نگار جوہر پاک فوج کی پہلی خاتون لیفٹیننٹ جنرل

اپ ڈیٹ 30 جون, 2020

ای میل

لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی پانے والی نگار جوہر—فائل فوٹو—آئی ایس پی آر
لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی پانے والی نگار جوہر—فائل فوٹو—آئی ایس پی آر

پاک فوج میں نئی تاریخ رقم کرتے ہوئے ایک خاتون افسر کو پہلی مرتبہ لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی دے دی گئی۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری ایک بیان کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے پاک فوج کی میڈیکل کور سے وابستہ میجر جنرل نگار جوہر کو لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی دی۔

آئی ایس پی آر کے مطابق نگار جوہر لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی پانے والی پہلی خاتون افسر ہیں، ساتھ ہی یہ بھی بتایا گیا کہ لیفٹیننٹ جنرل نگار جوہر کو سرجن جنرل آف پاکستان آرمی تعینات کیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: پاک فوج کے 4 میجر جنرلز کی لیفٹیننٹ جنرل کے رینک پر ترقی

اس طرح وہ پاک فوج کی تاریخ کی پہلی تھری اسٹار افسر ہونے کے ساتھ ساتھ سرجن جنرل کے عہدے پر کام کرنے والی پہلی خاتون افسر بھی بن گئیں۔

آئی ایس پی آر نے بتایا کہ لیفٹیننٹ جنرل نگار جوہر کا تعلق خیبرپختونخوا کے ضلع صوابی کے علاقے پنج پیر سے ہے اور وہ اس وقت کمانڈنٹ ملٹری ہسپتال راولپنڈی میں خدمات انجام دے رہی ہیں۔

لیفٹننٹ جنرل نگار جوہر کے کیریئر پر ایک نظر

لیفٹٹنٹ جنرل نگار جوہر آرمی میڈیکل کالج کی گریجویٹ ہیں اور پاک فوج میں تقریباً 3 دہائیوں پر مشتمل کیریئر میں انتظامی اور مختلف امور میں سربراہی کا وسیع تجربہ رکھتی ہیں۔

انہوں نے فیملی میڈیسن میں ایم سی پی ایس، ایڈوانسڈ میڈیکل ایڈمنسٹریشن میں ایم ایس سی اور صحت عامہ میں ماسٹرز کررکھا ہے۔

لیفٹننٹ جنرل نگار جوہر نے کئی دیگر کورسز بھی کیے اور ہسپتالوں میں ہنگامی بنیادوں پر تیاریوں سے متعلق امور کی نیشنل انسٹرکٹر بھی ہیں۔

انہیں پاک آرمی میں لیفٹننٹ جنرل کے رینک تک پہنچنے والی پاکستان کی پہلی خاتون ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہوا ہے۔

آرمی میڈیکل کور کے لیے نمایاں خدمات انجام دینے پر انہیں وزیراعظم پاکستان کی جانب سے تمغہ امتیاز ملیٹری اور فاطمہ جناح گولڈ میڈل سے بھی نوازا گیا۔

انہیں پاک فوج میں کئی عہدوں پر پاکستان کی پہلی خاتون کے طور پر کام کرنے کا اعزاز حاصل ہوا ہے جن میں پاک آرمی میں آزادی کے بعد یونٹ، ہسپتال کی کمانڈنگ بھی شامل ہے۔

لیفٹننٹ جنرل نگار جوہر نے بریگیڈیئر کی حیثیت سے سی ایم ایچ جہلم کی کمان سنبھالی تھی اور اب مسلح افواج کے سب سے بڑے ہسپتال ایمریٹس ملیٹری ہسپتال راولپنڈی کی کمانڈنگ کر رہی ہیں۔

یاد رہے کہ اس سے قبل فروری 2020 میں پاک فوج کے میڈیکل کور کے 11 افسران سمیت 36 برگیڈیئرز کو میجر جنرل کے عہدے پر ترقی دی گئی تھی۔

اس سے قبل 12 ستمبر 2019 کو بھی پاک فوج میں 5 لیفٹیننٹ جنرل کو مختلف عہدوں پر ترقی دی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: پاک فوج کے 36 بریگیڈیئرز کی میجر جنرل کے عہدے پر ترقی

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے جاری بیان میں بتایا گیا تھا کہ جن 5 لیفٹیننٹ جنرل کی مختلف عہدوں پر تقرریاں کی گئی، ان میں لیفٹیننٹ جنرل وسیم اشرف، لیفٹیننٹ جنرل اظہر عباس، لیفٹیننٹ جنرل خالد ضیا، لیفٹیننٹ جنرل محمد چراغ حیدر اور لیفٹیننٹ جنرل بلال اکبر شامل ہیں۔

اس سے ایک روز قبل 11 ستمبر کو پاک فوج کے 4 جنرل افسران کو میجر جنرل سے ترقی دے کر لیفٹیننٹ جنرل بنا دیا گیا تھا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق ترقی پانے والے افسران میں میجر جنرل محمد عامر، میجر جنرل محمد چراغ حیدر، میجر جنرل ندیم احمد انجم اور میجر جنرل خالد ضیا شامل تھے۔