کہا کہ ڈاکٹر اور صحت ورکرز کے لیے یہ ریلیف پیکج 7 گروپس پر مشتمل ہے اور ہر گروپ میں کے مختلف نکات ہیں۔

ساتھ ہی انہوں نے ان 7 گروپس کے بارے میں آگاہ کیا:

  • مالی مراعات
  • فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز کا تحفظ
  • میڈیکل پروفیشنلز کی تربیت
  • سپورٹ میکانزم
  • ڈاکٹرز اور ان کے اہل خانہ کی صحت کا تحفظ
  • صحت کے نجی شعبے کو مراعات کی فراہمی
  • قومی سطح پر ان ہیروز کی یاد

انہوں نے مالی مراعات کے حوالے سے بتایا کہ یہ طے کیا گیا ہے کہ پورے ملک میں فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز کے لیے ہم ٹیکسز کی صورت میں کچھ سہولیات فراہم کریں گے اور انہیں انکم ٹیکس ریٹرنز کی صورت میں کچھ رعایات دی جائیں گی۔

معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ اس کا بنیادی اصول یہ ہے کہ ہمارے فرنٹ لائن ورکرز کو ٹیکسز میں چھوٹ دی جائے۔

بات کو آگے بڑھاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وفاقی سطح پر ہم نے یہ اعلان کیا تھا کہ کووڈ 19 مریضوں کی نگہداشت اور علاج معالجے کے دوران اگر کوئی ہیلتھ ورکر اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے تو اس کے لیے ایک شہدا پیکج کا اعلان کیا گیا تھا اور اس میں جو معاوضہ ادا کیا جائے گا اس کی رقم 30 لاکھ سے ایک کروڑ روپے تک ہے جبکہ مختلف گریڈز کے حوالے سے اس کا تعین کیا جاتا ہے۔

پیکج کے دوسرے گروپ کے بارے میں بتاتے ہوئے معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ ذاتی تحفظ کے سامان (پی پی ایز) یعنی ماسک این 95، گوگلز و دیگر چیزوں کی دستیابی ابتدائی دنوں میں مشکل تھی تاہم ہم نے اس کی متواتر سےدستیابی کو یقینی بنانے کے لیے این ڈی ایم اے کے ساتھ مل کر ایک ایسا نظام ترتیب دیا کہ اب ہفتہ وار ضروریات کے مطابق دستیاب ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ ان سامان کی دستیابی کی کمی نہیں ہے تاہم کچھ جگہ پر انتظامی معاملات اور اس کے غلط استعمال کے معاملات ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: فرنٹ لائن پر کام کرنیوالے طبی عملے کا تحفظ حکومت کی ترجیح ہوگی، وزیراعظم

دوران گفتگو انہوں نے کہا کہ ہیلتھ ورکرز کے تحفظ کے حوالے سے ایک اور اہم عنصر یہ ہے کہ بعض مریضوں کے لواحقین جب یہ محسوس کرتے ہیں کہ ان کے پیاروں کا علاج تسلی بخش نہیں ہورہا تو وہ قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کرتے ہیں، ہنگامہ آرائی کرتے ہیں اور ڈاکٹروں کو زدوکوب کرتے ہیں جبکہ کچھ پرتشدد واقعات بھی سامنے آئے۔

انہوں نے کہا کہ یہ صورتحال اس چیز کی متقاضی ہے کہ ہم ایسے ہسپتال جہاں کورونا وائرس کے مریض ہیں ان کی سیکیورٹی کو فول پروف بنائیں اور وہاں ایسے انتظامات کریں جس کے تحت ایسی کوئی حرکت نہ ہوسکے جو ہمارے ہیلتھ ورکرز کے تحفظ کو غیر یقینی بنا دے، اسی سلسلے میں تمام ہسپتالوں کی سیکیورٹی کو فول پروف بنایا جائے گا۔

ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا تھا کہ ایسا بھی دیکھا گیا کہ اپنی ذاتی وجوہات کی بنیاد پر بعض الیکٹرانک میڈیا پر ڈاکٹرز کی کردار کشی کے واقعات بھی سامنے آئے، جس کو دیکھتے ہوئے اب ہم پیمرا کے ساتھ مل کر ایک ضابطہ اخلاق بنائیں گے تاکہ ہمارے فرنٹ لائن ورکرز کے خلاف میڈیا میں کوئی غلط بات نہ کی جاسکے۔

تیسرے گروپ یعنی تربیت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ اس حوالے سے 2 طرح کی تربیت ہورہی ہیں جس میں ایک چینی یونیورسٹی ہانگ کانگ کے ساتھ مل کر تقریباً 5 ہزار صحت ورکرز کے انتہائی اہم تربیت کے لیے 8 روز کا ایک کورس تربیت دیا جبکہ دوسری طرح کی تربیت پی پی ایز کے صحیح استعمال سے متعلق ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے اسی سلسلے میں 'وی کیئر' کے نام سے ایک پروگرام شروع کیا جس کے ذریعے ہم ایک لاکھ ہیلتھ ورکرز کی تربیت کریں گے۔

