ایف آئی اے نے ججز کو دھمکانے والی ویڈیو کے معاملے پر رپورٹ جمع کروادی

اپ ڈیٹ 02 جولائ 2020

ای میل

ملزمان کی جانب سے ویڈیو اپ لوڈ کرنے کے لیے استعمال کیا گیا آئی پی ایڈریس ٹریس کرلیا گیا ہے—فائل فوٹو: ڈان
ملزمان کی جانب سے ویڈیو اپ لوڈ کرنے کے لیے استعمال کیا گیا آئی پی ایڈریس ٹریس کرلیا گیا ہے—فائل فوٹو: ڈان

اسلام آباد: وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے ایک ویڈیو میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سمیت دیگر ججز کو دھمکیاں دینے اور توہین آمیز گفتگو کرنے والے شخص کے حوالے سے عبوری رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کروادی۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے عالم مرزا افتخارالدین نے کسی کے اکسانے یا ہدایت پر یہ تقریر کرنے کی تردید کی ہے۔

چیف جسٹس پاکستان گلزار احمد اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل 2 رکنی بینچ مذکورہ ویڈیو پر لیے گئے از خود نوٹس کی سماعت آج کرے گا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق مرزا افتخار الدین نے 14 جون کو اپنے درجن بھر مقلدین کے سامنے دیے گئے اپنے بیان کا اعتراف کیا۔

ایف آئی اے کے ڈائریکٹر (قانون) ملک طارق محمود کے ذریعے جمع کروائی گئی رپورٹ میں تحقیقاتی ادارے کا کہنا تھا کہ افتخارالدین مرزا یوٹیوب اور فیس بک سے وہ ویڈیو ڈیلیٹ کرچکے ہیں ساتھ ہی بتایا گیا کہ ایف آئی اے نے افتخارالدین اور ان کے ساتھی کو 6 جولائی تک جسمانی ریمانڈ پر تحویل میں لیا ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ججز کو دھمکیاں دینے والا شخص 7 روزہ جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے

رپورٹ میں واضح کیا گیا کہ ملزمان کی جانب سے ویڈیو اپ لوڈ کرنے کے لیے استعمال کیا گیا آئی پی ایڈریس ٹریس کرلیا گیا ہے اور آئی پی کے ذریعے انٹرنیٹ سبسکرائبر کی تفصیلات حاصل کرنے کے لیے متعقلہ آئی ایس پیز سے رابطہ کیا گیا ہے۔

ایف آئی اے کے مطابق کریکٹر ڈیٹیکشن اینڈ ری کگنیشن اور دونوں مشتبہ افراد کے زیر استعمال سمز کی تفصیلات حاصل کر نے کے لیے متعلقہ آپریٹرز سے رابطہ کیا گیا ہے تاکہ ان کے ممکنہ گٹھ جوڑ اور شریک ملزمان تک پہنچا جاسکے۔

ساتھ ہی رپورٹ میں کہا گیا کہ ایف آئی آر کی بنیاد پر تحقیقات کی ذمہ داری مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کو دی گئی ہے جس میں سی سی آر سی کے اسسٹٹ ڈائریکٹرز خرم سعید رانا، محمد عظمت خان، عدنان خان اور انسداد دہشت گردی ونگ کے انسپکٹر راجا واجد حسین شامل ہیں۔

تفتیش کے دوران 2 مشتبہ افراد مرزا اور اکبر کو گرفتار کیا گیا جن سے ایک آئی فون، ایک سام سنگ موبائل، ایک کیو موبائل، ایک مووی کیمرا، ایک لیپ ٹاپ برآمد ہوا جسے فرانزک تجزیے کے لیے بھجوادیا گیا۔

مزید پڑھیں: عدلیہ کیخلاف ویڈیو از خود نوٹس کیس: ایف آئی اے کے سربراہ سپریم کورٹ طلب

رپورٹ میں کہا گیا کہ دونوں مشتبہ افراد کو ویڈیو دکھائی گی اور تفصیل سے تفتیش کی گئی۔

ایف آئی اے کے مطابق عالم نے راولپنڈی کے علاقے مورگاہ کی امام بارگارہ قصرِ عباس سے منسلک ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور انہوں نے ویڈیو لیکچر کے مواد کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی تعلیمات کی تبلیغ ان کی ذمہ داری ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ اس کے ساتھ وہ اپنے گھر سے ہی 2017 سے اقرا چینل نامی ایک ویب ٹی وی بھی چلارہے ہیں اور ان کے ساتھی اکبر یہ لیکچرز ریکارڈ کر کے یوٹیوب اور فیس بک وغیرہ پر اپلوڈ کرتے ہیں۔

