بجٹ تقریر کے دوران اپوزیشن کا احتجاج

اپ ڈیٹ 13 جون 2020

ای میل

اراکین کے پلے کارڈز پر پی ٹی آئی حکومت کے وعدے درج تھے—تصویر عامر وسیم
اراکین کے پلے کارڈز پر پی ٹی آئی حکومت کے وعدے درج تھے—تصویر عامر وسیم

وزیراعظم عمران خان کی اسمبلی میں موجودگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کرنے والے اپوزشین کے 3 درجن اراکین نے وفاقی وزیر حماد اظہر کی بجٹ تقریر کے دوران احتجاج کیا اور اس کے بعد حکومتی بینچوں کے لیے کوئی خاص مشکلات کھڑی کیے بغیر واک آؤٹ کر گئے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق حکومت مخالف نعروں پر مشتمل پلے کارڈ اٹھائے پاکستان مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) اور متحدہ مجلس عمل (ایم ایم اے) کے اراکین نے ایک گھنٹے تک نعرے بازی کرنے کے بعد حماد اظہر کی تقریر کے دوران اسمبلی ہال سے واک آؤٹ کیا۔

ماضی کے برعکس زیادہ تر اپوزیشن اراکین اپنی نشستوں پر موجود رہے اور حکومتی بینچ کی طرف مارچ کیا نہ وزیر کا گھیراؤ کیا۔

جب کچھ اپوزیشن اراکین نے حکومتی بینچز کی جانب جانے کی کوشش کی تو اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے انہیں خبردار کیا اور اپنی نشستوں پر واپس جانے کا کہا جس پر انہوں نے عمل کیا۔

یہ بھی پڑھیں: اپوزیشن نے بجٹ ’عوام دشمن‘ قرار دے کر مسترد کردیا

ایک موقع پر مشتعل دکھنے والے اسپیکر نے اپوزیشن اراکین کو ’نامناسب نعرے‘ نہ لگانے کی ہدایت کی جو پارلیمنٹ اور مقننہ کی توہین کا سب بن سکتے ہیں۔

تاہم اپوزیشن اراکین نے حکومت کی سرکاری ٹیلیویژن پی ٹی وی پر احتجاج نہ نشر کرنے حکمت عملی کو کامیابی سے ناکام بنا دیا جس کے پاس پارلیمانی کارروائی براہِ راست دکھانے کے خصوصی اختیارات ہیں کیونکہ اراکین رپورٹرز کو اپنے احتجاج کی ویڈیو کلپس ارسال کرتے رہے جسے زیادہ تر ٹی وی چینلز بجٹ تقریر کے ساتھ علیحدہ ونڈو پر نشر کرتے رہے۔

قومی اسبملی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کی غیر موجودگی میں مسلم لیگ (ن) کے خواجہ آصف نے اپنی پارٹی کی سربراہی کی اور بلاول بھٹو جنہوں نے اسلام آباد میں موجود ہونے کے باوجود اجلاس میں شرکت نہیں کی ان کی جگہ راجا پرویز اشرف نے اپنی جماعت کی رہنمائی کی۔

شہباز شریف کے علاوہ جو اہم اراکین کووِڈ19 کا شکار ہونے کی وجہ سے اجلاس میں شرکت نہ کرسکے ان میں شاہد خاقان عباسی، ایاز صادق، احسن اقبال اور مریم اورنگزیب شامل ہیں۔

مزید پڑھیں: بجٹ سے متعلق تجزیہ کاروں کا ملا جلا رد عمل

احتجاج کے دوران اپوزیشن اراکین نے ’چینی چور، آٹا چور، پیٹرول چور، اسٹیل مل کی نجکاری نہیں کرو اور دھاندلی زدہ حکومت نا منظور‘ جیسے نعرے لگائے۔

اس موقع پر کچھ اراکین نے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جس میں پاکستانی تحریک انصاف کے ایک کروڑ نوکریاں 50 لاکھ گھروں کی تعمیر جیسے وعدے لکھے ہوئے تھے۔

حالانہ کہ پی ایم ایل این اور پیپلز پارٹی نے بجٹ تقریر کے دوران اسمبلی میں احتجاج کیا لیکن دونوں جماعتیں پہلے ہی 30 جون تک بجٹ منظور ہوجانے تک اجلاس میں کورم کی نشاندہی نہ کرنے اور کٹ موشن پر ووٹنگ کا مطالبہ نہ کرنے پر رضامند ہو کر پی ٹی آئی حکومت کو راستہ فراہم کرچکی ہیں۔

پارلیمانی رہنماؤں کے اسپیکر اسمبلی کے ساتھ ہونے والے ایک اجلاس میں اپوزیشن جماعتوں نے اس بات پر بھی اتفاق کیا تھا کہ کورونا وائرس کے پیشِ نظر سماجی فاصلہ اختیار کرنے کے لیے ایوان میں اراکین کی ایک چوتھائی تعداد یعنی 86 اراکین اجلاس میں شرکت کریں گے جس میں 46 حکومتی اور 40 اپوزیشن اراکین ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں: کورونا کے بعد معیشت کے آغاز کیلئے بجٹ میں کچھ نہیں، تاجر رہنما

تاہم جمعیت علمائے اسلام (ف) اور اپوزیشن کی دیگر چھوٹی جماعتوں نے اس سمجھوتے کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے تمام اراکین بجٹ اجلاس میں شرکت کریں گے۔