چوتھے گروپ کے بارے میں بات کرتے ہوئے معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ وی کیئر پروگرام کا ایک جزو ہے کہ ان ذمہ داریوں کے ادا کرنے کے دوران پیدا ہونے والے نفسیاتی مسائل، اضطراب (انزائٹی) کو دور کرنے کے لیے ایک 'سائیکو سوشو سپورٹ' کا انتظام کیا گیا ہے، اسی کے ساتھ ساتھ اب 1166 ہیلپ لائن میں ہم یہ توسیع کر رہے ہیں کہ ہمارے فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز اپنے ذاتی مسئلے پر مدد کے لیے اس نمبر پر کال کرکے ماہر سے بات کرسکیں گے۔

پیکج کے 5ویں گروپ کے بارے میں معاون خصوصی برائے صحت کا کہنا تھا کہ یہ گروپ ہیلتھ ورکرز کی صحت کی دیکھ بھال سے متعلق ہے اور اس وقت پاکستان میں ہمارے ہیلتھ ورکرز کا 3 فیصد ایسا ہے کہ جسے براہ راست یا بالواسطہ کووڈ 19 کا انفیکشن ہوا اور ان میں سے کچھ جانبر نہ ہوسکے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے ملک کی نسبت دوسرے ممالک میں ہیلتھ ورکرز میں انفیکشن کی شرح بہت زیادہ ہے، ہم نے اس پیکج میں 3 چیزیں شامل کی ہیں، جس کے تحت اگر ہمارے ہیلتھ ورکرز کو کورونا وائرس کے ٹیسٹ کی ضرورت ہوئی تو یہ ترجیحی بنیادوں پر کیے جائیں گے، اس کے علاوہ اگر کسی ورکرز کو کورونا وائرس ہوجاتا ہے اور اس کی حالت خراب ہوتی ہے تو ترجیحی بنیادوں پر وہ ادویات فراہم کی جائیں گی جو مؤثر ہیں جبکہ اگر ہمارے فرنٹ لائن ورکرز کے اہل خانہ متاثر ہوجائیں تو ان کے سرکاری یا نجی ہسپتال میں علاج کی ذمہ داری حکومت لے گی۔

ریلیف پیکج کے چھٹے حصے کے بارے میں بات کرتے ہوئے معاون خصوصی برائے صحت نے بتایا کہ چھٹا گروپ صحت کے نجی شعبے کی مدد سے متعلق ہے اور مجھے بتاتے ہوئے خوشی ہورہی ہے کہ اسٹیٹ بینک پاکستان نے کورونا وائرس سے لڑنے والوں کے لیے ری فنانسنگ سہولت متعارف کروائی ہوئی ہے جس کے تحت وہ نجی ہسپتالوں کے مالکان کا صحت کے نجی شعبے سے وابستہ افراد کو رعایتی بنیادوں پر قرضے فراہم کررہے ہیں اور اس میں زیادہ سے زیادہ شرح سود 3 فیصد ہے۔

انہوں نے کہا کہ بنیادی طور پر نجی ہسپتالوں کو یہ قرضے ان کے اسٹاف کی تنخواہوں کے لیے ادا کیے جارہے ہیں جبکہ اس گروپ میں ایک اور چیز یہ ہے کہ نجی شعبے کے ہسپتال اگر نگہداشت کے حوالے سے کوئی سامان یا مشینری درآمد کرنا چاہیں گے تو ہم ٹیکسز میں رعایت دیں گے اور حتی الامکان ٹیکس فری درآمد کی اجازت دیں گے۔

مزید پڑھیں: پاکستان میں فرنٹ لائن پر لڑتے ہوئے طبی عملے کے 253 افراد کورونا وائرس سے متاثر

ریلیف کے آخری گروپ کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ ہم ایک پروگرام ترتیب دے رہے ہیں کہ ہم اپنے شہدا اور فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز کو ہم اپنے قومی دن پر یاد کریں گے اور کس طرح انہیں قومی سطح پر خراج تحسین پیش کریں گے اس سلسلے میں بھی ایک پروگرام تربیب دیا جارہا ہے۔

معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ کہ یہ 7 گروپس پر مشتمل 15 نکات کا پیکج حکومت کی ایک ادنیٰ سی کوشش ہے کہ فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز کو تسلیم کریں اور ہماری کوشش ہوگی کہ آنے والے دنوں میں اس سے کچھ زیادہ کرسکیں۔

انہوں نے بتایا کہ آئندہ دنوں میں اس سلسلے میں ایک دستاویز جاری کریں گے جس میں ہر نکتے کی تفصیلات واضح کی جائیں گی۔