ایف آئی نے مزید کہا کہ افتخارالدین مرزا نے اس بات کا اعتراف کیا کہ 14 جون کو نماز مغربین کے بعد انہوں نے علاقے کے 6-7 نمازیوں سے خطاب کیا تھا جہاں ان کے معاونین اکبر اور رسول شاہ بھی موجود تھے۔

رپورٹ کے مطابق اکبر نے تقریر ریکارڈ کر کے اسے ایڈٹ کیا اور ان کی مرضی کے بغیر یوٹیوب چینل اورفیس بک پر اپلوڈ کردیا۔

یہ بھی پڑھیں: چیف جسٹس نے عدلیہ، ججز مخالف ویڈیو کلپ پر از خود نوٹس لے لیا

افتخارالدین مرزا نے دعویٰ کیا کہ جب انہیں ویڈیو اپلوڈ کیے جانے سے متعلق پتا چلا تو انہوں نے اکبر سے ڈیلیٹ کرنے کو کہا جبکہ اکبر نے دعویٰ کیا کہ پیچ پر جب ایک فالوور نے بتایا کہ یہ باتیں توہین عدالت کے زمرے میں آتی ہیں تو انہوں نے خوفزدہ ہو کر ویڈیو ڈیلیٹ کردی تھی۔

خیال رہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ نے اہل خانہ کو قتل کی دھمکیوں کے خلاف ایف آئی آر درج کروانے کے لیے پولیس کو درخواست دی تھی جس میں مذکورہ ویڈیو کلپ کا ذکر تھا بعدازاں چیف جسٹس پاکستان نے اس معاملہ پر از خود نوٹس لے لیا تھا۔

چنانچہ 26 جون کو سپریم کورٹ میں از خود نوٹس کی سماعت میں عدالت نے ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے واجد ضیا اور آغا افتخار مرزا کو طلب کیا تھا اور اٹارنی جنرل نے بتایا تھا کہ ایف آئی اے نے الیکٹرانک کرائم ایکٹ کے تحت کارروائی شروع کردی ہے۔

سماعت میں جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیے تھے کہ ویڈیو میں ملک کے ادارے کو دھمکی دی گئی، اس ادارے کے جج کا نام تضحیک آمیز انداز سے لیا گیا تو ریاستی مشینری نے ایکشن تاخیر سے کیوں لیا؟

مزید پڑھیں: جسٹس عیسیٰ کی اہلیہ کی اہلخانہ کو قتل کی دھمکیوں کے خلاف شکایت

اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا تھا کہ ایسا کوئی میکانزم نہیں کہ ہر سوشل میڈیا کی چیز کو مانیٹر کیا جاسکے، سوشل میڈیا اس قسم کے مواد سے بھرا پڑا ہے۔

گزشتہ سماعت میں چیف جسٹس نے ریمارکس دیے تھے کہ ایف آئی اے کو کچھ کرنا نہیں آتا اور وہ کچھ نہیں کر رہی، ایف آئی اے کے پاس ججز کے دیگر معاملات بھی ہیں لیکن ایف آئی اے نے کسی معاملے پر نتائج نہیں دیے۔

بعدازاں 30 جون کو انسداد دہشت گردی عدالت نے راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے آغا افتخار الدین مرزا کو 7 روز کے جسمانی ریمانڈ پر وفاقی تحقیقاتی ادارے کے حوالے کردیا تھا۔

دوسری جانب افتخار الدین مرزا کی جانب سے سپریم کورٹ میں ایک بیان حلفی بھی جمع کروایا گیا تھا جس میں غیر مشروط معافی مانگتے ہوئے دعویٰ کیا گیا کہ ایک ’نجی تقریب‘ میں انہوں نے ’غیر دانستہ‘ طور پر معزز ججز کے خلاف کچھ الفاظ ادا کیے۔

ساتھ ہی ان کا یہ بھی دعویٰ تھا کہ ویڈیو ان کی مرضی کے بغیر ریکارڈ کر کے سوشل میڈیا پر وائرل کی گئی۔