اسرائیل: اقوام متحدہ کی گاڑی میں 'جنسی تعلق' کی ویڈیو وائرل ہونے پر تحقیقات کا آغاز

اپ ڈیٹ 28 جون 2020

ای میل

انہوں نے کہا کہ 18 سیکنڈز پر مشتمل ویڈیو میں دیکھا جانے والا منظر انتہائی ناگوار ہے—فائل فوٹو
انہوں نے کہا کہ 18 سیکنڈز پر مشتمل ویڈیو میں دیکھا جانے والا منظر انتہائی ناگوار ہے—فائل فوٹو

اسرائیل میں اقوام متحدہ کی گاڑی میں 'جنسی تعلق' کی فوٹیج وائرل ہونے پر تشویش کی لہر دوڑ گئی۔

بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے اسرائیل کے مرکزی شہر تل ابیب کی مرکزی سڑک پر اقوام متحدہ کے مخصوص نشان والی گاڑی کی پچھلی نشست پر لال رنگ کے کپڑوں میں ملبوس خاتون ایک شخص کے ساتھ 'جنسی تعلق' میں ہے۔

مزیدپڑھیں: پناہ گزین بچوں کو جنسی تعلقات کے بدلے خوراک کی فراہمی کا انکشاف

اقوام متحدہ کے حکام نے کہا کہ وہ فوٹیج سے 'حیران اور شدید پریشان' ہیں۔

انوہں نے کہا کہ وہ واقعے کی تحقیقات کررہے اور ویڈیو میں نظر آنے والے افراد کی شناخت کریں گے۔

اقوام متحدہ کے مطابق ویڈیو میں نظر آنے والے افراد اسرائیل میں امن مشن آرگنائزیشن کے عملے کے رکن لگتے ہیں۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کے ترجمان اسٹیفن ڈوجرک نے کہا کہ 18 سیکنڈز پر مشتمل ویڈیو میں دیکھا جانے والا منظر 'انتہائی ناگوار' ہے۔

یہ بھی پڑھیں: شام: امدادی سامان کے بدلے خواتین کے جنسی استحصال کا انکشاف

انہوں نے کہا کہ اس طرح کا رویہ 'اس ہر چیز کے خلاف ہے جس کے لیے ہم کھڑے ہیں'۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا یہ جنسی فعل متفقہ ہے یا اس میں ادائیگی شامل ہے؟ اس پر اسٹیفن ڈوجرک نے کہا کہ ان سوالات کے جواب تفتیش کے بعد ہی دیے جا سکیں گے۔

واضح رہے کہ گزشتہ چند برس میں اقوام متحدہ کے امن مشن میں شامل فوجیوں اور دیگر عملے پر جنسی نوعیت کے الزامات لگتے رہے ہیں۔

اس ضمن میں سیکریٹری جنرل نے اقوام متحدہ کی صفوں میں جنسی بد سلوکی کے سلسلے میں 'صفر رواداری' کی پالیسی اپنانے کا وعدہ کیا ہے۔

ویڈیو کے بارے میں اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفن ڈوجرک نے کہا کہ ہم اس ویڈیو پر نظر آنے والے مناظر سے حیران اور سخت پریشان ہیں۔

مزید پڑھیں: ’اقوام متحدہ بس اچھا وقت گزارنے والوں کا کلب ہے‘

انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے دفتر برائے داخلی نگرانی کی سربراہی میں ہونے والی تحقیقات 'بہت تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے'۔

اسٹیفن ڈوجرک کا کہنا تھا کہ واقعے کا مقام معلوم تھا اور ویڈیو میں دیکھے گئے افراد کی شناخت 'مکمل ہونے کے قریب' ہے۔

ویڈیو میں نظر آنے والی عمارتوں کی بنیاد پر ایسا لگتا ہے کہ فوٹیج ہیارکون اسٹریٹ پر لی گئی جو عام طور پر مصروف علاقہ ہے۔

ترجمان اقوام متحدہ نے کہا کہ 'ہم توقع کرتے ہیں کہ یہ تحقیقات بہت جلد ختم ہوجائے گی اور فوری طور پر مناسب کارروائی کی جائے گی'۔

خیال رہے کہ 2019 میں اقوام متحدہ کے اسٹاف پر جنسی استحصال اور بدسلوکی پر مبنی کل 175 الزامات لگے تھے۔ ان الزامات میں سے 16 کو ناقابل ضمانت قرار دیا گیا جبکہ 15 ناقابل سماعت تھے اور دیگر کے بارے میں ابھی تفتیش جاری ہے۔